Daily Mashriq

خطے کے ممالک کو ترقی کے سفر میں شمولیت کی دعوت

خطے کے ممالک کو ترقی کے سفر میں شمولیت کی دعوت

وزیر اعظم محمد نواز شریف نے پاکستان روس اور وسطیٰ اشیا ء کی مسلم ریاستوں کے درمیان دو طرفہ تعلقات کے نئے مواقع کی مشترکہ خواہش کا اظہار کیا ہے ۔ وزیر اعظم نے اس امر کا بھی اعادہ کیا ہے کہ پاکستان ہمسایہ ممالک کے ساتھ تنازعات کے حل کا خواہاں ہے ۔ دریں اثنا ء اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک قرارداد میں پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کی حمایت کا اعلان کیا ہے جبکہ ون بیلٹ ون روڈ کے علاوہ تاپی گیس پائپ لائن ، کاسا ، اور چاہ بہار بندرگاہ کا بھی خیر مقدم کیا ہے گوادر بندرگاہ پہلے ہی آزمائشی کام شروع کر چکا ہے اور سی پیک منصوبے کا اہم حصہ ہے ۔ مقام اطمینان امر یہ ہے کہ خطے میں مخالفت اور مخاصمت کے باوجود پاکستان ایک ایسے دور میں داخل ہو رہا ہے بلکہ ہو چکا ہے جس میں نہ صرف پاکستان کی اپنی اقتصادی و معاشی اور داخلی ترقی یقینی ہے بلکہ سی پیک منصوبے سے دنیا کی تیس فیصد سے زائد آبادی کا مستقبل بھی وابستہ ہے خطے کے اہم ممالک روس چین اور وسطیٰ ایشیائی ریاستیں اس منصوبے سے عملی طور پر منسلک ہیں ۔ اس ضمن میں تیزی سے کام جاری ہے لیکن اسے بد قسمتی ہی قرار دیا جائے گا کہ خطے کے تین ممالک بھارت ، بنگلہ دیش اور افغانستان جانتے بوجھتے ترقی کے اس عمل میں رکاوٹیں ڈالنے کے درپے ہیں بھارت نے تو اس منصوبے کے خاتمے کیلئے چین پر دبائو ڈالنے کے حد تک سعی کی بھارتی وزیر اعظم خود چین گئے مگر چینی قیادت نے ان کی ایک نہ سنی ۔ اب سلامتی کونسل نے بھی اس کی حمایت میں قرار داد منظور کرکے اس منصوبے کی افادیت اور اہمیت پر مہر تصدیق ثبت کردی ہے ۔ وزیر اعظم نواز شریف نے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تنازعات کو حل کرنے اور خطے کے ممالک کو مل کر ترقی کرنے کی جدوجہد کی دعوت دے کر اچھی ہمسائیگی کا ثبوت دیا ہے۔ سی پیک کے منصوبے سے نہ صرف ہمسایہ ممالک ہی استفادہ کر سکتے ہیں بلکہ مشرق وسطیٰ اور پوری ممالک کے لئے بھی بڑے مواقع ہیں ۔ گرم پانیوں تک پہنچنا روس کا دیرینہ خواب رہا ہے مگر پہلے روس پاکستان کے سینے پر پائوں رکھ کر اور بھارت کی دوستی کے گن گاتے ہوئے اس امر کا خواہاں تھا مگر اب روس مہذب اور سفارتی طریقے سے نیک نیتی اور تعاون کے ساتھ ایسا کرنے کا خواہاں ہے جسے پاکستان کی جانب سے خوش آمدید کہنا فطری امر تھا ۔ اس ضمن میں روس نے اپنے پرانے حلیف بھارت کی ناراضگی کی بھی پرواہ نہیں کی جس کے باعث پاکستان اور روس کے درمیان تعلقات میں مزید گرمجوشی کا امکان دکھائی دیتا ہے ۔ہم سمجھتے ہیں کہ یہ کافی نہیں بلکہ خطے کے دیگر ملکوں کو بھی شاندار ترقی کے ان نئے مواقع سے فائد اٹھانا چاہیئے اور ایک دوسرے کی مخالفت ترک کر دینی چاہیئے تاکہ خطے کے عوام ترقی کی راہ پر تیزی سے سفر کر سکیں اور ان کے مسائل حال ہوں ۔ خطے کے ممالک کے درمیان تنازعات کی نوعیت کی پیچید گی اور ان کا لا ینحل ہونے کا احساس تقریباً سبھی ممالک کوہے مگر المیہ یہ ہے کہ اس کے باوجود خطے کے ممالک حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے تنازعات کو سفارتی طریقے سے حل کرنے کی سعی کرنے اور ان تنازعات کو علاقائی امن و استحکام کو خطرات میں ڈالنے سے گریز کرنا چاہیئے ۔اگر ان تنازعات کی نوعیت کا جائزہ لیا جائے تو ان کا کوئی قابل قبول حل اور فارمولہ نظر نہیں آتا خاص طورپر مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداوں تک کو تسلیم نہیں کیا گیا جس کے بعد اس مسئلے کے منصفانہ حل کا امکان باقی نہیں رہا اگرچہ اس طرح کی کوئی تجویز ہمارے قومی مفاد کے منافی ہے لیکن اس کے باوجود پاکستانی قیادت نے کسی متبادل حل کی طرف بھی توجہ دی مگر اس طرح کا کوئی حل نہ تو ممکن ہوگا اور نہ ہی عوام اور خاص طور پر کشمیر ی بھائی اسے قبول نہیں کریں گے اس طرح کی صورتحال میں ایک قابل عمل صورتحال یہی رہ جاتی ہے کہ خطے کے ممالک تنازعات کے باوجود کشید گی کو اس قدر بڑھاوا دینے سے گریز کریں کہ اس سے خطے کا مجموعی امن اور خطے کی اقتصادی ترقی متاثر ہو ۔ کشمیر کے مسئلے پر معاملات میں اتنی نرمی لائی جائے کہ آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کے عوام کا باہم رابطہ ناممکن نہ ہو ان کوسفر کی سہولتیں دی جائیں ان کے باہم تجارت و روابط میں رخنے نہ ڈالے جائیں ۔ خطے کے ممالک کو وزیر اعظم کی جانب سے تنازعات کا مذاکرات کے ذریعے حل کی پیشکش کے موقع سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے ۔ اسی طرح افغانستان کو خود اپنے مفاد میں پاکستان کے ساتھ معاملات کواعتماد کے ساتھ طے کرنے پر توجہ کی ضرورت ہے ۔ جب تک افغانستان اورپاکستان کے درمیان اعتماد کی فضا پیدا نہ ہوگی اور اعتماد سازی کیلئے دونوں ممالک بالخصوص افغانستان اچھی ہمسائیگی کا مظاہر ہ نہیں کرتا اور دہشت گردوں کے ضمن میں خاص طور پر اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرتا مشکلات سے نکلنا ممکن نہ ہوگا ۔ افغانستان کی جانب سے پاکستان کے خلاف ڈبلیو ٹی او میں شکایت اپنی جگہ لیکن افغانستان کے پاس اس مسئلے کا کیا حل ہے کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کا جو مال دو بارہ سمگل ہو کر پاکستان آتا ہے اور پاکستان کی معیشت کی تباہی کا باعث بن رہا ہے اس کی روک تھام میں وہ کیونکر ناکام ہے دوسری جانب یہ پاکستان کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ سمگلنگ کے مال کو پاکستان آنے سے روکے ابتک تو اس ضمن میںپاکستان کا کردار مئوثر نہ تھا البتہ اب سرحدوں پر باڑ لگانے اور خندقیں کھودنے کا عمل سنجیدہ امر ہے ۔ افغانستان کی جانب سے بجائے اس کے کہ وہ اس عمل کی مخالفت کرے ان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ بھی اس میں حصہ ڈالے ۔ جب تک خطے کے تمام ممالک اس امر کے خواہاں نہیں ہوں گے کہ وہ اچھے ہمسایوں کی طرح رہیں گے تب تک صرف پاکستان کی جانب سے مساعی یکطرفہ ٹریفک ہی رہے گی ۔

اداریہ