Daily Mashriq

بے سبب گردش ایام کو الزام نہ دے

بے سبب گردش ایام کو الزام نہ دے

کہا جاتا ہے اور اس کہے جانے میں کہاں تک صداقت ہے کہ بعض اوقات روایتیں ضعیف بھی ہوتی ہیں اس لئے اگر کسی کو شبہ ہو کہ اس بات کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے تو بھی اس پر کوئی منفی تبصرہ کرنے سے پرہیز کرتے ہوئے اپنے ٹٹو چھاویں بنیں کہ اس سے کسی کا کچھ بھی نہیں بگڑے گا، البتہ آگے آنے والے حالات پر اسے ایک ہلکا پھلکا تبصرہ سمجھ لیں، ہاں تو کہا یہ جاتا ہے کہ نازی جرمنی کے چانسلر ایڈولف ہٹلر کو ایک بار جرمنی میں کھیلے جانے والے ایک کرکٹ ٹیسٹ میچ میں بطور چیف گیسٹ مدعو کیا گیا۔ وہ پانچ روز تک کرکٹ سٹیڈیم میں میچ دیکھ کر دوسرے تماشائیوں کیساتھ تالیاں پیٹتا رہا مگر میچ کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہوگیا یعنی ڈرا ہو گیا تو اس نے غصے سے دانت پیستے ہوئے جرمنی میں کرکٹ پر یہ کہہ کر پابندی لگا دی کہ یہ کیسا کھیل ہوا کہ پانچ روز تک کھلاڑی دوڑتے ہوئے جان ہلکان کر دیں اور نتیجہ بھی صفر ہو، تب سے آج تک جرمنی میں کرکٹ کھیلنے پر پابندی ہے۔ ادھر امریکہ میں کرکٹ تو سرے سے کھیلی ہی نہیں جاتی بلکہ اس کے متبادل ایک اور کھیل بیس بال کھیلا جاتا ہے جو کرکٹ اور ہمارے صوبے میں کسی زمانے میں کھیلے جانے والے ’’توپ ڈنڈا‘‘ کی ملی جلی شکل ہے جبکہ بیس بال میں ڈرا کا کوئی امکان نہیں ہوتا۔ بہرحال آج سے لگ بھگ35/30 سال پہلے ایک شخص کیری پیکر نے کرکٹ کو ایک نئی جہت سے آشنا کرکے ہٹلر کی روح کو خوش کیا اور کیری پیکر تھیٹر کے نام سے دنیا کے مختلف ممالک کے بہترین کھلاڑیوں کو بھاری معاوضے دیکر ان کی مختلف ٹیمیں بنائیں اور انہیں سرکس کے جوکروں کی طرح مختلف ڈیزائنوں اور رنگوں کے کپڑے پہنا کر ون ڈے کرکٹ کی بنیاد رکھی، اس پر پوری دنیا میں ایک طوفان اُمڈ آیا اور بعض ممالک نے اپنے کھلاڑیوں کو قومی ٹیموں سے نکال باہر کر کے ان پر اپنے ملک کیلئے کھیلنے پر پابندیاں لگا دیں مگر کیری پیکر کا جادو کئی گنا معاوضہ کی وجہ سے سر چڑھ کر بولنے لگا اور کرکٹ کے کھیل میں ایک انقلاب آگیا، اب کیری پیکر ہی کے طرز پر مختلف ملکوں کے اندر کرکٹ کے میدان سجتے ہیں جیسے کہ انڈین پریمئر لیگ یا پاکستان سپر لیگ وغیرہ جن میں کئی ملکوں کے کھلاڑیوں کیساتھ ملک کے اندر نیا ٹیلنٹ بھی سامنے آرہا ہے جبکہ ان ون ڈے میچوں اور ٹی20 میچوں میں ڈرا ہونے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں یہ الگ بات ہے کہ اگر بارش ہو جائے یا شاذ ونادر ہی دونوں ٹیموں کے رنز برابر ہو جائیں تو میچ ڈرا مگر وہاں بھی تکنیکی بنیادوں پر فیصلہ ہو ہی جاتا ہے، جیسا کہ ان دنوں ورلڈ کرکٹ لیگ کے میچوں کے دوران بارش کی وجہ سے کئی میچ کھیلے ہی نہ جا سکے اور دونوں ٹیموں کو ایک ایک پوائنٹ دیدیا گیا، البتہ گزشتہ روز پاک بھارت میچ میں دو تین بار بارش کے باوجود میچ کو 50 اوورز سے کم کر کے40 اوورز تک محدود کیا گیا مگر پاکستانی ٹیم کی کارکردگی پھر بھی مایوس کن رہی اور گزشتہ کئی مرتبہ کی طرح پاکستان یہ میچ بھی ہار گیا، اب اس پر اسحاق وردگ کے اس شعر کو بھی منطبق نہیں کیا جاسکتا کہ

خیرات میں دے آیا ہوں جیتی ہوئی بازی

دنیا یہ سمجھتی ہے کہ میں ہار گیا ہوں

اگرچہ صورتحال کچھ کچھ ایسی بھی ہے کیونکہ میدان میں اترنے سے پہلے وزیراعظم عمران خان نے کپتان سرفراز کو یہ مشورہ ضرور دیا تھا کہ ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنا اور ریلوکٹوں پر انحصار نہ کرنا، مگر خدا جانے سرفراز کے من میں کیا سمائی کہ اس نے عمران خان کے ماہرانہ مشورے کو نظرانداز کرتے ہوئے اس کے برعکس رویہ اختیار کر کے لوگوں کو کہنے پر مجبور کر دیا کہ ’’سرفراز دھوکہ نہیں دے گا‘‘ والا بیانیہ غلط ہے گویا ان کے خیال میں سرفراز نے بالآخر دھوکہ دے ہی دیا۔ اب جو سوشل میڈیا پر سرفراز کی میچ کے دوران ’’جمائیاں‘‘ لیتی ہوئی ایک تصویر وائرل ہوئی ہے، بلکہ میچ سے ایک رات پہلے بعض پاکستانی کھلاڑیوں کی ایک شیشہ کلب میں خوش گپیوں کی تصویریں بھی سامنے آئی ہیں جن میں شعیب ملک اور ان کی اہلیہ ثانیہ مرزا کی اپنے چھوٹے سے بچے کیساتھ وہاں موجودگی ثابت ہو رہی ہے اور لوگوں کے اعتراضات پر ثانیہ مرزا کا ردعمل بھی سامنے آیا ہے کہ یہ ہماری نجی زندگی کی تصویر ہے اور بچے کیساتھ کہیں جانے پر کوئی پابندی نہیں ہے، تو کچھ لوگ اس میں بھی بہت کچھ ڈھونڈنے کی کوشش کررہے ہیں، جبکہ مختلف ٹی وی چینلز پر یہ خبریں بھی سامنے آئی ہیں کہ میچ ہارنے کے بعد کپتان سرفراز کھلاڑیوں پر چڑھ دوڑے اور انہیں کھری کھری سناتے ہوئے کہا کہ اگر میرے خلاف کچھ ہوا اور مجھے گھر واپس جانا پڑا تو اکیلا میں ہی گھر نہیں جاؤں گا میرے ساتھ اور بھی لوگ گھروں کو جائیں گے۔ اس سے دو باتوں کی وضاحت ہوتی ہے کہ پاکستان کی ٹیم کے اندر سب کچھ ٹھیک نہیں ہے اور کچھ نہ کچھ اختلافات ضرورت ہیں اور دوسری یہ کہ عمران خان کا خدشہ درست تھا کہ ریلوکٹوں پر انحصار نہ کیا جائے، تاہم ٹیم کے اندر کیا کھچڑی پک رہی ہے اس پر سے تو کسی نہ کسی طور پردہ اُٹھ ہی جائے گا، البتہ اگر عمران خان کو اپنے وسیع تجربے کی بناء پر ٹیم کے اندر موجود ’’ریلوکٹوں‘‘ کا اندازہ تھا تو انہوں نے ان ریلوکٹوں کو ٹیم میں شمولیت پر (اندرون خانے ہی سہی) پاکستان کرکٹ بورڈ کے ذمہ داروں کے سامنے اپنے تحفظات کا اظہار کیوں نہیںکیا اور انہیں ڈراپ کر کے ان کی جگہ اچھے کھلاڑیوں کی شمولیت پر زور کیوں نہیں دیا؟ اس لئے اب ٹیم سے یہ توقع کرنا کہ وہ آگے کھیل کو بڑھاتے ہوئے(Ifs and Buts) کے تحت بالآخر سیمی فائنل تک پہنچ سکے گی، شاید فضول سوچ ہی ہوسکتی ہے، ہاں واقعی قسمت ساتھ دے تو الگ بات ہے! بقول اقبال اعظم

ہم نے خود آگ لگائی ہے چمن میں اپنے

بے سبب گردش ایام کو الزام نہ دے

متعلقہ خبریں