Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

امیراُندلس حضرت عبدالرحمن غافقیؒ جس شہر میں داخل ہوتے، لشکر کے قائدین اور قوم کے سرداروں سے ضرور ملاقات کرتے۔ ان کی باتیں غور سے سنتے اور ان کی تجاویز پر عمل کرنے کیلئے لکھ دیتے۔ ان کی نصیحت بھری گفتگو سے فائدہ حاصل کرتے، ان مجالس میں یہ بولتے کم تھے اور دوسروں کی سنتے زیادہ تھے۔ اسی طرح آپ مسلمان اور ذمی دونوں طبقوں کی اہم ترین شخصیات سے ملاقات کرتے اور سرزمین اندلس میں پیش آنیوالے واقعات سے آگاہ رہنے کی پوری کوشش کرتے۔

ایک مرتبہ حضرت عبدالرحمن غافقیؒ نے فرانس کے ایک اہم شخص کو بلایا۔ اس سے مختلف مسائل پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے پوچھا کہ: ’’آپ کے جرنیل شارل مارٹل کاکیا حال ہے؟ وہ نہ تو خود ہمارے مقابلے میں آنیوالے ریاست کے سرداروں کا ساتھ دیتا ہے اور نہ ان کیخلاف ہمارا ساتھ دیتا ہے؟‘‘۔

اس نے عرض کیا: ’’امیرمحترم! آپ ہمارے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئے،ہر وعدے کوپورا کیا۔ اب ہمارا بھی یہ فرض ہے کہ آپ سے ہربات سچ سچ کہہ دیں اور کسی بات کو نہ چھپائیں۔

بلاشبہ آپ کے عظیم قائد موسیٰ بن نصیر نے کمال حکمت اور جرأت سے تمام ہسپانیہ پر قبضہ کرلیا اور پھر برنیہ کے پہاڑوں کو عبور کرتے ہوئے آگے بڑھے۔ یہ پہاڑ اندلس اور ہمارے خوبصورت ملک کے درمیان حائل ہیں، ریاستوں کے سربراہ اور حکام ہمارے حکمران شارل کی خدمت میں حاضرہوئے اور ان سے کہا: ’’جناب عالی! یہ کیسی رسوائی ہمارے مقدر میں آئی ہے۔ اس سے تو ہماری نسلوں کو ہمیشہ کیلئے شکست ہوتی رہے گی۔ ان کے خلاف ہمیں پیش قدمی کرنی چاہیئے۔ ان کی باتیں سن کر ہمارے حکمران نے کہا: ’’ میںنے اس صورتحال پر بہت غور کیا ہے۔ بڑی سوچ وفکر کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچاہوں کہ اس قوم کا مقابلہ نہ کیاجائے۔ یہ پانی کی طرح آگے بڑھ رہی ہے ، اس کے راستے میں جو بھی آئے گا اسے تنکے کی طرح بہا کر لے جائے گی،یہ قوم ایک ہی عقیدے اور اعلیٰ مقاصد والی ہے۔ یہ دونوں خوبیاں کسی بھی قوم کو عروج کی چوٹی پر پہنچا نے کے لیے کافی ہیں۔

ایمان وصداقت اس قوم کیلئے زروں اور گھوڑے کی جگہ کام دیتے ہیں۔ پھرشارل نے کہامیری رائے ہے کہ انہیں اپنی دھن میں آگے بڑھنے دو! مال غنیمت سے اپنی تجوریاں بھرلینے دو! اپنے لیے بڑے گھروں اور محلات پر قبضہ جما لینے دو! ان کیلئے کنیزوں اور خدام کی چہل پہل ہو لینے دو! اس کے بعد ایک وقت ایسا آئیگا کہ یہ قیادت حاصل کرنے کیلئے ایک دوسرے پر حاوی ہونے کی کوشش کریں گے۔جب اس قوم پر ایسا وقت آئے گا تو پھر بڑی آسانی سے اور تھوڑی سی کوشش سے ان پر قابو پایا جا سکے گا‘‘۔

یہ باتیں سن کر حضرت عبدالرحمن غافقیؒ نے ٹھنڈی سانس لی اور نماز میں مشغول ہوگئے۔

(ایمان افروز واقعات)

متعلقہ خبریں