2018ء کے انتخابات اور سیاسی جماعتوں کے منشور

2018ء کے انتخابات اور سیاسی جماعتوں کے منشور

اکثر جمہوری ممالک میں ووٹرز کی ترجیحات اور اُمنگیں سیاسی جماعتوں کیلئے مشعلِ راہ کا کام کرتی ہیں اور انہیں پالیسی سازی میں معاونت کرتی ہیں۔ دنیا کے امیر ممالک میں، سیاسی جماعتوں کے منشور میں ٹیکس کی شرح میں 1یا2فیصد اضافے یا کمی یا سوشل پالیسی کے کسی مخصوص حصے پر خرچ کی جانیوالی فنڈنگ جیسے چھوٹے چھوٹے مسائل کو زیرِ بحث لایا جاتا ہے لیکن وہ ممالک جہاں جمہوریت کا پودا لگے زیادہ عرصہ نہ گزرا ہو، اور جہاں باربار اس پودے کی جڑیں بھی کاٹی جاتی رہی ہوں، وہاں پر پالیسی سازی اور سیاسی جماعتوں کے منشور ایک وسیع تر تناظر میں بنائے جاتے ہیں جن میں سماجی، معاشرتی اور سیاسی امور کو شامل کیا جاتا ہے۔ پاکستان جیسے کم آمدنی والے ملک میں ووٹروں میں جمہوری اور سیاسی شعور کی کمی اور ناخواندگی کی وجہ سے ملک کی عوام کی نمائندگی کرنیوالی سیاسی جماعتوں کے منشور کو اور بھی زیادہ اہمیت حاصل ہو جاتی ہے۔ ووٹرز کے روئیے پر ہونیوالی اب تک کی تحقیق کے مطابق پاکستان میں ووٹ دینے کے حوالے سے بہت سے عوامل اثرانداز ہوتے ہیں۔ ذات، برادری اور رنگ نسل کی بنیاد پر ووٹ دینے کے حوالے سے بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اور یہ سچ بھی ہے کہ پاکستان کے بہت سے علاقوں میں آج بھی ان عوامل کی بنیاد پر ووٹ کاسٹ کئے جاتے ہیں لیکن اس رجحان کو مکمل طور پر غیرمنطقی یا نامعقول نہیں کہا جاسکتا کیونکہ جو لوگ مذکورہ عوامل کی بنیاد پر ووٹ دیتے ہیں وہ اپنی علاقائی اور مقامی صورتحال کو ضرور مدِنظر رکھتے ہیں کیونکہ ان لوگوں میں زیادہ تر لوگ اپنے ووٹ کے وسیع تر اثرات سے لاعلم ہوتے ہیں اسلئے وہ اس امیدوار کو ترجیح دیتے ہیں جو مقامی طور پر ان کے چھوٹے چھوٹے مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ رجحان صرف پاکستان تک محدود نہیں ہے بلکہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں بھی ایسا ہوتا ہے اور لوگ اپنے علاقائی مسائل کے حل اور ذاتی مفادات کے حصول کیلئے ووٹ دیتے ہیں۔ ہمارے ملک میں بھی قومی سطح پر بیٹھے ہوئے صحافیوں اورشہروں میں بسنے والے عام لوگوں کیلئے یہ سمجھنا مشکل ہوتا ہے کہ کسی خاص علاقے میں لوگ کسی خاص جماعت یا اُمیدوار کو ہی ہر دفعہ کامیاب کیوں کرواتے ہیں حالانکہ اس جماعت یا اُمیدوار کی کارکردگی توقعات سے کہیں کم ہوتی ہے لیکن جو لوگ ایسا سوچتے ہیں وہ دراصل اس مخصوص علاقے کے زمینی حقائق سے لاعلم ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک میں سیاسی جماعتوں کا کردار اس قدر اہمیت کا حامل نہیں رہا جتنا اس کو ہونا چاہئے اور سیاسی جماعتیں بھی مقامی بااثر سیاستدانوں کو ٹکٹ دیکر اپنے مفادات حاصل کرتی رہی ہیں۔ مقامی بااثر سیاستدانوں کو ٹکٹ دینے سے وہ سیاستدان جیتنے کے بعد یہ تاثر دینے کی کوشش کرتا ہے کہ اس کو ووٹ ملنے میں سیاسی جماعت کا کردار بھی ہے لیکن دیکھا جائے تو ایسا بالکل نہیں ہوتا۔ کسی سیاسی جماعت کے منشور یا قومی سطح اور صوبائی سطح پر بنائی جانیوالی پالیسی کو مقامی سطح پر اہمیت حاصل نہیں ہوتی کیونکہ زیادہ تر ووٹرز ایسے کسی بھی منشور یا پالیسی سے لاعلم ہوتے ہیں اور وہ اپنا ووٹ شخصیت کی بنیاد پر دیتے ہیں۔ دنیا کی ہر جمہوریت کو ایسے ادوار سے گزرنا پڑتا ہے اور پورے ملک میں سیاسی جماعتوں کے منشور اور پالیسیوں کی بنیاد پر ووٹ کا استعمال ممکن بنانا ہر جمہوریت کیلئے مشکل رہا ہے۔ دوسری جانب سیاسی جماعتوں کو بھی اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے اور اپنے ووٹروں کے علاوہ عوام میں یہ شعور بیدار کرنے کی کوشش کرنی چاہئے کہ سیاسی جماعتوں اور ان کے اُمیدواروں کا کام صرف سڑکیں، گلیاں اور نالیاں بنوانے تک محدود نہیں ہے۔ عام انتخابات 2018ء سے پہلے تمام سیاسی جماعتوں کو ٹکٹ دینے کیلئے مناسب اُمیدواروں کے انتخاب کا چیلنج درپیش ہے اور اس چیلنج کا مقابلہ اپنے پالیسی اور منشور کے تقاضوں پر پورا اُترنے والے اُمیدوار کی بجائے مقامی طور پر ایسے اُمیدواروں کو ٹکٹ دیکر کیا جائے گا جن کے جیتنے کے امکانات روشن ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک جہاں اس وقت لوگوں کی زندگیاں بہتر بنانے کے امکانات کے بارے میں سوچ بچار کر رہے ہیں وہیں پر ہم اپنی عوام کی زندگی پر قدغن لگانے کی کوششوں میں مصروف ہیں اور ان کو یہ بتانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ انہوں نے اس ملک میں کیسے رہنا ہے کیونکہ عوامی اُمنگوں کو سیاسی جماعتوں کے منشور میں زیادہ جگہ نہیں ملتی اور لوگوں کے حقوق کو محفوط کرنے کے صرف سیاسی دعوے کئے جاتے ہیں اسلئے بہت سی مذہبی، لسانی اور قبائلی اقلیتیں خود کو پاکستان میں غیر محفوظ سمجھتی ہیں۔ اس کے علاوہ دوسرا اہم مسئلہ سول سروس میں اصلاحات کے ذریعے ریاست اور اس کی عوام کے درمیان رابطے کو بڑھانا ہے۔ اس حوالے سے خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت کی جانب سے بیوروکریسی کو غیر سیاسی بنانے کی چند قابلِ تعریف اصلاحات کی گئی ہیں۔ پورے ملک میں ان اصلاحات کے نفاذ اور ان میں بہتری لانے کیلئے ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کو آگے آنا ہوگا اور اس حوالے سے ایک مباحثے کا آغاز کرنا ہوگا۔ تیسرے نمبر پر، تمام سیاسی جماعتوں کو پختونوں کی جانب سے کئے جانیوالے حالیہ احتجاج پر غور کرنا ہوگا اور یہ سوچنا ہوگا کہ ریاست کو اپنے تمام شہریوں کو برابر حقوق فراہم کرنے پر مجبور کرنے کیلئے کیا اقدامات کئے جا سکتے ہیں۔ ہماری سیاسی جماعتوں کے منشور زیادہ سڑکوں اور پلوں کی تعمیر تک محدود رہے ہیں اور اگر ان میں انسانی حقوق کی بات کی بھی گئی ہے تو وہ چند سطور سے زائد نہیں ہے۔ اسلئے تمام سیاسی جماعتوں کو بلوچستان، فاٹا اور خیبرپختونخوا سمیت ملک کے دیگر علاقوں میں ہونیوالی انسانی حقوق کی پامالی کے سدِباب کیلئے ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے جس میں پہلا قدم ان مسائل کو اپنے اپنے منشوروں میں ترجیح دینا ہے۔
(بشکریہ: ڈان، ترجمہ: اکرام الاحد)

اداریہ