چیئر مین نیب صرف عزم و ارادہ کافی نہیں

چیئر مین نیب صرف عزم و ارادہ کافی نہیں

نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے کہا ہے کہ کرپشن ملک کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے، کرپشن روکنے کیلئے مجھے جو کرنا ہے کروں گا، کسی کی پروا نہیں، کسی کو قومی دولت نہیں لوٹنے دیں گے اور نہ ہی کرپٹ عناصر کو رعایت ملے گی، پائی پائی وصول کریں گے، پنجاب سمیت ملک میں نیب غیرجانبدارانہ انداز میں ملزموں کو پکڑ رہا ہے۔ نیب ایک انسان دوست ادارہ ہے جو ملک کو کرپشن سے پاک کر رہا ہے، نیب ہر اس شخص کیساتھ تعاون کیلئے تیار ہے جو ایمانداری سے کام کرتا ہے، ہمیں ذاتی چیزوں سے بڑھ کر ملکی ترقی کی فکر ہونی چاہئے، نیب کسی قسم کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں۔ پاکستان ہے تو ہم ہیں، اگر پاکستان نہیں تو ہم بھی نہیں۔ معاشرے سے برائیوں کو ختم کرنا صرف چیئرمین نیب کا کام نہیں، معاشرے سے کرپشن کا خاتمہ کرنا ہم سب کا کام ہے۔ ہمیں چاہئے تمام تر جدوجہد پاکستان کیلئے کریں، نیب کے عمل احتساب کی تائید وحمایت اور اس کا عوامی تمنا ہونے میں کلام کی گنجائش نہیں لیکن نیب کی حالیہ سرگرمیوں کا مرکز ایک صوبے کا بنے رہنا اور خود نیب میں اعلیٰ عہدوں پر ایسے افراد کی تقرری ایک ایسا معاملہ ہے جس پر چیئرمین نیب کا توجہ دیئے بغیر احتسابی عمل پر پوری طرح اطمینان کا اظہار نہیں کیا جا سکتا۔ ہمیں چیئرمین نیب کے ارادوں اور ان کے عزم پر کوئی شبہ نہیں لیکن ان کے ماتحت محکمہ میں بدعنوان عناصر کی بلاامیتاز احتساب اور خاص طور پر بدعنوان عناصر پر ہاتھ ڈالنے کے بعد ان کو عدالت سے سزا کی منزل کا حصول مشکل ہی سے دیکھا گیا ہے۔ نیب کو ایک ایسا ادارہ بنا دیا گیا ہے جو احتساب کے نام پر کسی عمل کا آغاز ہی کرتی ہے۔ میڈیا پر آنیوالے تفصیلات اور نیب کی تفتیش کے مطابق ملزم پر ایک نہیں درجنوں بدعنوانیاں گویا ثابت ہو چکی ہوتی ہیں مگر جب مرحلہ عدالت اور جرح کا آتا ہے تو یہ سب کچھ پھلائے غبارے سے زیادہ کی حقیقت نہیں رکھتے۔ یہ کسی ایک واقعے کی مثال نہیں بلکہ نیب کے درجنوں اور اہم نوعیت کے مقدمات میں اس کا اعادہ کوئی راز کی بات نہیں۔ چیئرمین نیب جب تک اس قسم کی کمزوریوں سے اپنے ادارے کو پاک نہیں کرتے اور محولہ قسم کے معاملات وواقعات کا اعادہ سامنے آتا رہے گا تو ملک میں حقیقی احتساب کی منزل کے عوام منتظر ہی رہیں گے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اب وقت آگیا ہے تاکہ یہ ادارہ احتساب کا ایک غیرجانبدار اور حقیقی ادارہ بن کر سامنے آئے جس کی اس وقت سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ بدقسمتی سے وطن عزیز میں احتساب کا عمل شفاف اور ہمہ گیر نہیں رہتا۔ نیب کا کردار اس کمزور پرزے کی طرح رہا ہے جو حکمرانان وقت کی منشاء کے مطابق ہی فٹ آتا ہے ان کی مرضی ومنشاء کیخلاف نیب کا احتسابی عمل اور تحقیقات بے نتیجہ اور لاحاصل نکلتے ہیں۔ اگر وطن عزیز میں حقیقی اوردباؤ سے بالاتر احتساب کرنا ہے تو نیب کو ایک ایسا مضبوط اور فعال احستابی ادارہ بنانے کی ضرورت ہے جو دباؤ سے ہی آزاد نہ ہو بلکہ حکومتیں بدلیں یا ملک کی سیاسی وحکومتی صورتحال جو بھی ہو اس کے عمل احتساب پر اثرات مرتب نہ ہوں۔ نیب اتنا خود مختار، فعال اور اس کا دائرہ کار اس قدر وسیع ہو کہ اس کے دائرہ کار میں عدلیہ، فوج، میڈیا اور طاقتور وکمزور ادارے اور افراد سبھی آئیں۔ نیب کی تحقیقات وتفتیش کا عمل اس قدر پختہ ہو کہ نیب کے نوٹس لینے پر عوام کو اس امر کا یقین آجائے کہ معاملات درست نہ تھے اور اب سزا ملنا یقینی ہے۔ ایسا تبھی ہوگا جب نیب کو اس کا حامل ادارہ بنا دیا جائے گا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اب ہمیں من حیث القوم اس امر کا تعین کرنا ہوگا کہ بدعنوان اور راشی جس مقتدر ومحترم ادارے‘ طبقے اور برادری سے تعلق رکھتا ہو اس کا فعل قابل دفاع نہیں بلکہ قابل مواخذہ ہے۔ جن اداروں میں اندرونی آڈٹ اور سزا وجزاء کا نظام موجود ہے یہ ان اداروں کے سربراہوں اور اعلیٰ عہدیداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اولاً بدعنوانی کا ارتکاب ہونے ہی نہ دیں اور ایسا خلا نہ چھوڑا جائے کہ بدعنوانی کی نوبت آئے اور اگر ایسا ممکن نہ ہوسکا تو پھر اس امر کی ہرگز گنجائش نہ رکھی جائے کہ ادارہ جاتی کارروائی اتنی نرم ہو کہ ہڑپ مال کو ہڑپ ہی سمجھ کر ملازمت سے برطرفی جیسے نمائشی اقدام پر اکتفا کیا جائے۔ ملازمت سے برطرفی کی سزا اس کرپشن کی ہونی چاہئے جو محدود پیمانے پر ہوئی ہو جب بدعنوانی کے مقدمات نیب میں آجائیں تو پھر نیب کو اتنا طاقتور اور بااختیار ہونا چاہئے کہ وہ اپنی ذمہ داری پوری کرسکے۔ نیب جب کسی معاملے کا نوٹس لیتا ہے اور تحقیقات کا آغاز ہوتا ہے تو تاثر یہ ملتا ہے کہ ملزموں نے سب کچھ اس بھونڈے طریقے سے ہڑپ کیا تھا کہ ان کی سزا یقینی ہے مگر رفتہ رفتہ نیب کا شکنجہ اس طرح ڈھیلا پڑ جاتا ہے یا ڈھیلا کر دیا جاتا ہے کہ ملزمان صاف بچ نکلتے ہیں۔ گوکہ نیب کے موجودہ چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال ایک اصول پسند اور سخت گیر شخص سمجھے جاتے ہیں لیکن اصل بات یہ ہے کہ موصوف کس قدر ثابت قدمی سے بدعنوان عناصر کیخلاف گھیرا تنگ کرتے ہیں اور ملک میں احتساب کی مثال قائم کرتے ہیں۔ جن جن اداروں کے اعلیٰ عہدیداروں اور افراد کیخلاف ریفرنسز دائر کرنے کی منظوری دی جاتی ہے اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ نیب کے سربراہ اور متعلقہ افراد کو اس امر کا اطمینان ہوتا ہے کہ ان افراد نے بدعنوانی اوراختیارات کے ناجائز استعمال کا ارتکاب کیا ہوتا ہے اور ان کیخلاف کافی ثبوت اور ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ یقیناً ایسا ہی ہوتا ہوگا مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نیب کوئی کیس ثابت کیوں نہیں کر پاتی۔ جب تک نظام میں خامیاں اور عناصر میں دبائو اور احتساب سے روکنے کی طاقت کا استعمال جاری ہے تب تک ہم احتساب کے اس حقیقی منزل کو نہیں پہنچ سکتے جو حقیقی معنوں میں احتساب کہلایا جا سکے۔

اداریہ