Daily Mashriq


نقیب اللہ قتل کیس کے مرکزی ملزم راو انوار کو رہاکردیاگیا

نقیب اللہ قتل کیس کے مرکزی ملزم راو انوار کو رہاکردیاگیا

ویب ڈیسک:نقیب اللہ قتل کیس کے مرکزی ملزم سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کی رہائی کا پروانہ جاری کردیا گیا۔

کراچی میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے دو مقدمات میں راؤ نوار کے ریلیز آرڈر جاری کئے تھے جس پر عمل درآمد کرتے ہوئے انہیں رہا کردیا گیا۔

نقیب اللہ قتل کیس میں نامزد مرکزی ملزم معطل ایس ایس پی راؤ انوار کی جعلی پولیس مقابلے، دھماکا خیز مواد رکھنے اور غیر قانونی اسلحہ کیس میں ضمانت ہوچکی ہے۔

دو نوں مقدمات میں نامزد ملزم سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کو رہا کر دیا گیا ہے۔ راؤ انوار کے گھر کو سب جیل بنانے کا نوٹیفکیشن منسوخ کر کے ان کے گھر کے باہر سے جیل سیکیورٹی ہٹا دی گئی ہے۔

اس سے قبل کراچی میں انسدادِ دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے رہائی کے آرڈرز پر دستخط کیے، سینٹرل جیل کے سپرنٹنڈنٹ نے ملیر سب جیل کے انچارج کو خط لکھ کر راؤ انوار کو رہا کرنے کا حکم نامہ جاری کیا۔

واضح رہے کہ عدالت نے گزشتہ روز دوسرے مقدمے میں بھی راؤ انوار کی ضمانت منظور کی تھی۔ راؤ انوار کی ایک مقدمے میں 10 جولائی اور دوسرے مقدمے میں 20 جولائی کو ضمانت منظور ہوئی تھی۔ دونوں مقدمات میں عدالت نے 10، 10 لاکھ کی ضمانت منظور کی ہے۔

یاد رہے13 جنوری 2018 کو کراچی کے ضلع ملیر میں اس وقت کے ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کی جانب سے ایک مبینہ پولیس مقابلے میں 4 دہشتگردوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا تھا تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ ہلاک کئے گئے لوگ دہشتگرد نہیں بلکہ مختلف علاقوں سے اٹھائے گئے بے گناہ شہری تھے جنہیں ماورائے عدالت قتل کردیا گیا۔ جعلی پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والے ایک نوجوان کی شناخت نقیب اللہ کے نام سے ہوئی۔

سوشل میڈیا صارفین اور سول سوسائٹی کے احتجاج کے بعد سپریم کورٹ نے واقعے کا از خود نوٹس لیا تھا۔ از خود نوٹس کے بعد راؤ انوار روپوش ہوگئے اور اسلام آباد ایئر پورٹ سے دبئی فرار ہونے کی بھی کوشش کی لیکن اسے ناکام بنادیا گیا۔ کچھ عرصے بعد وہ سپریم کورٹ میں پیش ہوئے جہاں سے انہیں گرفتار کرلیا گیا۔

متعلقہ خبریں