Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

حضرت جریر سیدنا لیث سے روایت کرتے ہیں : '' ایک مرتبہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سفر پر روانہ ہوئے۔ راستے میں ایک شخص ملا۔ اس نے آپ کے ساتھ سفر کی اجازت چاہی۔ آپ علیہ السلام نے اسے اپنی ہمراہی کی اجازت عطا فرما دی۔ راستے میں ایک پتھر کے قریب آپ علیہ السلام نے فرمایا: ''آئو ہم یہاں کھانا کھا لیتے ہیں۔'' چنانچہ دونوں کھانا کھانے لگ گئے' آپ علیہ السلام کے پاس تین روٹیاں تھیں' ایک ایک روٹی دونوں نے کھالی اور تیسری روٹی بچی رہی۔ آپ علیہ السلام روٹی کو وہیں چھوڑ کر نہر پر گئے اور پانی پیا پھر جب واپس آئے تو دیکھا کہ روٹی غائب ہے۔ آپ علیہ السلام نے اس شخص سے پوچھا: '' تیسری روٹی کہاں گئی؟ اس نے کہا: مجھے معلوم نہیں' پھر آپ علیہ السلام نے فرمایا: '' آئو ہم اپنے سفر پر چلتے ہیں۔'' وہ شخص اٹھا اور آپ کے ساتھ چلنے لگا۔آپ نے اس شخص کو اپنے مختلف معجزات دکھائے جو اللہ نے آپ کو عطا فرمائے تھے اور اس شخص کو ان کی قسم دی لیکن وہ انکار کرتا رہا۔ آخر میں چلتے چلتے ایک ویران صحرا آگیا۔ آپ علیہ السلام نے اس سے فرمایا: بیٹھ جائو۔ پھر آپ نے کچھ ریت جمع کی اور فرمایا:اے ریت! خدا کے حکم سے سونا بن جا تو وہ ریت فوراً سونے میں تبدیل ہوگئی۔ آپ علیہ السلام نے اس کے تین حصے کئے اور فرمایا: '' ایک حصہ میرا' دوسرا تیرا اور تیسرا حصہ اس کے لئے ہے جس نے وہ روٹی لی تھی۔'' یہ سن کر وہ شخص بولا: '' وہ روٹی میں نے ہی چھپائی تھی۔'' حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اس شخص سے فرمایا: '' یہ تینوں حصے تم ہی لے لو۔'' اتنا کہنے کے بعد آپ اس شخص کو وہیں چھوڑ کر آگے روانہ ہوگئے۔ وہ اتنا زیادہ سونا ملنے پر بہت خوش ہوا۔ اتنے میں وہاں دو اور شخص پہنچے تو انہوں نے ارادہ کیا کہ ہم اس شخص کو قتل کردیتے ہیں اور اس سے سونا چھین لیتے ہیں۔ جب وہ اسے قتل کرنے کے لئے آگے بڑھے تو اس شخص نے کہا : '' مجھے قتل نہ کرو بلکہ ہم اس سونے کو باہم تقسیم کرلیتے ہیں۔'' اس پر وہ دونوں شخص قتل سے باز رہے اور اس بات پر راضی ہوگئے کہ ہم یہ سونا برابر برابر تقسیم کرلیںگے۔پھر اس شخص نے کہا کہ کھانے کے بعد اسے تقسیم کریں گے'' چنانچہ ان میں سے ایک شخص بازار گیا' جب اس نے کھانا خریدا تو اس کے دل میں یہ شیطانی خیال آیا کہ میں اس کھانے میں زہر ملا دیتا ہوں۔چنانچہ اس نے کھانے میں زہر ملا دیا ۔ وہاں ان دونوں کی نیتوں میں بھی سونا دیکھ کر فتور آگیا اور انہوں نے باہم مشورہ کیا کہ جیسے ہی ہمارا تیسرا ساتھی کھانا لے کر آئے گا ہم اسے قتل کردیں گے۔چنانچہ جیسے ہی وہ کھانا لے کر ان کے پاس پہنچا ان دونوں نے اسے قتل کردیا اور بڑے مزے سے زہر ملا کھانا کھانے لگے۔ کچھ ہی دیر بعد وہیں ڈھیر ہوگئے اور سونا ویسے ہی وہاں پڑا رہا۔ کچھ عرصہ بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ وہیں سے گزرے تو دیکھا کہ سونا وہیں موجود ہے اور وہاں تین لاشیں پڑی ہیں۔ آپ علیہ السلام نے یہ دیکھ کر لوگوں سے فرمایا: '' یہ دنیا ایک دھوکا ہے لہٰذا اس سے بچو ۔

اداریہ