Daily Mashriq

انشائیہ' تکل اور رزڑ

انشائیہ' تکل اور رزڑ

رزڑ اردو انشائیوں کا مجموعہ ہے جس کے مصنف پروفیسر جمیل یوسف زئی ہیں۔ پہلے انشائیہ کی صنف پر کچھ عرض کرنے کی اجازت دیجئے' رزڑ پر بھی بات ہوگی۔ ایک مدت سے تو یہ بحث چلتی رہی کہ اردو میں انشائیہ نگاری کی بنیاد کیسے پڑی۔ مشکور حسین یاد اردو میں انشائیے کا بانی ہونے کا دعویٰ رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر وزیر آغا یہ سہرا اپنے سر سجانا چاہتے تھے۔ یہ مسئلہ پہلے انڈا پیدا ہوا کہ مرغی کی طرح آج تک زیر بحث ہے۔ فیصلہ کوئی حتمی نہیں ہوا ہم ادب میں اس طرح کی بحثوں کو اس لئے زیادہ اہمیت نہیں دیتے کہ ہمیں آم کھانے سے مطلب ہے پیڑ گننے پر اپنا وقت ضائع نہیں کرنا چاہتے۔ یہاں ہمارے پشتو میں انشائیہ کو تکل کہتے ہیں؟ خوب نام ہے۔ کہتے ہیں پچاس کی دہائی میں اولسی ادبی جرگہ کے اجلاسوں ادبی اصناف پر تنقید کے مثبت رویوں کی بنیاد پڑی۔ امیر حمزہ خان شنواری' دوست محمد خان کامل قلندر مومند' لطیف وھمی اور سیف الرحمن سلیم جیسے بلند ادبی قد و قامت کے لکھاری جرگہ کے فعال رکن تھے ۔ جرگہ کے کسی ایک اجلاس میں دوست محمد خان کامل نے اپنی ایک تحریر تاترہ کے عنوان سے پیش کی۔ بحث و تمحیث کے بعد جب اس نئے ادبی ذائقے کی تحریر کے لئے پشتو میں کوئی نام پسند کرنے کا مرحلہ آیا تو کامل صاحب نے اپنی اس تحریر کے لئے تکل کا نام تجویز کیا اور اس طرح نہ صرف پشتو میں اس جدید نثری صنف کے بانی قرار پائے بلکہ اس کے لئے نہایت ہی معنی خیز اور جامع نام بھی ان کی ذہنی اپچ کی دلیل ثابت ہوئی۔ اردو میں پہلا انشا ئیہ مشکور حسین یاد نے لکھا یا ڈاکٹر وزیر آغا اس کے بانی تھے' یہ بات بہر حال مسلم ہے کہ پشتو میں اس کی بنیاد اردوانشائیے سے بہت پہلے پڑ چکی تھی۔ انشائیہ اور تکل کے خدو خال کیا ہیں اور اس صنف کا بنیادی موضوع کیا ہوتا ہے اس پر اپنی بقراطیت جھاڑنے کی بجائے ہم اس موضوع پر پشتو میں ماخام خٹک کی کتاب پشتو ادب کے د تکل ابتداء اور ارتقاء پڑھنے کا مشورہ دیں گے۔ اردو میں ڈھیروں کے حساب سے انشائیوں کے نام سے لا یعنی اور بے معنی تحریریں بکھری پڑی ہیں جن میں انشائیہ نگار صرف لفظوں کی پھلجڑیاں چھوڑتا ہے۔ اس کے مقابلے میں پشتو کے تکل میں خوبصورت الفاظ کے دروبست کے ساتھ پیغام بھی پایا جاتا ہے۔ ماہرین نے Free sally of mind کو انشائیے کا اہم عنصر قرار دیا ہے۔ لفاظی اور علمیت کا اظہار انشائیے کے تاثر کو مجروح کردیتا ہے۔ پروفیسر جمیل یوسف زئی پشتو کے معروف نثر نگار ہیں لیکن اردو میں بھی انہوں نے تاریخی موضوعات پر طبع آزمائی کی ہے۔ ان کی تاریخ پر دو تحقیقی کتابیں پشتون ایرانی نژاد؟ اور یوسف زئی تہذیب علمی حلقوں میں مقبول ہو چکی ہیں جن میں انہوں نے پورے دلائل کے ساتھ پشتونوں کی تاریخ کے کچھ ایسے گوشوں سے پردہ اٹھایا ہے جو اس سے پہلے نگاہوں سے پوشیدہ تھے۔ پشتونوں کے حسب نسب کے بارے میں پروفیسر جمیل یوسف زئی نے جو نکات اٹھائے ہیں مروجہ نظریات سے مختلف ہونے کے باوجود کسی محقق نے ان کی تائید یا تردید میں اب تک قلم نہیں اٹھایا۔ اب ہم ان کی نئی کتاب رزڑ کے بارے میں کچھ عرض کرنا چاہتے ہیں۔ یہ کتاب چونکہ انشائیوں کا مجموعہ ہے اس لئے ہم نے اپنی زیر نظر تحریر کی ابتداء اسی صنف پر گفتگو سے کی۔ ہم نے اپنے پہلے تاثر کے طور پر یہ خیال آیا کہ کسی بھی کتاب کا نام بالعموم اس کے مرکزی موضوع یا پھر تخلیقی تحریروں کے مجموعے میں شامل کسی ایک تحریر کے عنوان کے حوالے سے رکھا جاتا ہے۔ رزڑ میں اس سرخی کے ساتھ کوئی تحریر نظر نہیں آئی چنانچہ ہم نے اپنی ناقص معلومات میں اضافے کے لئے مصنف سے راہنمائی کی استدعا کی۔ انہوں نے ہمارے استفسار کے جواب میں کہا رزڑ فارسی کا لفظ ہے اور اس کے معنی زرد رنگ کے انگور ہیں یا پھر اسی رنگ کے انگوروں کے پانی کے خمار کو بھی کہتے ہیں۔ عالم آدمی ہیں ان کی باتوں پر یقین کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا چارہ نہ تھا۔ کتاب کے ٹائٹل پر بھی زرد رنگ کے انگوروں کی تصویر ہے۔ کتاب کا نام رزڑ رکھنے کی وجہ انہوں نے یہ بتائی کہ اردو میں انشائیوں کا یہ مجموعہ اس خطے سے تعلق رکھنے والے کسی قلم کار کی پہلی کاوش ہے تو اس وجہ سے اس کا نام رزڑ رکھا گیا۔ نام کے انتخاب کی وضاحت کو ہم معنی فی ا لبطن شاعر ہی کہہ سکتے ہیں۔ اگر مصنف کتاب میں کسی جگہ تحریراً یہ بیان حلفی چسپاں کردیتے تو ہم جیسے نو آموز قارئین کو ان سے بار بار براہ راست پوچھنے کی ضرورت نہ پڑتی۔ رزڑ کا انتساب مشتاق احمد یوسفی کے نام کیا گیا ہے۔ ہمیں اس بات کا علم نہیں کہ یوسفی صاحب نے کوئی انشائیہ لکھا ہے یا نہیں لیکن اردو کے فکاہیہ ادب میں ان کے بلند مقام سے کسی کو کوئی انکار نہیں ہوسکتا۔ عقیدت کا کوئی مول نہیں۔ ہمیں اگر کبھی اردو میں انشائیے لکھنے کا شوق ہوا تو اپنی کتاب کو پشتو کے پہلے انشائیہ نگار دوست محمد کامل کے نام منسوب کریں گے کہ پشتون ادیب کا اردو والوں سے ہم پر زیادہ حق بنتا ہے۔یوسفی صاحب پر کتابیں بھی لکھی گئی ہیں اور ان سے منسوب نثری مجموعے بھی بے شمار ہوں گے۔ رزڑ 21انشائیوں کا مجموعہ ہے اور یہ تحریریں مصنف کے وسیع مطالعے کا ثبوت ہیں۔ کم و بیش ہر انشائیے میں زبان و بیان پر گرفت کا بھرپور مظاہرہ کیا گیا ہے۔ ان میں مزاح کی چاشنی بھی پائی جاتی ہے اور یوں نہیں لگتا کہ یہ کسی ایسے مصنف کی کتاب ہے جو اردو کا اہل زبان نہیں۔ ہمارا مطلب ہے کہ اردو زبان و ادب کی تدریس جو ان کا پیشہ ہے اردو کی تحریروں میںانہوں نے اس قدر مہارت پیدا کرلی ہے کہ ان کی یہ تحریریں کسی اہل زبان کے رشحات قلم معلوم ہوتے ہیں۔

اداریہ