Daily Mashriq

افغان پراکسی جنگ میں بھارت کی شکست؟

افغان پراکسی جنگ میں بھارت کی شکست؟

مجھے یاد پڑتا ہے کہ نائن الیون کے بعد امریکہ دندناتا ہوا افغانستان میں داخل ہوا تو امریکہ کے اخباروں میں پاکستان کے خلاف ایک طوفان بدتمیزی برپا تھا ۔بڑے امریکی اخبارات میں ہر دوسرے روز زہریلی خواہشات اور مطالبات پر مبنی ایک مضمون شائع ہوتا جس میں دنیا کے ہر فساد کی جڑ پاکستان کوقراردیا جاتا ۔پاکستان کی مشترکہ مخالفت میں امریکہ اور بھارت کا معاشقہ گرم جوشی کی جانب مائل تھا اور یاہو مسینجر کے انڈین روم میں اکثر انڈیاکے صاحب الرائے افراد سے بحث چھڑ جاتی جو اکثر اوقات تلخی پر ہی منتج ہوجاتی ۔بھارت میں یہ عمومی سوچ پائی جا رہی تھی کہ امریکہ نے پاکستان کو دہشت گرد سمجھ کر بھارت سے دوستی کا پکا فیصلہ کر لیا ہے اور یہ دوستی پاکستان کا قیمہ بنا کر چھوڑے گی۔ہم اکثر انہیں یہ نکتہ سمجھانے کی ناکام کوشش کرتے کہ بھارت کو امریکہ کا نیا’’ پاکستان‘‘ بن کر اپنا کندھا پیش کرنے کی بجائے علاقائی تناظر میں باہمی تنازعات کو حل کرنا چاہئے اور بھارت کو پاکستان سے سبق سیکھ کر امریکہ کے ساتھ تعلقات استوار کرنا چاہئے ۔بھارتی اس پر سیخ پا ہوجاتے اور جواب میں القاعدہ ،طالبان اور لشکرطیبہ کا منترا پڑھ کر بات ختم کر دیتے۔آج جب بیجنگ میں افغان عمل کے لئے ہونے والی امریکہ ،چین ،روس اور پاکستان پر مشتمل چار فریقی کانفرنس منعقدہوئی تو بھارت کے صاحب الرائے افراد نے اسے افغان امن عمل سے بھارت کو الگ کرنے کی موثر کوشش قراردیا ۔ صاف نظر آرہا ہے افغان مسئلہ امریکہ کے پیروں کی زنجیرہے اور اس کے لئے اس زنجیر کو توڑنا اہم ہے ناکہ بھارت کی خوشنودی اور انا ۔ امریکہ نے یہ راز پالیا ہے کہ وہ افغان مسئلے میں جس بھارت کو حل سمجھتا رہا وہ مسئلہ تھا اور جس پاکستان کو سترہ سال مسئلہ سمجھتا تھا وہی حل ہے۔بھارتیوں کو یہ احساس ہی نہیں رہا کہ جس دن امریکہ کو پاکستان کی ضرورت ہوگی وہ بھارت کو خاطر میں لائے بغیر ربط وتعلق کے دھاگے کو وہیں سے گانٹھ لے گا جہاں سے بھارت کی محبت اور عشق میں اسے توڑ دیا گیا تھا۔بیجنگ میں افغان مسئلے کے حل کے لئے چار ملکوں کی کانفرنس کو بھارت میں ایک ایسے انداز سے دیکھا گیا ہے جس کا لب لباب یہ ہے کہ بڑی طاقتوں نے بھارت کو افغان امن عمل سے الگ کر دیا ہے اور یوں بھارت نے افغانستان میں اپنی بالادستی اور پاکستان کو محدود سے محدو د تر رکھنے کے لئے جاری برسوں کی جنگ میں شکست قبول کر لی ہے۔ ’’انڈین پنچ لائن‘‘ ویب سائٹ میں ایم کے بہادرا کمارمیں ’’انڈیا لوزز افغان پراکسی وار‘‘کے عنوان سے ایک چونکا دینے والا مضمون لکھا ہے۔بعد میں اسی نفس مضمون پر مشتمل ایک اور مضمون ٹائمز آف انڈیا میں شائع ہوا ہے ۔مسٹر کمار لکھتے ہیں کہ بیجنگ کانفرنس افغان امن عمل کے حوالے سے ایک ڈرامائی پیش رفت ہے۔جس سے یہ صاف لگ رہا ہے کہ پاکستان نے افغانستان میں ایک عشرے سے زیادہ عرصے سے جار ی پراکسی جنگ میں بھارت کو شکست دے دی ہے۔چاروں ملکوں کے نمائندوں نے مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا ہے جس میں افغانستان میں قیام امن کی ضرورت پر اتفاق کرتے ہوئے اس عمل کی رفتار تیز کرنے پر اتفاق کیا ہے۔مسٹر کمار کی نظر میں اس کانفرنس کے اہمیت کی کئی وجوہات ہیں ۔اول : امریکہ ،روس اور چین یعنی بڑے کھلاڑیوں کی تکون میں پاکستان کو اس یقین کے ساتھ شامل کیا گیا ہے کہ پاکستان اس عمل کو منطقی انجام تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔دوئم : چاروں ملکوں نے دوحہ اور ماسکو میں ہونے والے انٹر ا افغان مذاکرات کو تسلیم کرتے ہوئے افغان حکومت ،طالبان اور دیگر تمام فریقوں کے درمیان مذاکرات شروع کرانے پر اتفاق کیا ہے ۔سوئم: چاروں ملکوں نے افغانستان میں طاقت کا خلاء پر کرنے کے لئے تمام فریقوں کے لئے قابل قبول سسٹم کے قیام پر اتفاق کیا ہے۔چہارم :چاروں ملکوںنے افغانستان میں تشدد کا گراف کم کرنے اور مکمل سیز فائر کا ماحول بنانے اور اس کے نتیجے میں انٹرا افغان مذاکرات شروع کرنے پر اتفاق کیا ہے۔اس لئے چاروں فریق رابطے اور کوششیں تیز کریں گے اور مذاکرات سے باہر فریقوں کو مذاکرات کے راستے پر لانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔مسٹر کمار لکھتے ہیں کہ ایک اور سرد جنگ کی طرف بڑھتے ہوئے چین امریکہ اور روس نے اپنے اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے افغان جنگ کے خاتمے پر اتفاق کر لیا ہے۔ سردجنگ بھی ایسی کہ پینٹاگون کی حالیہ جون میں پیسفک سٹریٹجی رپورٹ میں چین کو تبدیلی پسند طاقت اور روس کو بدنام اداکار کہا گیا تھا مگر اچانک گزشتہ ہفتے کے آخر میں تینوں سر جوڑ کر بیٹھے نظر آئے۔مضمون نگار کے مطابق امریکہ افغانستان سے مکمل انخلاء کرتا ہے تو چین ہندوکش میں بالادست طاقت کے طور پر سامنے آئے گااور اس تناظر میں چار ملکوں کی مثلث پاکستان کے اہم رول کو مزید واضح کر رہی ہے۔چین اور امریکہ کے لئے نہ سہی مگر پاکستان کو اس عمل کا لازمی شراکت دار بنانا چین کے اپنے مفاد میں ہے۔مضمون نگار کے مطابق ایسے میں امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں کے پاس پاکستان پر انحصار کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیںتاکہ افغانستان دوبارہ بقول ٹرمپ دہشت گردوں کی لیبارٹری نہ بننے پائے۔امریکہ کے ساتھ پاکستان کے عذاب جانکنی کا شکار سٹریٹیجک تعلقات اب دوبارہ آگے بڑھنے لگے ہیں۔روس بھی چاہتا ہے کہ سی پیک جلد عملی شکل میں ڈھل جائے۔ (باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں