Daily Mashriq

سخت قانون بنانے اور سختی سے نفاذ کی ضرورت

سخت قانون بنانے اور سختی سے نفاذ کی ضرورت

خیبر پختونخوا حکومت کا صوبے میں بچوں کیساتھ زیادتی کے واقعات میں اضافہ کی روک تھام کیلئے موثر قانون سازی اور آگاہی مہم چلانے کیساتھ ساتھ زیادتی میں ملوث افراد کو سزائے موت دینے سے متعلق قانونی مسودہ کی تیاری کا فیصلہ قابل صد تحسین امر ہے جس پر جتنا جلد کام ہوگا اتنا ہی بہتر اور وقت کی ضرورت کے تقاضوں کو پورا قرار پائے گا۔اس ضمن میں آگاہی مہم کیلئے منتخب عوامی نمائندوں کے علاوہ سول سوسائٹی، انتظامیہ ، علماء ، والدین، میڈیا اور دیگر مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کی خدمات کا حصول بھی مناسب فیصلہ ہے۔وزیرقانون سلطان محمد نے اسمبلی میں اس ضمن جن جذبات کا اظہار کیا ہے وہ صورتحال کی سنگین اور ٹھوس اقدامات کی ضرورت کا ادراک ہے۔ ان کا یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ بچوں کیساتھ جنسی زیادتی زیادہ گھمبیرمسئلہ ہے اس میں ملوث لوگ درندے کہلانے کے مستحق ہیں بچوں کے جنسی تشدد کے خلاف قانون سازی پرکام ہورہاہے اس قانون کو اتنا سخت بنایاجائے کہ ملوث افراد کو کم سے کم سزائے موت کی سزاہوسکے۔معاشرے کی بے راہروی اور آئے روز درندگی کے سامنے آنے والے واقعات کا واحد حل یہی نظر آتا ہے کہ دنیا کے بعض ممالک کی طرح اس قسم کے جرائم میں ملوث افرادکو سرعام چوراہے پر لٹکا دیا جائے جہاں اس قسم کی سزائیں مقرر ہیں اور ان پر عملدرآمد ہوتا ہے وہاں جرائم کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے اور اس کے باوجود اگر کوئی جرم کا ارتکاب کرتا ہے تو اسے اس کے کئے کی پوری سزا مل جاتی ہے ہمارے ہاں بد قسمتی سے اس قسم کے درندوں کو سرپرست مل جاتے ہیںان پر جرم ثابت کرنے کا عمل پیچیدہ اور متاثرین کیلئے مزید باعث تحقیر واہانت ہوتا ہے اگر قانون ان کی سوفیصد مدد بھی کرے مجرم کو سزا بھی ملے تب بھی وہ اسے اپنی ہار سمجھتے ہیں اور ایسا کرنے میں وہ حق بجانب بھی ہیں اس ساری صورتحال میں اس نوعیت کے جرم کی اگر مکمل روک تھام ممکن نہیں تو پھر سزائے موت سے کم کوئی سزا مظلوم فریق کے دکھوں کا مداوا نہیں۔توقع کی جانی چاہیئے کہ سخت سے سخت سزا اور قانون شہادت میں ایسی ترمیم جس کا مجروں کو نہیں متاثرہ فریق کو فائدہ ہو اور استغاثہ کو کیس ثابت کرنے میں آسانی ہو بنانا چاہیئے اور پھر اس پر عملدرآمد اس طرح یقینی بنایا جائے کہ شک اور بچنے دونوں کی گنجائش باقی نہ رہے۔

پروگرام احسن مگر کامیاب کیونکر ہو سکتا ہے

محکمہ صحت نے سرکاری ہسپتالوں میں او پی ڈی اور وارڈز میں داخل ہونیوالے مریضو ں کا طبی ریکارڈ الیکٹرانک نظام پر منتقل کرنے کے منصوبے پر غور شروع کردیا ہے پہلے مرحلہ میں صوبے کے کسی ایک ہسپتال سے آغازکرنے کی تجویز ہے یو ایس ایڈ کی جانب سے متوقع اور مجوزہ منصوبے پر عملدرآمد سے مریض کی تشخیص، ٹیسٹ اور ایکسریز کے علاوہ بیماریوں اور اس کے علاج سے متعلق الیکٹرانک ریکارڈ مرتب ہوگا پچاس روپے کے عوض تجویز کردہ کارڈ میں مریض کو تجویز کی جانیوالی ادویات کا بھی ریکارڈ محفوظ کردیا جائیگا نتیجتاً مریض کی ہسپتال میں تشخیص اور علاج سے متعلق تما م معلومات ایک کلک پر ڈاکٹرز کو دستیاب ہونگی ابتدائی طور پر صوبے کے کسی ایک ہسپتال سے اس منصوبے کی ابتداء کا پروگرام ہے۔مریضوں کا ریکارڈ اور استعمال شدہ ادویات کی معلومات سے متعلقہ ڈاکٹر ی آگاہی وقت کی بچت کے ساتھ ساتھ مریض اور ڈاکٹردونوں کی سہولت کا باعث ہوگا اس احسن منصوبے کے حوالے سے اگرکوئی منفی بات ذہن میں آتی ہے تو وہ یہ کہ اس قسم کا نظام بنانے کے بعد اسے بطور احسن چلا پائیں گے اور متعلقہ ریکارڈ کی حفاظت کی جا سکے گی اور راز داری کو ملحوظ خاطر رکھنا ممکن ہوگا۔یو ایس ایڈ کے اس پراجیکٹ کے کامیاب خاتمے کے بعد اس متعارف نظام کو جاری رکھنے کیلئے مئوثر منصوبہ بندی اور نظام کی ضرورت ہوگی جس پر ابھی سے توجہ دی جانی چاہیئے۔اور اسے صوبہ بھر میں متعارف کرانے کے بعد کامیاب بنانے کی منصوبہ بندی بھی ضروری امر ہوگا۔

عدم برداشت کا نامناسب رویہ

مسلم لیگ(ن) کی رہنما مریم نواز کی عدالت پیشی کے موقع پر اظہاریکجہتی کیلئے جمع ہونے اور اسلام آباد کا رخ کرنے والے کارکنوں کو روکنے کا اقدام شہری آزادی کوسلب کرنے کے زمرے میں آتاہے قانون اور انتظامیہ کو اس وقت ہی حرکت میں آنا چاہیئے جب خلاف قانون کوئی حرکت سرزد ہو دفعہ144 بھی بوقت ضرورت نافذ کرنا ہی قانون کی پاسداری ہے کسی بھی قانون اور اختیار کا غلط استعمال نہیں ہونا چاہیئے اسی طرح شہری آزادی کے نام پرسڑکوں کی خواہ مخوا بندش کا رویہ بھی مناسب نہیں ذمہ دارانہ رویہ اور ذمہ دارانہ طرز عمل اختیار کرنے سے تضادات کی نوبت نہیں آئے گی عدم برداشت اور طاقت کے استعمال کی بجائے قانون کی پاسداری کارویہ اختیار کیا جائے تو احسن ہوگا۔

متعلقہ خبریں