Daily Mashriq

ٹیکس اور ’’نسوار دہ باڑے‘‘

ٹیکس اور ’’نسوار دہ باڑے‘‘

پشاور یونیورسٹی میں میرے پہلے قدم جب پڑے تو میرے کانوں نے جو الفاظ سب سے پہلے سنے وہ یہی تھے ’’نسوار دہ باڑے‘‘ دیکھتے کیا ہیں کہ ایک لڑکا ہاتھ میں ایک تھیلی اُٹھائے مین گیٹ کے بالکل ساتھ ہی کھڑا تھا اور زور زور سے یہ آواز لگا رہا تھا۔ اس دروازے کے بالکل سامنے صوبے کا مشہور اور مصروف ہسپتال حیات شیرپاؤ ٹیچنگ ہسپتال‘ اسی دروازے کے بالکل ساتھ اُس وقت کا اکلوتا میڈیکل کالج خیبر میڈیکل کالج اور ساتھ ہی انجینئرنگ کالج۔ میں اپنے بڑے بھائی (جو اُس زمانے میں انجینئرنگ کے طالب علم تھے) کیساتھ آیا تھا، سو ہم نے ان سے پوچھ ہی لیا کہ بھائی یہ صاحبان ہماری گلی میں‘ ہمارے سارے شہر میں تو سارا دن گھومتے اور نسوار بیچتے رہتے ہیں مگر اس عظیم درسگاہ میں نسوار کی خرید وفروخت ’’چہ معنی دارد‘‘ تو جواب میں ہمارے بھائی صاحب نے بڑے سرسری انداز میں کہا کہ یونیورسٹی ہماری ہے‘ شہر بھی ہمارا ہے جب پورے شہر میں نسوار بک رہی ہے‘ ہماری گلی کوچوں میں فروخت پر پابندی نہیں تو یونیورسٹی میں بکنے پر کوئی پابندی ہے کیا؟ اور سر راہ انہوں نے پوچھا کہ تمہیں نسوار پر اعتراض ہے یا باڑے کی نسوار پر‘ میں ازراہ احترام خاموش رہا۔ اس احترام میں بڑے بھائی کے احترام کیساتھ اس عظیم درسگاہ کا احترام بھی شامل تھا اور کیوں نہ ہوتا آخر پشاور یونیورسٹی صرف پشاور یا صوبہ خیبر پختونخوا (سرحد) کی عظیم درسگاہ نہیں بلکہ پاکستان بھر کی بہترین یونیورسٹیوں میں سے ایک ہے۔ آج صوبہ میں درجن بھر سرکاری یونیورسٹیاں ہیں‘ تعلیم کو عام کرنے میں ہماری حکومتیں لگی تو ہیں مگر معیار تعلیم کیلئے کوئی بھی مخلص نہیں۔ ہر سال سینکڑوں شعبوں ماسٹر ڈگریوں اور ایم بی اے والوں سمیت پیدا تو ہو رہے ہیں مگر معیار دن بہ دن گرتا جا رہا ہے۔ گرتے ہوئے تعلیمی معیار کے علاوہ ہماری اقدار اور ہمارے قانون کے احترام کرنے کا معیار بھی روز بروز کمزور ہوتا جارہا ہے۔ یوں تو سارے وطن میں قانون بنانے والے قانون کی دھجیاں اُڑا رہے ہیں۔ چند برس قبل ایک قانون وطن عزیز میں بنا کہ اب کوئی بھی کھلے عام سگریٹ نہیں پئے گا، بالخصوص پبلک مقامات‘ بسوں، ریلوے سٹیشنوں‘ سکول وکالجوں اور دفتروں میں کوئی بھی سگریٹ نوشی نہیں کرے گا مگر ٹریفک کا سگنل توڑ کر فخر کرنے والے ان نام نہاد رہنماؤں نے ملک کے ہر قانون کو سٹیٹس سیمبل سمجھ کر توڑا، قانون کو یوں توڑا جا رہا ہے کہ جیسے یہ اسی لئے ہی تو بنے ہیں۔ پشاور یونیورسٹی کی انتظامیہ نے کئی بار یہ اعلامیہ جاری کیا کہ ہم پشاور یونیورسٹی کو ’’تمباکو فری زون‘‘ بنانے کا عزم کرتے ہیں۔ مجھے یاد ہے ابھی چند برس قبل کی بات ہے کہ پشاور یونیورسٹی کی انتظامیہ نے ورلڈ ہیتھ آرگنائزیشن سے وعدہ کیا کم ازکم پشاور یونیورسٹی کو تمباکو نوشی سے پاک کریں گے۔ پشاور یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن نے باقاعدہ طور پر یونیورسٹی کیمپس کو ’’تمباکو فری زون‘‘ قرار دیا۔ اس سلسلہ میں کیمپس میں موجود تمام دکانداروں اور کینٹین مالکان کو حکم جاری کیا گیا ہے کہ موجود سٹاک کو ختم کر لیں اور اس کے بعد کوئی بھی سگریٹ اور تمباکو سے بنی تمام کی تمام اشیاء نہ تو فروخت کرے گا اور نہ ہی کسی کو خریدنے کی اجازت ہوگی۔ اس سلسلہ میں خلاف ورزی کرنے والے کی اطلاع دکانداران خود دیں گے اور ان کیخلاف سخت کارروائی ہوگی۔ اسی سلسلہ کی کڑی کے طور پر ایک مراسلہ میں کہا گیا ہے کہ زندگی اﷲ تعالیٰ کی ایک نعمت ہے اور اسے ضائع کرنے کا حق کسی کو نہیں اور بالخصوص کسی ایک شخص کو کسی دوسرے کی زندگی سے کھیلنے کی تو بالکل اجازت نہیں۔ تمباکو نوشی کیخلاف باقاعدہ مہم چلائی گئی اور طلباء اور عام لوگو ں کو سگریٹ کے مضر اثرات سے آگاہی بھی دی گئی اور اس سے بچنے کی تلقین کی گئی لیکن ’’مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی‘‘ کے مصداق صرف پشاور ہی نہیں بلکہ صوبہ بھر کے اکثر تعلیمی اداروں کے طلباء وطالبات نہ صرف سگریٹ‘ نسوار بلکہ شیشہ اور آئیس جیسے نشوں کے عادی ہوچکے ہیں۔ میں نے یہاں نہ ہی سارے تعلیمی اداروں کا کہا ہے اور نہ ہی سارے طلباء وطالبات کا بلکہ ان میں سے کئی ہیں لیکن اتنی تعداد کہ نظرانداز نہیں کی جاسکتا۔ صوبہ کی سرکاری وغیر سرکاری درسگاہیں جہاں اعلیٰ تعلیمی اقدار پر قائم ہیں وہیں پر غیرنصابی سرگرمیوں پر بھی پوری توجہ دی جاتی ہے، اس موقع پر ہماری دعا ہے کہ خدا کرے کہ ہمارے تمام تعلیمی اداروں کی انتظامیہ اس امتحان میں بھی سرخرو ہو اور کم ازکم تمباکو نوشی کی لعنت سے پاک ہو۔ ہماری یہ بھی دعا ہے کہ یہ مہم پورے شہر، سارے صوبوں اور تمام پاکستان میں پھیل جائے اور ہمارا وطن، ہمارے نوجوان اس لعنت سے پاک رہے۔ صوبائی اور وفاقی حکومتوں نے سگریٹ اور نسوار پر ٹیکس لگا کر اس پیسے کو انہی لوگوں کی صحت پر خرچ کرنے کا ارادہ کیا ہے۔ حکومتی اقدامات کیساتھ ساتھ معاشرہ کو بھی اقدامات اُٹھانے ہیں، شہر اور دیہاتوں میں بنے شیشہ ہاؤس کی بیخ کنی کرنے اور اس سے بھی بڑھ کر اپنے بچوں پر نظر رکھنی ہے کہ وہ کہیں شیشہ کے بعد آئیس جیسے جان لیوا نشے کے عادی تو نہیں ہو رہے۔ اداروں کیساتھ ساتھ ہر فرد کو اپنا فرض سمجھ کر کام کرنا ہے تاکہ پشاور‘ باڑہ کی نسوار سے لیکر بنوں اور خیشکو کی نسوار کیساتھ ساتھ سگریٹ نوشی بھی اگر ختم نہ ہو تو اس قدر کم رہ جائے کہ لوگ اسے برا کہہ سکیں۔ لوگ چھپ چھپا کر سگریٹ اور نسوار کا استعمال کریں اور بالاخر کوئی بھی کھلم کھلا ’’نسوار دہ باڑے‘‘ کی سدا لگانے کی جرأت نہ کرسکے۔

متعلقہ خبریں