Daily Mashriq


محکمہ سیاحت وثقافت میں غیرقانونی بھرتیوں کا معاملہ

محکمہ سیاحت وثقافت میں غیرقانونی بھرتیوں کا معاملہ

قومی احتساب بیورو(نیب) خیبر پختونخوا نے محکمہ سیاحت وثقافت میں گریڈ 4سے17تک ہونیوالی مبینہ غیر قانونی بھرتیوں کی تحقیقات شروع کرتے ہوئے بھرتیوں کا ریکارڈ طلب کر لیا۔ ذرائع کے مطابق محکمہ سیاحت نے نیب کو ان تمام ملازمین کی فہرست فراہم کر دی جن کو بغیر کسی اشتہار اور انٹرویو بھرتی کیا گیا۔ نیب کو فراہم کردہ فہرست میں ان ملازمین کے نام بھی شامل ہیں جن کو محکمہ سیاحت نے حال ہی میں گریڈ سترہ میں مستقل کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق محکمہ سیاحت اسلام آباد انفارمیشن سینٹرکو ختم کرنے کے باوجود وہاں کے ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کی جاتی رہی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ محکمہ سیاحت وثقافت سمیت صوبے کے دیگر اداروں میں قواعد وضوابط کیخلاف بھرتیاں صرف ملازمت کے خواہشمند نوجوانوں کیساتھ ہی ناانصافی نہیں بلکہ اس طرح سے صوبائی حکومت نے جہاں میرٹ کو پامال کیا وہاں اپنے ہی جماعت کے منشور کی بھی خلاف ورزی کی ہے۔ اصولی طور پر اس کی نوبت نہیں آنی چاہئے تھی کہ ایسے اقدامات کئے جاتے کہ نیب کو اس کا نوٹس لینا پڑتا، جن افراد کی بھرتی کیلئے میرٹ کو پامال اور قوانین کو بلڈوز کیا گیا ہے ان افراد کے منظور نظر ہونے کیساتھ ساتھ اہلیت کے حامل نہ ہونا یقینی امر ہے وگرنہ اتنی بدنامی مول کر ان کو بھرتی نہ کیا جاتا۔ بہرحال اب جبکہ نیب نے ا س امر کا نوٹس لے لیا ہے تو ریکارڈ اور شواہد کی روشنی میں اس امر کی تحقیقات اور ذمہ دار عناصر کیخلاف کارروائی میں زیادہ وقت نہیں لگنا چاہئے۔ نیب غیرقانونی بھرتی ہوئے ان افراد کے کوائف کا تفصیلی جائزہ لے تو بہت سارے سوالات کا جواب ان دستاویزات ہی سے مل سکتا ہے۔

محکمہ تعلیم کے افسران کا مطالبہ تسلیم کیا جائے

محکمہ تعلیم کے انتظامی کیڈر کے افسران کا دفاتر چھوڑ کر اپنے مطالبات کیلئے پشاور میں صوبائی اسمبلی چوک میں احتجاجی دھرناحکومتی عدم توجہی اور بلااحتجاج مسئلہ حل نہ ہونے کا ایک اور ثبوت ہے۔ جماعت اسلامی کے صوبائی امیر اور سینیٹر مشتاق احمد نے احتجاجی کیمپ کا دورہ کیا۔ ان کا اپنے خطاب میں یہ کہنا کافی نہیں کہ تعلیم ہماری بنیاد ہے، دنیا کے ترقی یافتہ ممالک تعلیم کی وجہ سے ہر میدان میں ہم سے آگے ہیں۔ ہمارے پاس سب کچھ ہے لیکن تعلیم نہیں اسلئے ہم تیسرے درجے کے شہری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت جب تک اساتذہ کے مسائل حل نہیں کرتی، انہیں یکسو نہیں کرتی اور انہیں وی وی آئی پی اسٹیٹس نہیں دیتی اس وقت تک آپ تعلیم کو ترجیح نہیں دے سکتے۔ جس ملک میں چائے والا ہیرو اور قوم کے معمار دھرنے دیں وہ ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ جب تک لیبارٹریوں اور لائبریریوں کو آباد نہیں کیا جاتا اس وقت تک ہم اسی طرح غریب اور پسماندہ رہیں گے، چونکہ جماعت اسلامی خیبر پختونخوا میں شریک اقتدار جماعت ہے اور مینجمنٹ کیڈر کے افسران کی ترقی میں محکمہ خزانہ کی طرف سے رکاوٹیں ڈالی جارہی ہیں اسلئے اگر موصوف اپنی جماعت کے وزیر خزانہ سے اس ضمن میں بات کرتے تو اس خوش بیانی کی ضرورت ہی نہ پڑتی، یہی وہ وجہ اور رویہ ہے جس کے باعث مسائل ومعاملات حل نہیں ہو پاتے اورسڑکوں پر آئے روز احتجاج کے مناظر سامنے آتے ہیں۔ بہتر ہوگا کہ محکمہ تعلیم کے انتظامی کیڈر کے مرد وخواتین افسران کو سڑکوں پر یوں بے توقیر نہ کیا جائے اور ان کے مطالبات حل کئے جائیں۔

سنجیدگی سے عملدرآمد کی شرط پر

خیبر پختونخوا میں سالہا سال سرکاری دفاتر میں پڑی فائلوں اور درخواستوں کو نمٹانے میں بیوروکریسی کے روایتی تاخیری حربے ختم کرنے کیلئے ــ’’فائل ٹریکنگ سسٹم‘‘ متعارف کرانا یقینا سود مند ہوگا۔ نئے نظام کے تحت بیوروکریسی کو اس بات کا پابند بنایا جا رہا ہے کہ وہ فائل اور درخواستوں کو دفاتر میں سالوں پڑے رہنے کے بجائے ان کی نوعیت کے مطابق مخصوص عرصہ میں نمٹائے اور کسی بھی فائل یا درخواست میں تاخیری حربے استعمال نہ کئے جائیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس طرح کا نظا م متعارف کرانے اور اس کو کامیاب بنانے پر توجہ دینے سے سرکاری دفاتر جانیوالے سائلین کو مشکلات سے نجات ملے گی۔ فی الوقت یہ معاملہ صرف تاخیر کا نہیں بلکہ فائل کو ’’پیہہ‘‘ بھی لگانا پڑتا ہے، سفارش اور رشوت کے بغیر مشکل ہی سے کوئی کام ہوتا ہے۔ اس نظام کی اصلاح ہو جائے تو عوام کو یقیناً مثبت تبدیلی کا احساس ہوگا۔

متعلقہ خبریں