آج کا دن

آج کا دن

بہار اپنے جوبن پر ہے۔ رات اور دن کا دورانیہ ایک ہی جیسا ہو چکا ہے۔ کہ آج 21مارچ ہے۔ صرف یہی حوالہ نہیں آج کے دن کا، پاکستان سمیت ساری دنیا میں آج کا دن مختلف حوالوں سے منایا جا رہا ہے۔ جن میں عالمی یوم جنگلات، عالمی یوم شاعری، عالمی یوم پانی اور نوروز عالم افروز کے حوالے شامل ہیں۔ ہم اپنے آج کے کالم کا آغاز عالمی یوم جنگلات کے حوالہ سے کرتے ہیں۔ پاکستان سمیت ساری دنیا کے ملکوں میں جنگلات کو قومی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کا درجہ دیا جاتا ہے۔ جنگلات میں اگنے اور پھلنے پھولنے والے پودوں اور درختوں سے ہمیں نہ صرف پھل پھول، سایہ اور لکڑی حاصل ہوتی ہے بلکہ ان کی افراط سے ہم فضائی آلودگی سے بھی پیچھا چھڑا سکتے ہیں کیونکہ درختوں اور جنگلات کی ہریالی مضر صحت گیسوں کو جذب کر کے اس کے بدلے انسانی اور حیوانی زندگی کیلئے آکسیجن جیسی نعمت غیر مترقبہ فراہم کرتی ہے، جنگلات ملک اور قوم کو قیمتی لکڑی سے مالامال کرنے کے علاوہ جنگلی حیات کیلئے محفوظ پناہ گاہیں مہیا کرتے ہیں۔ کرہ ارض پر جنگلات قدرت کا بے بہا عطیہ ہیں لیکن ہمیں یہ بات تسلیم کرنی پڑ رہی ہے کہ بڑھتی آبادی کے پیش نظر عالمی سطح پر بڑی بیدردی سے جنگلات کی کٹائی کرکے ان کو نابود کیا جارہا ہے۔ دور نہ جائیے کل تک پشاور کا جو شہر پھولوں اور باغوں کا شہر کہلاتا تھا وہ عمارتوں، سڑکوں اور پُلوں کا شہر بن گیا ہے، تعمیر وترقی کے نام پر جاری اس روش کو نہ صرف وطن عزیز کی قیادت نے اپنا رکھا ہے بلکہ اسے وقت کی ایک اہم ضرورت سمجھ کر خودرو جنگلات کی دولت کو ملیا میٹ کیا جا رہا ہے، جنگلات ہمارے ماحول کے حسن میں اضافہ کرنے کا باعث ثابت ہوتے ہیں۔21مارچ کو پاکستان سمیت ساری دنیا میں شاعری کا عالمی دن کے طور پر بھی منایا جاتا ہے۔ شاعری عربی زبان کا لفظ ہے۔ اس کا اشتقاق شعور سے ہوتا نظر آتا ہے لیکن جو شاعری لاشعوری طور پر وجود میں آتی ہے اسی میں بے ساختگی اور ’از دل خیزد وبر دل ریزد‘ کی خاصیت پائی جاتی ہے۔ بعض لوگوں میں شعر کہنے کی خداداد صلاحیت ہوتی ہے اور جب وہ لاشعوری طور پر شعر کہنے کی کیفیت سے گزرتے ہیں تو اسے آمد کا نام دیتے ہیں۔ آورد، آمد کی ضد ہے جسے شاعر شعوری کوششوں سے انجام دیتا ہے لیکن آورد کے زیراثر وجود پانیوالی شاعری سننے یا پڑھنے والوں پر وہ تاثر نہیں چھوڑتی جو آمد کے زیراثر تخلیق پانیوالی شاعری کا خاصا ہوتا ہے۔ شاعری کو فنون لطیفہ کے خانہ میں رکھا جاتا ہے اور شعرائے کرام کو معاشرے کا حساس طبقہ جان کر ان کی قدردانی کی جاتی ہے لیکن اس کے باوجود دنیاوی حرص ولالچ سے بے نیاز تلامیذالرحمان کا یہ طبقہ معاشی بدحالی کا شکار نظر آتا ہے۔ آج پوری دنیا میں شاعری کا عالمی دن ہے جسے عالمی شاعری کا دن بھی کہا گیا ہے جس کا مقصد اپنی دھن میں مگن شعر وادب کی آبیاری کرنیوالوں کے حق میں دنیاداروں کے شعور کو بیدار کرنا ہے۔21مارچ کا ایک اور حوالہ عالمی یوم آب یا پانی کاعالمی دن ہے۔ پانی جو زندگی کی بنیادی ضرورت ہے کرہ ارض پر وافر مقدار میں پایا جاتا ہے۔ کہتے ہیں کہ سطح زمین پر پانچ حصہ پانی اور ایک حصہ خشکی ہے لیکن اس کے باوجود عہد حاضر کا انسان پینے کیلئے صاف ستھرے اور صحت افزاء پانی کو ترس رہا ہے۔ یہی عالم دریاؤں میں بہنے والے پانی کا ہے۔ مضر صحت باقیات نے دریاؤں اور ندی نالوں میں بہنے والے پانی کو پینے کے قابل رہنے ہی نہیں دیا، یہی عالم کنوؤں یا ٹیوب ویلوں سے حاصل ہونیوالے پانی کا ہے۔ جس کی وجہ سے پانی کو کشید یا فلٹر کرکے مہنگے داموں بیچا جارہا ہے جس کو خریدنا ہر کس وناکس کے بس کی بات نہیں اور یوں لوگ جہاں آلودہ اور مضر صحت پانی پی کر نت نئی بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں وہاں تھر جیسے صحراؤں کے لوگ کوسوں دور جاکر پانی لانے پر مجبور ہیں۔ پانی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے اور یہ ضرورت پوری کرنے میں ہم کس حد تک کامیاب ہوئے ہیں۔ اس سوال کا جواب ہم نے اپنے آپ سے بھی پوچھنا ہے اور حقوق انسانیت کی چارہ گر وں سے بھی۔نوروز عالم افروز 21مارچ کا ایک اور حوالہ بنتا ہے، اس دن ہمارے ہمسایہ ملک ایران میں رائج ہجری شمسی کیلنڈر کا نیا سا ل شروع ہوتا ہے، وہ 21مارچ کو اپنے ہاں رائج کیلنڈر کے پہلے مہینے فروردین کی پہلی تاریخ کا جشن منانا شروع کرتے ہیں اور اس ہی حوالہ سے اسے جشن نوروز عالم افروز کے نام سے یاد کرتے ہیں، جشن نوروز عالم افروز کے متعلق فقہ جعفریہ سے منسلک علماء ومشائخ کا کہنا ہے کہ اس روز آقائے نامدار حضور نبی کریمؐ کو بعثت ودیعت ہوئی تھی۔ عید نوروز کے حوالہ سے مختلف مسلک کے لوگ اپنی اپنی رائے رکھتے ہیں، جس نے اس موضوع کی حساسیت میں اضافہ کر دیا ہے،21مارچ کا یہ دن 23مارچ کو قومی جوش اور جذبہ سے منانے کی عظیم الشان یادداشت بن کر طلوع ہواہے، افواج پاکستان کے جری جوان 23مارچ کا استقبال کرنے کیلئے بھرپور تیاریوں میں مگن ہیں، 23مارچ کی صبح جسے ہم یوم پاکستان اور یوم استقلال کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ 23مارچ ہمیں 1940 کے ان یادگار لمحات یاد دلانے کیلئے طلوع ہوتی ہے جب برصغیر پاک وہندکے مسلمانوں نے حضرت قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میںآزاد مملکت پاکستان کے حصول کا عزم کیا تھا اور پھر سات سال کے مختصر عرصہ میں اس عزم کو بالجزم ثابت کر کے شاعر مشرق حضرت علامہ اقبال کے خواب کو حقیقت کا روپ دے دیا تھا۔

اداریہ