Daily Mashriq

کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی!

کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی!

ہمارے سپیشل رپورٹر کی تحقیق وتجرباتی خبر کے مطابقخیبر پختونخوا حکومت کواپنے وسائل اور بین الاقوامی امدادی اداروں سے امداد اور قرضوں کی مد میں صوبے میں جاری اور نئے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کیلئے رواں مالی سال کے دوران مختص بجٹ کے علاوہ مزید ایک ہزار 237 ارب16 کروڑ80لاکھ روپے درکار ہوںگے صوبائی حکومت کو اپنے وسائل سے منصوبوں کو مکمل کرنے کیلئے مزید 420 ارب 41کروڑ 60لاکھ روپے چاہیے ہوں گے۔ صوبائی حکومت کو اپنے وسائل ،بیرونی امداد اور قرضوں سے صوبے میں ایک ہزار356جاری اور نئے ترقیاتی منصوبے مکمل کرنے ہیں جس کیلئے انہیںآئندہ مالی سال 2019-20ء بجٹ میں مختص 236ارب کے علاوہ مزید ایک ہزار237ارب16کروڑ80لاکھ روپے درکار ہوں گے۔اعداد وشمار کی روشنی میں صورتحال کو سمجھنا اصولاً مشکل نہیں ہونا چاہئے لیکن اس کے باوجود اعداد وشمار سے عدم واقفیت کی بناء پر صورتحال کا مکمل ادراک مشکل ہے۔ بہرحال سادہ سی بات یہ ہے کہ صوبائی حکومت کے پاس جتنی رقم دستیاب ہے اور جن کاموںپر اسے خرچ کرنا ہے ان کے اخراجات اور لاگت موجود اور مختص رقم سے کہیں زیادہ ہے، ضروری نہیں کہ بجٹ میں آمدنی کا جو تخمینہ لگایا گیا ہے اور مرکز سے جتنی رقم کی مختلف مدات میں ملنے کی امید ہے وہ بھی پوری ہوں۔ بجٹ کے حوالے سے حکومتی دعوے فاضل بجٹ اور بچت کے ہیں لیکن معروضی حقائق کسی اور جانب اشارہ دے رہے ہیں جس سے خود بجٹ مشکوک ہوجاتا ہے۔ توقع کی جانی چاہیے کہ صورتحال ویسی نہ ہوگی جو نظر آتی ہے اور ایسی ہی ہوگی جو صوبائی وزیرخزانہ بتا رہے ہیں۔

ایک لاٹھی سے سب کو ہانکنے کی غلط پالیسی

محکمۂ تعلیم کا عرق النساء اور دیگر معمولی بیماریوں کی بنیاد پر سن کوٹہ بھرتی کیلئے ریٹائر منٹ لینے والے ملازمین کا راستہ روکنے کیلئے 25سالہ مقررہ سروس کے اختتام سے قبل ریٹائرمنٹ بند کر کے مجبوراًاور حقیقتاً پنشن کے حقدار افراد کا بھی راستہ روک دیا ہے جو قرین انصاف نہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ صوبے کے ہزاروں اساتذہ میں سے بہت سے اساتذہ عمر کے آخری حصے میں کسی بھی وجہ سے ریٹائرمنٹ لینا چاہیں تو ہر ایک کی درخواست کو اس کے حالات اور صحت کے تناظر میں دیکھنا چاہئے، جو لوگ بیٹوں کو بھرتی کرانے کیلئے ریٹائرمنٹ لینا چاہتے ہوں اور حکومت کو اس پر اعتراض ہو تو ٹیچرز سن کو ٹے پران کے بیٹے کی بھرتی فوری نہ کی جائے لیکن اگر ان کا ایک ہی وارث ہو اور ان کی عمر سرکاری ملازمت کیلئے مقرر عمر کی حد تک سے زیادہ ہو رہا ہو تو یہ ہمدردی اور استحقاق کا متقاضی ہے، بہتر ہوگا کہ ایک لاٹھی سے سب کو ہانکنے کا عاجلانہ اقدام نہ کیا جائے۔

پارلیمانی کمیٹی کی رپورٹ کے برعکس اقدام کیوں؟

پشاور یونیورسٹی کا صوبائی حکومت کی پار لیمانی کمیٹی کی جانب سے طلبہ پر لاٹھی چارج کے ذمہ دار ڈپٹی پرووسٹ سیف اللہ کو اپنے عہدے سے ہٹاکر ڈاکٹر فضل شیر کو ان کی جگہ ایڈیشنل پرووسٹ تعینات کرنے کا عمل اگر بروقت یا پھر کم ازکم رپورٹ آتے ہی کردیا جاتا تو اس کیخلاف کارروائی کا تاثر ملتا۔ بہت سارے تبادلوں کیساتھ ان کا تبادلہ معمول کے تبادلوں کا حصہ ہے جو اگرچہ قابل قبول نہیں ہونا چاہئے تاہم اس کے باوجودمتحدہ طلبہ محاذ جامعہ پشاور انتظامیہ نے ڈپٹی پرووسٹ سیف اللہ کو عہدے سے ہٹانے کو خوش آئند قرار دیاہے اور صوبائی حکومت کی پارلیمانی کمیٹی کے دیگر سفارشات پر بھی جلدازجلد عملد رآمد کا مطالبہ کیاہے۔ کمیٹی نے انکوائری کے بعداپنی رپورٹ میں ڈپٹی پرووسٹ، چیف سیکورٹی افیسر اور دیگر کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے ان کی برطرفی کی سفارش کی تھی لیکن جامعہ پشاور انتظامیہ نے ایسا کرنے کی بجائے ڈپٹی پرووسٹ کو اپنے عہدے سے ہٹاکر ڈائریکٹر کوالٹی انہانسمنٹ تعینات کردیا۔چیف سیکورٹی آفیسر اور دیگر ذمہ داروں کیخلاف کیاکارروائی ہوئی اس کا بھی علم نہیں۔ متحدہ طلبہ محاذ چونکہ معاملے کی اصل فریق ہے اس لئے اگر وہ اسے تسلیم کرتی ہے تو اپنی جگہ لیکن انکوائری رپورٹ پر عدم عمل درآمد کاوزیراعلیٰ کو نوٹس لینا چاہئے۔ جس افسر کے برطرفی کی سفارش کی گئی ہو اس کا تبادلہ کافی نہیں، اس طرح کی نرم روی اور پشت پناہی ہی احساس ذمہ داری کے خاتمے اور اختیارات کے ناجائز استعمال کاباعث بنتا ہے اور دیگر افراد بھی عبرت حاصل نہیں کرتے۔ کسی نے کسی کا کیا بگاڑا ہے قسم کے روئیے کا خاتمہ ہونا چاہیے اور ذمہ دار عناصر کیخلاف انکوائری رپورٹ کی سفارشات پر عملدرآمد کی ریت ڈالنی چاہیے۔ اگر پارلیمانی کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد کا یہ عالم ہو تو محکمہ جاتی انکوائریوں کی وقعت ہی کیا باقی رہ سکے گی؟۔

متعلقہ خبریں