Daily Mashriq

بچے ہمارے عہد کے چالاک ہوگئے

بچے ہمارے عہد کے چالاک ہوگئے

لوٹ کھسوٹ کی تاریک اور طولانی رات کے بعد ملک کی تاریخ میں پہلی بار پکڑ دھکڑ کا سیل رواں کیا چلا کہ اپوزیشن والوں کی چیخوں نے آسمان کو سر پر اٹھالیا ، ستم نہیں کہ کل تک جو عوام کے جم غفیر کواکٹھا کرکے پوچھ رہا تھا کہ’’ مجھے کیوں نکالا‘‘ آج اس کے چاہنے والے عوام کو اکٹھا کرکے کہہ رہے ہیں کہ ’’ انہیں کیوں اندر کیا جارہا ہے‘‘۔ اگر نواز شریف کی گڑیا جیسی وفا شعار بیٹی ابو کی تصویر کا سٹکر لگے کالے کپڑے پہن کر بقول کسے ’ابو بچاؤ تحریک‘ چلا کر ثابت کر رہی ہے کہ بیٹیاں اللہ کی رحمت ہوتی ہیں تو دوسری طرف بلاول زرداری بھی کسی بیٹی سے کم ثابت نہیں ہورہے۔ پاکستانی سیاست کی تاریخ کے یہ دونوں ’’ اے خدا میرے ابو سلامت رہیں ‘‘ کرتے جواں سال کردار اور ان کی پشت پناہی کرنے والے سیاسی جغادری پاکستان کے بائیس کروڑ عوام کو سڑکوں پر لانے اور قربانی کے بکروں کی طرح ذبح کرانے کا ادھار کھائے بیٹھے ہیں ۔ مگر سچ تو یہ بھی ہے کہ لدھ گیا وہ زمانہ جب حکومتی کار کردگی سے ناراض اور مایوس لوگ حکومتیں گرانے سڑکوں پر نکل آتے تھے۔ بڑے شوق سے پہنچ جاتے تھے ان جلسہ گاہوں میں جہاں ان کے محبوب قائد ان میں قسمیں وعدے پیار وفا بانٹنے آتے اور ان کے دلوں میں بس جاتے تھے۔ آج بھولی بھالی عوام کو جلسہ گاہوں میں جاکر طرفہ تماشا دیکھنے کی کیا ضرورت ہے کیونکہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے طوفان بلا خیز نے ہر لیڈر کو ان کے ڈرائنگ روم یا بیڈ روم میں رکھے ٹی وی سکرین پر ہی نہیں کمپیوٹر سیٹس پر اور ان کے ہاتھوں میں ہمہ وقت پکڑے رہنے والے اینی رائڈ موبائل سیٹس پر پہنچا دیا ہے۔ اس پر طرہ یہ کہ پرانے زمانے کی طرح

بات پر واں زبان کٹتی ہے

وہ کہیں اور سنا کرے کوئی

کا بھی رواج نہیں رہا۔ سوشل میڈیا اور عوامی رابطوں کی ویب سائٹوں نے دوطرفہ اظہار خیال کو اتنا آسان کردیا ہے کہ ہر کس و ناکس ان مباحث میں بڑی آسانی سے شرکت کرکے اپنے خیالات کا اظہار ہی نہیں بلکہ اپنے اندر چھپی نفرتوں کی بڑھکتی آگ سے سارے گلوبل ویلیج کو بھی آگ لگا سکتا ہے اور اپنے اندر محبت کے کھلتے پھولوں سے سارے عالم کو معطر اور باغ و بہار بنا سکتا ہے۔ ہمیں وہ دن اچھی طرح یاد ہیں جب ابلاغ عامہ کے ذرائع اتنے عام نہ تھے۔ عام لوگ

اٹھو میری دنیا کے غریبوں کو جگا دو

کاخ امراء کے درو دیوار ہلا دو

کی کال سن کر سڑکوں پر نکل آیا کرتے تھے اور یوں وہ بجلی بن کر کڑکتے طوفان بادو باران بن کر برستے اور بھونچال بن کر کاخ امراء کے درو دیوار ہلادیتے۔ ہم انقلاب روس پر نظر ڈالیں۔ انقلاب ترکیہ کا مطالعہ کریں ، ماوزے تنگ کا لانگ مارچ دیکھیں، منڈیلا کی انسان دوستی دیکھیں ، ، ایران کا انقلاب سفید کے متعلق جانیں تو ہمیں ہر جانب عوام اور صرف عوام کی طاقت سے استعماریت کے اوندھے منہ گر کر پاش پاش ہوتے بت نظر آئیں گے۔ ہمیں قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کی وہ ولولہ خیز قیادت اچھی طرح یاد ہے جب وہ عوام کے ٹھاٹھیں مارتے سمندر سے مخاطب ہو کر کہتے تھے کہ ’طاقت کا سر چشمہ عوام ہیں‘۔ انہوں نے صحیح معنوں میں اپنی دنیا کے غریبوں کو جگاکر پاک وطن کے عنان اقتدار پر چھائے ہوئے بائیس خاندانوں کے محلات کی اینٹ سے اینٹ بجا کر رکھدی تھی ۔ مجھے قائد عوام کا وہ جلسہ اچھی طرح یاد ہے جس میں انہوں نے پاکستانی عوام کو مخاطب کرکے کہا تھا کہ بھٹو کسی ایک فرد کا نام نہیں ہے۔ آپ میں سے ہر بچہ بوڑھا جوان بھٹو اور صرف بھٹو ہے۔ اور پھر ہم نے دیکھا کہ شہید بھٹو کے اس دعوے کو طاقت کے سرچشمہ عوام نے حرف بہ حرف سچ کر دکھایا۔ بائیس خاندانوں کی استعماریت کابت پاش پاش ہوکر گر گیا۔ لیکن اس کا کیا کیا جاتا کہ میری عوام میری عوام کرنے والے انقلاب آفریں ذوالفقار علی بھٹو کو جب تختہ دار پر لٹکایا گیا تو طاقت کا سرچشمہ اف ہائے کرتا رہ گیا۔ بھٹو کے جیالوں کو چن چن کر گرفتار کیا جانے لگا ان کو کوڑے مارے جانے لگے ان میں سے کچھ جان کی بازی ہار گئے اور بہت سے جان کی امان چاہنے لگے ۔ اور یوں ’طاقت کا سرچشمہ عوام ‘ کا نعرہ موم بن کر پگھل گیا کسے خبر تھی کہ عوام ’روٹی کپڑا اور مکان ‘کے لئے جئے بھٹو کی تال پر بھنگڑے ڈالتے تھے اور بھٹو آگیا میدان میں ہو جمالو کے نغمے اور راگ الاپتے تھے ۔ بھٹو نے اپنی جان جان آفریں کے حوالے کردی اورکچھ نہ کرسکے وہ لوگ جنہیں وہ طاقت کا سرچشمہ کہتا تھا۔کیا آپ کو معلوم ہے کہ شہید بھٹو کو تختہ دار پر لٹکانے والے اور جیالوں کو کوڑے مارنے والے کون تھے۔ آپ بڑی آسانی سے کہہ دیں گے کہ یہ سب ضیاء الحق کی کارستانی تھی۔ (باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں