Daily Mashriq


حقانی کے بعد زرداری کا مضمون

حقانی کے بعد زرداری کا مضمون

پیپلز پارٹی کے سابقہ دور حکومت میں امریکہ میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی کے واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والے مضمون پر پاکستان میں جو ہاہا کار مچی ہے وہ کئی دن گزرنے کے باوجود جاری ہے ۔ ویزوں کی منظوری دینے میں سابق صدر آصف علی زرداری کے ساتھ پیپلز پارٹی کے سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی بھی نامزد ہیں۔ انہوں نے اس معاملہ پرذراسخت ردِعمل دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان میں کب امریکی ایجنٹ نہیں رہے۔ انہوں نے سابق صدر ضیاء الحق کے دور میں افغان جنگ کے حوالے سے پاکستان میں امریکیوں کے آنے جانے اور ان کی موجودگی کا بھی حوالہ دیا ہے اور سابق صدر پرویز مشرف کے دور کا بھی ذکر کیا ہے جب امریکی افواج کو پاکستان کے ہوائی اڈے دیے گئے تھے۔ ایسے سوال بھی ابھر رہے ہیں کہ حقانی کے ذریعے پاکستان کی اس وقت کی سویلین قیادت نے تو امریکی کی سپیشل آپریشنز کی فورس اور سی آئی اے کے ایجنٹوں سمیت 'بقول عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید' 16ہزار امریکیوں کو حکومت اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کو بے خبر رکھتے ہوئے ویزے دیے۔ پاکستان کی خفیہ کار ایجنسیوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کا شمار دنیا کی بہترین خفیہ کار ایجنسیوں میں ہوتا ہے۔ یہ بے خبر کیوں رہیں۔ اگر شیخ رشید ایک سیاستدان اس بات پر متوجہ ہو سکتے ہیں کہ بھاری تعداد میں امریکی پاکستان آ رہے ہیں تو ایئرپورٹ کے عملہ کے توسط سے کسی کو بھی یہ معلوم ہو سکتا تھا کہ یہ جو روزانہ دھڑا دھڑا سینکڑوں امریکی پاکستان آ رہے ہیں ان کو ویزے کہاں سے جاری کیے جا رہے ہیں۔ انٹیلی جنس ایجنسیوں اور وزارت خارجہ کو اس کا علم ہونا چاہیے تھا۔ یہ سب باتیں اپنی جگہ لیکن ایک سوال رہ جاتا ہے کہ حسین حقانی کو اس وقت یہ مضمون لکھنے کا خیال کیوں آیا؟ صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم کے عہدیداروں پر بہت پہلے سے یہ الزام عائد کیا جا رہا تھا کہ ان کے ساتھ روس کے سفیر نے ملاقات کی۔ جسے معمول کی سفارت کاری قرار دیتے ہوئے حسین حقانی نے یہ مضمون لکھا ہے اور اس میں اپنی مثال پیش کی ہے کہ خود انہوں نے بھی سابق صدر اوباما کی انتخابی مہم کے عہدیداروں سے ملاقات کی تھی۔ یہاں تک یہ کہانی بہت پہلے شائع ہو جانی چاہیے تھی لیکن اس میں پاکستان میں امریکی سپیشل فورسز کی آمد' ان کے بالواسطہ اسامہ بن لادن کے قتل سے تعلق کا پہلو اس کے علاوہ ہے۔ پاکستان میں اس وقت ایک طرف دہشت گردی کے خلاف آپریشن ضرب عضب ہو چکا ہے اور آپریشن ردالفساد جاری ہے۔ پاکستان میں کرپشن عام ہونے کی باتیں عام ہیں ۔ نواز شریف حکومت پانام کیس کے مقدمے کے دباؤ میں ہے ۔ اگر فیصلہ حکومت کے حق میں آ جاتا ہے تو آئندہ انتخابی مہم پر پاناما لیکس میں پیش کی جانے والی ناکافی شہادتوں کا سایہ رہے گا۔ چاروں صوبوں میں الگ الگ جماعتوں کی حکومتیں ہیں۔ دوسری ملک گیر جماعت ہونے کا دعویٰ پیپلز پارٹی رکھتی ہے۔ پیپلز پارٹی اپنے آپ کو قوم کا آئندہ انتخاب سمجھ رہی ہے اور اس کے لیے کوشش کر رہی ہے۔ کرپشن کا ایشو تحریک انصاف کی اجارہ داری بن چکا ہے۔ ترقی کے ایشو پر حکمران مسلم لیگ ن کا قبضہ ہے۔ خارجہ پالیسی پر تنقید ہر طرف سے کی جا رہی ہے اور مسلم لیگ اس حوالے سے مدافعت پر نظر آتی ہے۔ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ خارجہ پالیسی کے ایشو کو پیپلز پارٹی نے اپنی انتخابی مہم کے لیے منتخب کر لیا ہے۔ حسین حقانی کے مضمون نے نہ صرف خود حسین حقانی کو ٹرمپ انتظامیہ کا حلیف اور امریکہ کا وفادار ثابت کیا ہے بلکہ پیپلز پارٹی کی اس وقت کی سویلین قیادت کو بھی اس کا کریڈٹ دیا ہے کہ اس نے امریکیوں کو ویزے جاری کرنے کی منظوری دی۔ پاکستان میں کہا جا رہا ہے کہ نہ صرف حسین حقانی پر مقدمہ چلایا جائے بلکہ سابق بلکہ صدر آصف رداری اور سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی پر بھی مقدمہ چلایا جائے ۔ اس لیے حقانی نے امریکیوں پر بھی یہ واضح کیا ہے کہ پیپلز پارٹی کی سویلین قیادت ہی نے امریکیوں کو ویزے دینے کی منظوری دی تھی۔ اور آج بھی اسی بنا پر اسے ہدف بنایا جا رہا ہے۔ اس صورت حال میں آصف زرداری نے حقانی کے مضمون کے بعد ایک معروف امریکی جریدے میں ایک مضمون شائع کیا ہے۔ اس مضمون میںامید ظاہر کی گئی ہے کہ امریکہ پاکستان کی اقتصادی امداد جاری رکھے گا ۔ کولیشن سپورٹ فنڈ میں کانگریس نے جو کٹوتی لگائی ہے وہ واپس کی جائے گی۔ اور ایف 16طیاروں کی فروخت کے معاہدے پر عمل درآمد کیا جائے گا۔ یہ مطالبات فوج کے بھی ہیں جو حکمران مسلم لیگ کی حکومت کے ذریعے امریکہ سے لیے جا چکے ہیں لیکن آصف زرداری نے امریکہ سے تعلقات بہتر کرنے کی کوشش کی قیادت سنبھال لی ہے۔ انہوں نے لکھا ہے ''پاکستان کے سویلین جنگ سے تنگ آ چکے ہیں۔ وہ محسوس کرتے ہیں انہیں تنہا چھوڑ دیا گیا ہے ان کی قربانیوں کو کم تر سمجھا جا رہا ہے ۔ یہ شاید بہت خطرناک نتیجہ ہے کیونکہ نان اسٹیٹ ایکٹرز کے خلاف لڑائی میں کمیونٹی کی شراکت نہایت اہم ہے۔''اس اقتباس سے یہ سوال ابھرتے ہیں کہ آیا یہ تاثر دینا حقیقت کے مطابق ہے کہ پاکستان کی سویلین آبادی دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشنز سے بیزار ہے۔ یہ سوال بھی ابھرتا ہے کہ سویلین عناصر کو کس نے تنہا چھوڑ دیا ہے۔ کون ان کی قربانیوں کو کم تر سمجھتا ہے۔ نان اسٹیٹ ایکٹرز کے خلاف لڑائی میں کمیونٹی کی شرکت کے خلاف کون ہے؟ یہ مضمون امریکہ کے ایک جریدے میں شائع ہوا ہے اس لیے امریکیوں ہی سے مخاطب سمجھا جانا چاہیے۔ زرداری کو پاک امریکہ تعلقات کی بحالی اور فروغ کے لیے بنیاد حسین حقانی کے مضمون نے فراہم کی ہے۔ اس پر جو ردِ عمل آ رہا ہے اس سے یہ ممکن ہے کہ اس میں پہل کاری سے توجہ ہٹ جائے۔ لیکن حسین حقانی نے ایک انٹریو میں کہا ہے کہ ابھی وہ اور بھی مضمون لکھیں گے۔ یہ شاید ان عناصر کے لیے پیغام ہے جنہیں وہ ایکسپوز کر سکتے ہیں جن کی خاموشی ضروری سمجھی جا سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں