Daily Mashriq

مرادردیست اندردل اگر گویم۔۔۔

مرادردیست اندردل اگر گویم۔۔۔

چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ ٹی وی پر پارلیمنٹ کی کارروائی دیکھ کر ڈپریشن ہوتی ہے،کرکٹ اورمعیشت کی خبریں سن کر مایوسی ہوتی ہے۔ یہ کہا جارہا ہے معیشت آئی سی یو میں ہے، معیشت کی ابتری کی وجہ کون ہے یہ الگ بات ہے،لیکن خبریں اچھی نہیں آرہی ہیں، پارلیمنٹ کی کارروائی دیکھتے ہیں تو اپوزیشن لیڈر اور قائد ایوان کو بولنے نہیں دیا جاتا، خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا ججز کی ذمہ داری ہے کہ انصاف فراہمی میں تاخیر نہ ہو‘مقدمات میں التواء اور جھوٹی گواہی کے خاتمے کیلئے ہر ممکن کوشش کریں گے‘ججوں کے حوالے سے کہاجاتا ہے کہ وہ نہیں بولتے ان کے فیصلے بولتے ہیں لیکن ہمارے ہاں حال ہی میں بولنے والا جج بھی گزرا ہے لیکن بہرحال من حیث المجموع اعلیٰ عدلیہ کے جسٹس صاحبان کسی زیرسماعت مقدمہ میں آبزرویشن بھی محتاط الفاظ میں دیتے ہیں۔ چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ متین صابر اور بردبارشخصیت کا ریکارڈ رکھتے ہیں۔اس لئے ان کے خیالات کو ایک غیرجانبدار اور ملک وقوم کا درد رکھنے والے منصف کی دردمندی سے جاری حالات کی نشاندہی اور دعوت فکر سمجھا جانا چاہئے۔ بلاشبہ عدالتی معاملات اور عدالتوں کے حوالے سے شکایات کا ازالہ مشکلات کو دور اور سہل وتیزتر انصاف کی فراہمی ان کی اولین ترجیح ہونی چاہیے اور ہے بھی جس کا انہوں نے خود اس موقع پر اظہار بھی کیا ہے۔ اعلیٰ عدالتوں میں جرائم سے متعلق مقدمات کے بہت تھوڑے رہ جانے کی اطلاعات ہیں۔ علاوہ ازیں جھوٹی گواہی اور مقدمات کے التواء کے پیچیدہ مسائل پر بھی یقیناً وہ مزید توجہ دیں گے۔ چیف جسٹس نے اسلام آباد میں ماڈل کورٹس کے ججوں سے خطاب کرتے ہوئے ملکی معاملات کے حوالے سے جن خیالات کا اظہار کیا ہے وہ کوئی انکشاف نہیںبلکہ ہر باشعور اور محب وطن شہری ان مسائل پر مضطرب اور پریشان ہے۔ ہم سمجھتے ہیںکہ ان کی ذمہ داری میں کسی سیاسی جھکائوں اور سیاست زدگی کی گنجائش نہیں، ہمیں آج من حیث القوم ان جملہ مسائل کے اسباب وعلل اور ذمہ داریوں کا حقیقت پسندانہ جائزہ لینے اور دردمندی کیساتھ ان کے حل میں قوم کے ہر فرد کو اس میں حصہ لینا چاہئے۔یہ مسائل کسی ایک دور حکومت سے متعلق نہیںاور نہ ہی ان کی ذمہ داری کسی اور پر عائد کر کے بری الذمہ ہونے کی گنجائش ہے۔ ان مسائل کا ایک پس منظر ہے جسے الگ کر کے دیکھنے کی گنجائش نہیں لیکن بہرحال یہ حقیقت ضرور ہے کہ معاشی بگاڑ میں اچانک خاصا اضافہ ہوا ہے جس پر فوری اور اجتماعی توجہ کی ضرورت ہے۔ ان مسائل کے حل کیلئے صرف حکومت کی طرف دیکھنا بھی شاید زیادہ مناسب نہیں، سوائے اس کے کہ بر سر اقتدار جماعت اور حکومت کا کردار کلیدی ہوتا ہے۔ قوم نے گزشتہ دوچار دنوں میںاسمبلی میںاپنے نمائندوں کا جو کردار وعمل دیکھا وہ بلا امتیاز حکومت وحزب اختلاف پریشان کن ہے۔ ایوان کی کارروائی نہ تو چلانے کی سعی کی گئی اور نہ ہی چلنے دی گئی، بہرحال بالآخر حکومت اور حزب اختلاف میں درپردہ مفاہمت اور پروڈکشن آرڈر بارے حکومتی لچک کے بعد کشیدگی میں کمی آگئی ہے۔ حکومت اور حزب اختلاف نے ایوان میں تو اپنی اپنی کی، لیکن اس سے سٹاک ایکسچینج، ملک میں کاروبار حیات اور عوام کے اذہان وقلوب پر کیا گزرگئی اس کا حکومت اور حزب اختلاف دونوں کو اگر صحیح اندازہ ہوتا تو یہ نوبت نہ آتی۔ قائد حزب اختلاف کی جانب سے ایک مرتبہ پھر میثاق معیشت کی پیشکش پر غور ہوتا ہے یا پھر ماضی کے معاملات کے گڑھے مردے اکھاڑنے کی لاحاصل ضد پوری کی جاتی ہے، فی الوقت اس بارے یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ حزب اختلاف حکومت کمزور کرنے کی ضد ترک کر کے حقیقی معنوںمیں تعاون پر کب آتی ہے اس کا دارومدار حکومتی رویہ پر ہی منحصر ضرور ہے لیکن حزب اختلاف کی تریاہٹ بھی ضرب المثل ہے جس کے باعث ملک کے حالات پر سنجیدگی سے غور کرنے اور مل جل کر ملک کو مشکل حالات سے نکالنے کی کبھی نوبت ہی نہیں آئی۔ گزشتہ راصلواۃ اب حالات اس نہج کو پہنچ گئے ہیں کہ اصلاح احوال کی ہر سطح پر مشترکہ اور پیہم جدوجہد کی اشد ضرورت ہے۔ حکومت حزب اختلاف اور پوری قوم کو اب اپنی اپنی اصلاح اورمعاشی سدھار کیلئے کمر باندھنے اور مثبت کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔توقع کی جانی چاہیے کہ دردمندان وطن کو اس امر کا احساس ہوگا اور وہ اپنے روئیے اور کردار پر نظرثانی پر آمادہ ہوں گے، پاکستان کی ترقی، خوشحالی اور بقاء کیلئے جدوجہد اور اس کیلئے جنگ لڑنا کسی ایک ادارے اور محکمے کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ پوری قوم کی ذمہ داری ہے۔ جب تک پوری قوم یہ ذمہ داری نہیں نبھاتی، ایمانداری اور دیانتداری کیساتھ اپنے فرائض کی انجام دہی نہیں کرتی اس وقت تک ملک کو موجودہ حالات سے نکالنا شاید ممکن نہ ہو۔ہمیں بجا طورپر توقع ہے کہ حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان محاذ آرائی کا جلد سے جلد خاتمہ ہوگا اور وہ مل کر ملک کو موجودہ بحران سے نکالنے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

متعلقہ خبریں