Daily Mashriq


کچھ بھی نہیں بدلا، سب کچھ ویسے کا ویسا ہی ہے

کچھ بھی نہیں بدلا، سب کچھ ویسے کا ویسا ہی ہے

یہ ہفتہ وار کالم جہاں میرے لئے قارئین سے رابطے کا موثر ذریعہ بنتا جا رہا ہے وہاں بعض اوقات تکلیف دہ حقیقت جان کر دل مسوس بھی جاتا ہے۔ نمل یونیورسٹی پشاور کیمپس کے شعبہ انگریزی لسان وادب سمسٹر اول کی ایک طالبہ کی والدہ کو اس بات پر سخت تشویش ہے کہ اگر پوری سیکورٹی کے باوجود ایک نوسرباز کئی دن تک اساتذہ اور طلبہ کو جھوٹی کہانی سنا کر امدادی رقم اکٹھی کر سکتا ہے اور پوری انتظامیہ یا تو دھوکہ کھا گئی یا ملوث تھی تو اس ادارے کا ماحول طلباء خاص طور پر طالبات کیلئے کیسا ہوگا۔ ان کی معلومات کے مطابق یونیورسٹی کا ایک ایچ او ڈی اس نوسرباز کا سرپرست تھا۔ انہوں نے اس حوالے سے اور بھی بہت سی باتیں کیں جس کا یہاں تذکرہ مناسب نہیں چونکہ ملزم اب پولیس کی زیر حراست ہے اور معاملے کی تحقیقات ہو رہی ہے، تو توقع کی جانی چاہئے کہ پولیس اس نوسرباز اور اس کے سرپرستوں کو بے نقاب کرے گی۔ نمل یونیورسٹی جیسے باوقار ادارے کے وائس چانسلر‘ رجسٹرار اور دیگر اعلیٰ حکام کو بھی اس واقعے کا نوٹس لینا چاہئے اور محکمانہ انکوائری کی قانونی ضرورت نہ صرف پوری کی جائے بلکہ والدین اور طلبہ کا اعتماد بھی بحال کیا جائے۔

جنوبی وزیرستان وانا تیارزہ کے علاقے سے محمد ناصر نے علاقے میں کھلے عام چرس‘ بھنگ اور افیون کی فروخت اور استعمال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ زیادہ قابل تشویش بات یہ ہے کہ نوجوان طالب علم نشے کی لت کا شکار ہیں اور ہو رہے ہیں۔ منشیات کا دھندہ مختلف کاروبار کے روپ میں جاری ہے۔ یوں اپنے ظاہری کاروبار کے باعث ان کو دھندہ چھپا کر چلانے کا موقع مل رہا ہے۔ وانا بازار میں بعض افراد کی کاروباری چھتری تلے منشیات فروشی کا جلد سے جلد نوٹس لیا جائے اور اس طرح کے مکروہ دھندے میں ملوث افراد کو گرفت میں لیا جائے۔ این ٹی ایس میں گھپلے کی شکایات اس قدر تواتر سے ملتی ہیں کہ مجھے یقین ہوگیا ہے کہ کوئی بھی این ٹی ایس اور ایٹا ٹیسٹ شفاف نہیں۔ تخت نصرتی کرک سے محمد صدیق مجبور خٹک نے علاقے کے ایک معروف پبلک سکول کی انتظامیہ کو سکول میں ہونیوالے ٹیسٹ میں اُمیدواروں کو حل شدہ پرزہ جات کی فراہمی کا ملزم ٹھہرایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک چپراسی نے پانی کے گلاس کیساتھ ایک اُمیدوار کو حل شدہ مواد دیا تو انہوں نے اس کو کہا کہ بھائی اس طرح کا پانی کا ایک گلاس مجھے بھی پلادے۔ غرض مختلف کہانیاں ہیں مختصراً یہ کہ تقریباً ہر اُمیدوار کا تجربہ تلخ اور تکلیف دہ ہے۔ لوئردیر کے تحصیل منڈا سے ریٹائرڈ پرنسپل شہزادہ محکمہ تعلیم سے گریڈ انیس کی جگہ گریڈ اٹھارہ میں ریٹائر کر دئیے گئے ہیں۔ ان کا کیس 22اگست2017ء سے سیکرٹری تعلیم کے دفتر میں لٹکا ہوا ہے۔ سیکرٹری تعلیم اگر رولز کے مطابق ان کے کیس کا فیصلہ کرے تو ایک معلم کی پریشانی دور ہو۔ معلوم نہیں سرکاری دفاتر میں فائلیں اس طرح سے لٹکائی کیوں جاتی ہیں‘ روزمرہ کام کرنے کی عادت ڈالی جائے تو کوئی بھی کیس مہینوں یوں پڑا نہ رہے۔ میٹرک کے امتحانات ہونے کو ہیں، کرم ایجنسی سے نورالاسلام نے میٹرک کے امتحانات میں نقل کو موضوع بنانے کو کہا ہے۔ میرے خیال میں سب سے پہلے تو نقل کیلئے بھی عقل کی ضرورت ہوتی ہے مگر عقل ہو تو نقل کی ضرورت نہیں پڑتی۔ طالب علموں کو بس اتنی سی بات سمجھ لینی چاہئے کہ نقل کر کے حاصل کردہ اسناد لاحاصل ہوتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ نقال سڑکیں ماپتے دکھائی دیتے ہیں اور محنتی لڑکے سخت مقابلے کے بعد بھی سیٹ نکال لے جاتے ہیں۔ میٹرک کے امتحانات میں نقل کی روک تھام میں متعلقہ بورڈز اور ممتحنین سے سختی کا مظاہرہ کر کے اپنی ذمہ داری پوری کرنے کی گزارش ہے۔ یونین کونسل ابازئی تنگی چارسدہ سے توحید باچہ اپنے علاقے کے مسائل کے بارے میں توجہ مبذول کرانے کا خواہاں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے علاقے میں گیس‘ بجلی‘ صاف پانی‘ نکاسی آب‘ منشیات‘ ہوائی فائرنگ جیسے مسائل کی طرف توجہ نہیں دی جا رہی ہے۔ بہرحال ان کے نزدیک زیادہ اہم مسئلہ ان کے علاقے میں گرلز ہائی سکول کا نہ ہونا ہے جس کی وجہ سے بچیاں زیور تعلیم سے محروم رہ جاتی ہیں۔ خیبر پختونخوا میں تعلیمی انقلاب کے دعویداروں کو جاتے جاتے یونین کونسل ابازئی کی بچیوں کیلئے تعلیمی سہولیات فراہم کرکے جانا چاہئے یا پھر اپنے دعوے سے رجوع کریں اور ناکامی کا اعتراف کرکے جائیں۔ بونیر سے ایک قاری نے اپنے واٹس ایپ کے ذریعے بونیر میں سیاسی بنیادوں پر ٹھیکے دینے اور یونیورسٹی آف بونیر میں سیاسی بنیادوں پر بھرتیوں کی شکایت کی ہے۔ ٹھیکوں میں گھپلے اور ملازمتوں کی سفارش اور رشوت کیلئے بندر بانٹ ایسے عام مسائل ومعاملات ہیں جس کا اگر الزام بھی لگے تو یقین اسلئے آجاتا ہے کہ یہ معمول بن چکا ہے۔ خیبر پختونخیوا میں بہتری کے بلند وبانگ دعوے تو بہت سننے کو ملتے ہیں مگر بات تب بنتی جب ان شکایات میں کمی آتی اور نوجوان مطمئن ہوتے۔ سامنے آنیوالے معاملات اور شکایات اس امر پر دال ہیں کہ کچھ بھی بدلا نہیں بلکہ وہی بھیڑ چال کی کیفیت ہے۔ ایک بھائی نے نکتہ اُٹھایا ہے کہ دینی مدارس سے شہادت العالمیہ کی سند کو ایچ ای سی تسلیم کرتی ہے مگر محکمہ تعلیم اس سند کے نمبر نہیں دیتا۔ ایچ ای سی جن اسناد کو تسلیم کرتا ہے ان کے نمبر بھی نہ صرف مساوی ملنے چاہئیں بلکہ ملازمت میں بھی ان کیساتھ تفریق نہیں ہونی چاہئے۔ ایسا ہو نہیں سکتا کہ ایچ ای سی سے تسلیم شدہ سند کے نمبر نہ دئیے جائیں، کوئی تو وجہ ضرور ہوگی جس کے باعث ایک سرکاری ادارہ ان کے نمبر نہیں دیتا تفصیلات معلوم کی جائیں تو یہ غلط فہمی بھی دور ہوگی۔ بہرحال اس معاملے کا نوٹس لیا جانا چاہئے اور اس کی وجہ سے آگاہ کرکے اُمیدواروں کی غلط فہمی دور کی جانی چاہئے۔

متعلقہ خبریں