Daily Mashriq

10 روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر آصف زرداری دوبارہ احتساب عدالت میں پیش

10 روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر آصف زرداری دوبارہ احتساب عدالت میں پیش

اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں گرفتار سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کو 10 روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر دوبارہ احتساب عدالت میں پیش کردیا۔

آصف زرداری کو احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کے رو برو پیش کیا گیا۔

آصف علی زرداری کی احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر پولیس نے پیپلز پارٹی کے رہنماوں کو عدالت میں داخل ہونے سے روک دیا، جس کے بعد پی پی پی کے ارکان پارلیمنٹ عدالت کے باہر موجود رہے۔

احتساب عدالت کے باہر موجود پی پی پی رہنماؤں میں سینیٹر سسی پلیجو، شاہدہ رحمانی، سینیٹر گیانچند، نیر بخاری اور آصف زرداری کے ترجمان عامر فدا پراچہ موجود تھے۔

بعد ازاں آصف زرداری کے وکلا احتساب عدالت پہنچے۔

نیب ذرائع کے مطابق نیب کی پروسیکیوشن ٹیم عدالت سے آصف علی زرداری کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کرے گی۔

واضح رہے کہ جسمانی ریمانڈ کے دوران آصف زرداری کی ان کے بچوں سے ملاقات بھی کرائی گئی، جسمانی ریمانڈ کے دوران اسپیکر قومی اسمبلی نے سابق صدر کے پروڈکشن آڈر بھی جاری کئے اور پروڈکشن آڈر جاری ہونے کے بعد سابق صدر نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں بھی شرکت کی۔

خیال رہے کہ سابق صدر کو سخت سیکیورٹی میں احتساب عدالت پہنچایا گیا اور عدالت کی جانب آنے والے تمام راستے بند کر دیئے گئے تھے۔

11 جون 2019 کو اسلام آباد کی احتساب عدالت نے آصف علی زرداری کے خلاف 10 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا تھا اور انہیں 21 جون کو دوبارہ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔

10 جون کو نیب نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں جعلی اکاؤنٹس کیس میں درخواست ضمانت مسترد ہونے کے بعد آصف علی زرداری کو زرداری ہاؤس اسلام آباد سے گرفتار کیا تھا۔

جعلی اکاؤنٹس کیس

واضح رہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے کی جانب سے 6 جولائی کو حسین لوائی سمیت 3 اہم بینکرز کو منی لانڈرنگ کے الزامات میں حراست میں لیا گیا تھا۔

حسین لوائی اور دیگر کے خلاف درج ایف آئی آر میں اہم انکشاف سامنے آیا تھا جس کے مطابق اس کیس میں بڑی سیاسی اور کاروباری شخصیات کے نام شامل تھے۔

ایف آئی آر کے مندرجات میں منی لانڈرنگ سے فائدہ اٹھانے والی آصف علی زرداری اور فریال تالپور کی کمپنی کا ذکر بھی تھا، اس کے علاوہ یہ بھی ذکر تھا کہ زرداری گروپ نے ڈیڑھ کروڑ کی منی لانڈرنگ کی رقم وصول کی۔

ایف آئی آر کے متن میں منی لانڈرنگ سے فائدہ اٹھانے والی کمپنیوں اور افراد کو سمن جاری کیا گیا جبکہ فائدہ اٹھانے والے افراد اور کمپنیوں سے وضاحت بھی طلب کی گئی تھی۔

ایف آئی آر کے متن میں مزید کہا گیا تھا کہ اربوں روپے کی منی لانڈرنگ 6 مارچ 2014 سے 12 جنوری 2015 تک کی گئی جبکہ ایف آئی اے کی جانب سے آصف زرداری اور فریال تالپور کو مفرور بھی قرار دیا گیا تھا۔

جس کے بعد جعلی اکاؤنٹس کیس اور 35 ارب روپے کی فرضی لین دین سے متعلق کیس میں ایف آئی اے کی درخواست پر آصف علی زرداری اور فریال تالپور کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا گیا۔

تاہم چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے اس بات سے انکار کیا تھا کہ پیپلز پارٹی کے دونوں رہنما منی لانڈرنگ کیس میں ملزم ہیں۔

جس کے بعد نگراں حکومت کی جانب سے آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکال دیا گیا تھا۔

بعدازاں فریال تالپور نے لاڑکانہ میں سندھ ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ سے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کرلی تھی۔

علاوہ ازیں 35 ارب روپے کے جعلی اکاؤنٹس کیس میں 15 اگست کو ایف آئی اے نے اومنی گروپ کے چیئرمین انور مجید اور عبدالغنی مجید کو گرفتار کرلیا تھا لیکن ملزمان کی جانب سے صحت کی خرابی کا دعویٰ کیا گیا تھا۔

متعلقہ خبریں