Daily Mashriq


آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا

آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا

ایک دفعہ ابنِ انشاء ٹوکیو کی ایک یونیورسٹی میں مقامی استاد سے گفتگو میں محوّ تھے۔ جب گفتگو اپنے اختتام پر پہنچی تو وہ استاد ابن انشاء کو الوداع کرتے ہوئے یونیورسٹی کے باہری صحن تک چل پڑا۔ ابھی یونیورسٹی کی حدود میں ہی تھے کہ دونوں باتیں کرتے کرتے ایک مقام پر کھڑے ہو گئے۔ اس دوران ابنِ انشاء نے محسوس کیا کہ پیچھے سے گزرنے والے طلباء اچھل اچھل کر گزر رہے ہیں۔ باتیں ختم ہوئیں تو ابنِ انشاء اجازت لینے سے پہلے یہ پوچھے بغیرنہ رہ سکے کہ محترم ہمارے پیچھے سے گزرنے والا ہر طالب علم اچھل اچھل کر کیوں گزررہا ہے اس کی کوئی خاص وجہ؟ ٹوکیو یونیورسٹی کے استاد نے بتایا کہ سورج کی روشنی سے ہمارا سایہ ہمارے پیچھے پڑرہا ہے اور یہاں سے گزرنے والا ہر طالب علم نہیں چاہتا کہ اس کے پاؤں اس کے استاد کے سایہ پر پڑیں۔ اس لئے ہمارے عقب سے گزرنے والا ہر طالب علم اچھل اچھل کر گزر رہا ہے۔ یہ قوم کیوں نہ ترقی کر ے۔ ہمارے معاشرے میں تو استاد کا احترام اسکے گریڈ اور عہدے سے منسلک ہے۔ پرا ئمری ٹیچر، ہائی اسکول ٹیچر، ہیڈ ماسٹر، لیکچرار، اسسٹنٹ پروفیسر، پروفیسر اوران جیسے بہت سارے ٹائٹل ایک استاد کو اس کی معلم اور قومی معمار والی حیثیت سے نکال کر ایک گریڈ والی چادر میں ڈھانپ دیتے ہیں۔ پھر جتنا بڑاگریڈ اور عہدہ اتنی زیادہ عزت وہ بھی عہدے کی، استاد کی نہیں۔ اب بھلا ایسے معاشرے میں کوئی اگر ''ٹیچنگ اسسٹنٹ''کے طور پر قوم کی معماری کی حامی بھر لے تو اس کے ساتھ وہی ہونا ہے جو آج کل خیبرپختونخوا کے سینکڑوں ٹیچنگ اسسٹنٹس کیساتھ ہو رہا ہے۔ کم و بیش دو دہائیاں پہلے بننے والی ایجوکیشن ٹیسٹنگ اینڈ ایویلیوئیشن ایجنسی (ایٹا) کی قدوقامت میں چار چاند اس وقت لگے جب 2014ء میں خیبرپختونخواحکومت نے پورے صوبے میں امتحان کا انعقاد کراکے اہلیت کی بنیاد پر سرکاری کالجز میں اساتذہ (لیکچراراور پروفیسر) کی خالی آسامیوں کو پرکیا گیا۔ تعلیمی ایمرجنسی کے نفاذ کے چکروں میں پبلک سروس کمیشن کے عمل کو سست رفتار کہہ کر ایٹا کے ذریعے کی جانے والی یہ تعیناتیاں اب ان ٹیچنگ اسسٹنٹس کیلئے سوئے دارسے بھی زیادہ کٹھن ہوگئی ہیں۔ چوالیس ہزار ماسٹر، ایم فل اور پی ایچ ڈی سطح کے امیدواروں سے مشکل امتحان لیا گیا اور ہر ضلع میں اپنے مضمون میں اعلیٰ نمبر لینے والے تقریباً آٹھ سو امیدواروں کو تعینات کیا گیا۔ کسی سے ایک روپیہ بھی نہیں لیا گیا اور نہ ہی سفارش کی ضرورت پیش آئی. میرٹ کی یہ بالادستی یقیناً قابلِ تحسین تھی۔ لیکن اس کے بعد شروع ہونے والی داستانِ غم بھی اپنی مثال آپ ہے۔ میرٹ پر تعینات کئے گئے ان نوجوانوں کو لیکچرارتو کیا بلکہ ایڈہاک لیکچرار کا نام تک نہ دیا گیا، ان کیلئے ایک نیا نام ''ٹیچنگ اسسٹنٹس''تخلیق کیا گیا۔ ڈھائی سال گزرنے کے بعد بھی قوم کے یہ معلم لیکچرار کہلوانے کے حقدار نہیں۔ گزشتہ سال اکتوبر میں صوبائی اسمبلی نے ان اساتذہ کے حق میں ایک بل منظور کیا لیکن وہ بھی بیورو کریسی اور قانونی پیچیدگیوں کے آگے کمزور نظر آرہا ہے۔ ان نوجوانوں کو میرٹ پر لینے کے باوجود نہ تو کوئی سکیل دیا گیا اور نہ ہی ڈھنگ کا ٹائٹل۔اب ہمارے ملک میں ٹوکیو جیسے طلباء تو آنے سے رہے جو ان اساتذہ کو اور نہیں تو کم از کم شانِ معلم کا ہی احساس دلاتے۔ ڈھائی سال سے بغیر کسی حیثیت کے فکسڈ تنخواہ پر کام کررہے ان ٹیچنگ اسسٹنٹس کے ساتھ ان کے اداروں میں کیساہتک آمیز رویہ روا رکھا جاتا ہوگا اسکا اندازہ لگانا آپ کے لئے زیادہ مشکل نہیں ہونا چاہئے۔ انہیں بار باریہ احساس دلایا جاتا ہوگا کہ آخر وہ ہیں کیا؟ وہ نہ تو کوئی گریڈ ہیں اور نہ ہی ٹائٹل۔ آج تک اپنی حیثیت سمجھنے سے قاصر یہ بہن بھائی انصاف کی اس تحریک کے تحرک سے کب فائدہ اٹھائیں گے؟ ٹیچنگ اسسٹنٹس پر ایک شرط یہ لگائی گئی ہے کہ جس دن بھی پبلک سروس کمیشن کا کوئی فرد ان کی خالی پوسٹ پر تعینات کیا گیا اسی وقت ان کو نکال دیا جائیگا،برخواستگی کی تلوار ان کے سر پر ہر وقت لٹکتی رہتی ہے۔ ان کو اپنا مستقبل تاریک نظر آتا ہے تو یہ قوم کے بچوں کو کونسا روشن پاکستان سونپیں گے۔ اب جب کہ ان کی اکثریت نئی ملازمت کی کم ازکم عمر سے تجاوز کرچکی ہوگی تو ان کے پاس کونسا راستہ بچا ہے اپنے کئریئر کو ایک اور چانس دینے کا۔ کالجوں میں باقی اساتذہ کرام کی طرح خدمات انجام دینے والے یہ ملازمین تمام تر الاؤنسز اور مراعات و سہولیات سے محروم ہونے کیساتھ ساتھ چھٹیوں کی صورت میں ان دنوں کی تنخواہ سے بھی محروم رہ جاتے ہیں۔ صد آفرین ہو اس قانون پرکہ چھٹیاں حکومت دے لیکن تنخواہ ان کی کٹے۔ یکم نومبر2016 میں ان ملازمین کوکنٹریکٹ میں مزید ایک سال کی توسیع کی خبر تو سنائی گئی لیکن مجال ہے کہ ان ''انسان دوست شرائط''میں ذرہ برابر بھی ردو بدل کیاگیا ہو۔ اب وقت ہے کہ حکومت اپنے میرٹ پر کئے گئے اس کارنامے کو قانونی پیچیدگیوں سے نکال کر انسانی ہمدردی اور معاشرے کی اصلاح کے طور پر پایایہ تکمیل تک پہنچائے۔ قوم کے ان معلمین کے مستقبل اور عزت نفس کی حفاظت حکومت کی ذمہ داری ہے۔نہ جانے کتنی مشکلوں سے تعلیم حاصل کرکے اپنی محنت اور قابلیت کی بنیاد پرمنتخب ہوئے، سو ان ملازمین کی مشکلات کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔ ان کو آسمان سے گرا کر کھجور میں لٹکانے کی بجائے مستقل فیصلہ سازی کے تحت جائز حق دینا ضروری ہے۔ اس میں سیاسی رہنماؤں کے ساتھ ساتھ پالیسی اور قانون سازوں کو بھی اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔

متعلقہ خبریں