Daily Mashriq


کالج اساتذہ کی اپ گریڈیشن

کالج اساتذہ کی اپ گریڈیشن

کل کے اخبار میں جو خبر ہمیں سب سے اچھی لگی وہ پولیس اہلکاروں کی اپ گریڈیشن کے حوالے سے تھی۔ یقینا ہمارے بہادر پولیس اہل کار اس اپ گریڈیشن کے مستحق ہیںانہوں نے دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں بہت سی شہادتیں پیش کی ہیں ان پر جان لیوا حملوں کا سلسلہ تا حال جاری ہے لیکن اس سب کچھ کے باوجود یہ ہنستے کھیلتے اپنے فرائض کی انجام دہی میں مصروف ہیں۔ ہر وہ ادارہ یا فرد جو وطن عزیز کی کسی بھی حوالے سے خدمت میں مصروف ہے قابل احترام ہے حب ا لوطنی کا جذبہ ہی سب سے اہم اور پسندیدہ ہے یہ وطن ہم نے بڑی قربانیوں کے بعد حاصل کیا ہے اب ہم سب کا فرض بنتا ہے کہ ہم اس کی تعمیر و ترقی کے لیے ہمیشہ سرگرم عمل رہیں۔ اس اپ گریڈیشن سے یقینا پولیس اہل کاروں کا اعتماد بڑھے گا اور وہ بہتر انداز سے عوام کی خدمت کرنے کے قابل ہوسکیں گے۔ ہم سب پاکستان کے بیٹے ہیں اور ہم نے اپنے مادر وطن کی تعمیرو ترقی میں حصہ لینا ہے شعبہ کوئی بھی ہو اہمیت کا حامل ہوتا ہے صحت کے شعبے میں خدمات سرانجام دینے والے ڈاکٹرز قابل احترام ہیں ان کے خدشات دور کرنا حکومت کی پہلی ترجیح ہونی چاہیے ان ڈاکٹروں کو بھی حکومتی مسائل اور مجبوریوں کا ادراک ہونا چاہیے۔ ہم سب نے ایک مثبت سوچ کے ساتھ آگے بڑھ کر وطن عزیز اور اپنے دل والے عوام کی خدمت کرنی ہے۔ پولیس ، فوج، سیاستدان، ڈاکٹر، پروفیسر، انجنئیراور دوسرے لاتعداد شعبوں کا آپس میں اتحاد و تعاون بہت ضروری ہے کیونکہ مقصد سب کا ایک ہے اور وہ ہے ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنے حصے کا کردار ! اگر کسی بھی شعبے کے اہل کار اپنی ملازمت کے اصول وضوابط اور مراعات سے مطمئن نہیں ہیں تو وہ اپنے حصے کا کا م ذوق و شوق سے ادا کرنے سے قاصر ہوتے ہیں اس حوالے سے سب سے اہم شعبہ تعلیم کا ہے تعلیم ہمارے بہت سے مسائل کا حل ہے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک اس کی روشن مثال ہیں۔ وطن عزیز میں سب سے زیادہ نظر انداز کیا جانے والا شعبہ تعلیم ہی کا رہا ہے اس حقیقت کے باوجود کہ ہماری ترقی کا راز ہمارے بہت سے مسائل کا حل ایک بہترین نظام تعلیم میں پوشیدہ ہے اس شعبے کو بڑی بے حسی اور بے رحمی کے ساتھ نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔ ہمارے قومی بجٹ میں تعلیم کے لیے جو رقم مختص کی جاتی ہے اسے دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے ابھی تک تعلیم کی اہمیت کو سمجھا ہی نہیںہے یا پھر سب کچھ جانتے بوجھتے ہم اسے نظر انداز کر رہے ہیں تعلیم کسی بھی قوم کی تعمیر و ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے آج دنیا بھر میں مختلف حوالوں سے حکمرانی کرنے والی اقوام تعلیم کے میدان میں سب سے آگے ہیں انہوں نے سائنس کی اہمیت کو نہ صرف سمجھا بلکہ اپنی انتھک محنت اور کوشش سے اس میں نئی نئی راہیں نکالیں اور ترقی کی منازل بطور احسن طے کیں وہ اپنی تعلیم کے لیے بڑی فراخدلی اور دانشمندی کے ساتھ اپنے بجٹ کا ایک معقول اور مناسب حصہ منتخب کرتی ہیں انہوں نے فنی تعلیم کی اہمیت کو بھی سمجھا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ جو اقوام تعلیمی میدان میں آگے ہیں وہی آج کے جدید دور میں سر اٹھاکر باعزت زندگی گزارنے کے قابل ہوتی ہیں۔ وہ اپنے مفادات کا تحفظ بطور احسن کرتی ہیں جبکہ بہت سے شعبوں میں دوسری اقوام کی محتاجی کم تعلیم یافتہ اقوام کا مقدر ہوتی ہے اور آج ہم اسی قسم کی سنگین صورتحال سے دوچار ہیں۔ ہمیں اپنے نظام تعلیم کو بہتر سے بہتر بنانا ہوگا اس پر توجہ دینی ہوگی اس کے سروس سٹرکچر کو بہتر بنانا ہوگا جبکہ زمینی حقائق یہ کہتے ہیں کہ ہمارے اساتذہ کرام گزشتہ کئی برسوں سے اپنی اپ گریڈیشن کے لیے تحریک چلا رہے ہیں۔ابھی حال ہی میں صوبہ خیبر پختونخوا کے کالج اساتذہ کے انتخابات ہوئے جن میں پروفیسر عبد الحمید آفریدی اور قاضی ظفر اقبال بطور صدر اور جنرل سیکریٹری بھاری حیثیت سے منتخب ہوئے ہم نے پروفیسر یونین کے نو منتخب صدر جناب آفریدی صاحب سے ایک ملاقات کے دوران تعلیم کی بنیادی اہمیت اور موجودہ سروس سٹرکچر کے حوالے سے اپنے خدشات کا اظہار کیا ان کا کہنا تھا کہ انتخابات ایک مرحلہ تھا جو طے ہوا اور اب ہم نے سب دوستوں کو ساتھ لے کر چلنا ہے اور اپنی برادری کی خدمت اور ان کے مسائل حل کرنے کی کوشش ہماری سب سے پہلی ترجیح ہے۔ ہم نے کالج اساتذہ کی اپ گریڈیشن کے نفاذ کے لیے کام کرنا ہے خوشی اس بات کی ہے کہ ہماری صوبائی حکومت کالج اساتذہ کے مسائل کے حوالے سے پوری طرح نہ صرف باخبر ہے بلکہ اس حوالے سے اس نے ہمارے ساتھ کچھ وعدے بھی کر رکھے ہیں۔ ہمارا مقصد اپنے ادارے کی خدمت ، طلبہ کو بہترین تعلیم دینا، اور اساتذہ کرام میں پھیلی ہوئی بے چینی کا خاتمہ ہے تعلیمی نظام کی بہتری سے ہماری نئی نسل ایک اچھے ماحول میں معیاری تعلیم حاصل کرکے جدید دور کے تقاضوں سے بطور احسن عہدہ بر آہو سکتی ہے عبدالحمید آفریدی صاحب کا خیال تھا کہ اب جبکہ پولیس اہل کاروں کی اپ گریڈیشن بھی ہوچکی ہے تو ہمیں امید بھی ہے اور یقین بھی ہے کہ اب حکومت معماران قوم کے دیرینہ مطالبے یعنی اپ گریڈیشن کے احکامات جاری کرکے کالج برادری میں پھیلی ہوئی بے چینی کو ضرور ختم کرے گی ہم جس شعبے میں بھی ہوں کتنے بڑے سیاستدان یا آفیسر ہوں تعلیم دینے والے اساتذہ کرام کو نظر انداز نہیں کرسکتے ان کا حق ادا نہیں کرسکتے !

متعلقہ خبریں