Daily Mashriq

روڈشو سے قبل پولیس تیاری کی ضرورت

روڈشو سے قبل پولیس تیاری کی ضرورت

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کی ورکنگ گروپس کو بیجنگ روڈ شو کی تیاریوں کی تو ہدایت کردی ہے لیکن صوبے میں بنیادی اساس کی نوعیت اور معیار اس قابل نظر نہیں آتا جس کی بنیاد پر سرمایہ کاروں کو متوجہ کیا جاسکے قبل ازیں دبئی میں روڈ شو جس طرح ناکامی کا شکار ہوا تھا اور اس کے نتیجے میں ایک بھی قابل ذکر منصوبہ شروع کرنے یا شراکت کی کوئی اطلاع نہیں ۔ ہمارے تئیں سرمایہ کاروں کو متوجہ کرنا اور ان کو سرمایہ کاری پر آمادہ کرنے کیلئے کم از کم بنیادی لوازمات اور بنیادی سہولیات و تیاری پوری ہونی چاہیئے ۔ صوبے میں تمام تر دعوئوں کے باوجود کسی ایسے منصوبے کی مثال نہیں دی جا سکتی ہے جو سرمایہ کاروں کا عزم وحوصلہ بڑھانے کا سبب بنے ۔ امن وامان کی صورتحال بہرحال ایک مسئلہ ہے لیکن صرف یہی مسئلہ نہیں بلکہ دیگر مسائل بھی ہیں صوبائی دارالحکومت سمیت صوبے میں تمام منصوبوں کی نوعیت اس وقت تک کاغذی منصوبوں کی ہے صوبے میں صنعتی زونز سمیت جتنے بھی اہم منصوبوں کی تیاریوں کا تعلق ہے کسی ایک منصوبے بارے بھی تعین سے اس امر کا اظہار نہیں کیا جا سکتا کہ رواں مالی سال کے دوران اس پروگرام کا آغاز ہوگا اس طرح کی صورتحال میں سرمایہ کاروں کو متاثر کرنا مشکل ہوگا کیونکہ بین الاقوامی سرمایہ کار بڑے محتاط اور دیکھ بھال کر سرمایہ لگاتے ہیں جب تک بر سر زمین تیاریوں سے ان کو مطمئن نہیں کیا جاتا ان کی توجہ حاصل کرنا مشکل امر ہوگا ۔ بہتر ہوگا کہ کچھ ایسے منصوبوں پر کام کا آغاز کرکے سنجیدہ پیغام دیا جائے علاوہ ازیں دبئی میں ہونے والی روڈ شو کی ناکامیوں اور وجوہات کا سنجید گی کے ساتھ جائزہ لیا جائے اور ان خامیوں کو دور کیا جائے جو اس کی ناکامی کا سبب بنے ۔
عالمی بنک کی جانب سے فنڈ زکی تفصیلات طلبی
عالمی بینک نے خیبر پختونخوااور فاٹا میں غیر ملکی امدادی اداروں کی طرف سے دیئے جانے والے فنڈ پر بیرونی ممالک کے دورے کرنے والے سرکاری افسران کے بارے میں تفصیلات کی طلبی بلاوجہ نہیں اگر اس کی درست رپورٹ دی جائے تو عالمی بینک شاید ہی فاٹا کے کسی منصوبے کیلئے وسائل کی فراہمی کی حامی بھرے۔ عالمی بینک نے سال2010سے لیکر سال2016تک گورنس اینڈ پالیسی پراجیکٹ اور گورننس سپورٹ پراجیکٹ کے فنڈز پر بیرونی ممالک تربیتی پروگرام اور دوروں کے ساتھ ساتھ ان میں شریک ہونے والے افسران کے بارے میں تفصیلات طلب کی ہیں۔ساتھ ہی عالمی بینک کے حکام نے مذکورہ بیرونی دوروں میں غیر متعلقہ افراد اور ان پر اٹھنے والے اخراجات پر تشویش ظاہر کی ہے ۔عالمی بینک کی جانب سے یہ اقدام بلاوجہ نہیں بلکہ قرض اور امداد کے نام پر اس سے حاصل کردہ وسائل کو جس بیدردی سے اڑایا جاتا رہا اس پر توجہ تو گورنر خیبر پختونخوا سمیت کسی حاکم کو دل دکھانے کی تو فیق نہ ہو سکی وہ جو قرض کی پیتے تھے مے کی فاقہ مستی کے ہم مرتکب ٹھہرے اس کے درون خانہ کہانیاں ہوشرباہوں گی مگر ان کی تحقیقات کرائے کون ؟ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ جن شعبوں کا دورہ کرنے والے ملک سے سرحد سے کوئی تعلق نہیں بنتا اس شعبے کے منظور نظر افرادسرکاری وسائل پر بیرون ملک جاتے رہے جن شعبوں میں مطابقت اور موافقت تھی اس شعبے میں بھی بیرون ملک جانے والوں نے کونسا تیر مارافاٹا سکر ٹریٹ سفارشی اور نالائق افراد کا گڑ ھ قرار دیا جاتا ہے ایسے میں وہاں کے عملے سے کام عوام کی خدمت اور عوامی مسائل کے حل کی توقع ہی عبث ہے ۔
عوام احتجاج پر مجبور کیوں ؟
آبنو شی ٹیو ب ویلو ں سے بجلی منقطع کر نے اور علا قے میں پا نی کے بحر ان کے خلاف سرائے نورنگ میں مظاہرہ توجہ طلب امر ہے۔احتجاجی افراد اس امر پر بر ہمی کا اظہار کر رہے تھے کہ ٹی ایم اے کی غفلت اور لا پروا ہی کے باعث ٹیو ب ویلو ں کی بجلی کا ٹ دی گئی ہے جس سے علا قے میں پا نی کا بحرا ن پیدا ہو گیا ہے ۔شہریوں سے بلوں کی وصولی کے باوجود متعلقہ محکمے کے واجبات ادا نہ کرنے کی شکایت دیگر علاقوں میں بھی ہیں۔ بہر حال معاملے کی تحقیقات اور عوام کی مشکلات کا جلد از الہ ہونا چاہیئے ذمہ دار عناصر کو سزا بھی ملے تو زیادہ بہتر ہوگا ۔

اداریہ