تاریخ کا حافظہ کمزور نہیں ہوتا

تاریخ کا حافظہ کمزور نہیں ہوتا

کے دو روزہ دورے کے دوران کپتان نے پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت پر بڑے نرم لہجے میں تنقید کی۔ پانی کے مسئلے پر نرم انداز میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بلاول بھٹو سے کہا کہ وہ اپنے والد سے پوچھیںکہ بغیر محنت کے ان کے پاس اتنی دولت کہاں سے آئی؟کپتان جس سخت لہجے میں نواز شریف اور شہباز شریف پر تنقید کرتے ہیں، آصف علی زرداری کیخلاف وہ لب ولہجہ استعمال نہیں کرتے حالانکہ آصف زرداری کے بارے میں پورا ملک جانتا ہے کہ شریف خاندان کیساتھ ساتھ ان کے اثاثوں میں بھی بے تحاشہ اضافہ ہوا۔ صرف یہی نہیں پیپلز پارٹی کی حکومت جو پانچ سال پہلے برسر اقتدار تھی، اس پر بحیثیت مجموعی بھی کرپشن کے سنگین الزامات ہیں لیکن کپتان اس جماعت کے لوگوں پر اس طرح گرجتے برستے نہیں جس طرح مسلم لیگیوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہیں۔ ان کے اس روئیے کی وجہ سے تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن کے کارکن سوشل میڈیا پر یوں ایک دوسرے پر گالیوں کی بوچھاڑ کر رہے ہیں جیسے جنم جنم کے دشمن ہوں۔ سوشل میڈیا پر ہونیوالی یہ لڑائی بسا اوقات سڑکوں اور گلیوں تک پہنچ جاتی ہے اور طویل عرصے سے باہمی احترام پر مبنی رشتے اس وقت کمزور پڑ جاتے ہیں جب فریقین کے درمیان لڑائی گالم گلوچ سے بڑھ کر ہاتھا پائی تک پہنچ جاتی ہے جو ایک ناروا بات ہے۔سیاست شائستگی، رواداری اور باہمی احترام کی حدوں کو کراس کر جائے تو حیوانیت بن جاتی ہے۔ اختلافات تحمل کی حد سے آگے نکل جائیں تو دشمنی بن جاتی ہے اور مجھے شدید خوف لاحق ہے کہ زمین سے لگی ہوئی پیپلز پارٹی سیاست میں جگہ بنانے کیلئے کہیں ان اختلافات کو ہوا دیکر دو پاپولر سیاسی جماعتوں کے درمیان لڑائی کو اس نہج پر نہ لے جائے کہ دونوں سیاسی جماعتوں کے سنجیدہ لوگ کف افسوس ملتے رہ جائیں۔ انسانوں کا حافظہ کمزور ہو سکتا ہے لیکن تاریخ کا حافظہ بہت مضبوط ہوتا ہے اور اسٹیبلشمنٹ کو تاریخ کے نقوش کا ایک ایک حرف یاد ہے اسلئے یہ غلط فہمی کہ اس کے اور نون لیگ کے اختلافات کا فائدہ اُٹھا کر پیپلز پارٹی اپنے ماضی سے پیچھا چھڑا کر پاک پوتر اور اسٹیبلشمنٹ کیلئے قابل قبول ہو جائے گی ناممکن بات ہے۔ نواز شریف کا فیصلہ ہو جانے دیں، اس کے بعد زرداری صاحب کی باری ہے اور یہ بات کپتان کو بھی معلوم ہے۔ عدلیہ جس رخ پر جا رہی ہے اس سے صاف عیاں ہو رہا ہے کہ کوئی بھی نہیں بچے گا۔ اگلی باری زرداری صاحب کی ہے کیونکہ جو کلین اپ آپریشن شروع ہو چکا ہے وہ اس وقت تک نہیں رکے گا جب تک سیاست کرپشن کی آلائشوں سے پاک نہیں ہو جاتی۔ وہ جو مخدوم جاوید ہاشمی جوڈیشل مارشل لا کی بات کیا کرتے تھے صاف نظر آرہا ہے لیکن زرداری صاحب یہ سمجھ رہے ہیں کہ نوازشریف کیخلاف کھڑے ہو کر وہ ’’اداروں‘‘ کی نظر میں صاف ستھرے ہو کر قابل قبول ہو گئے ہیں۔ ان کی یہ خوش فہمی بہت جلد دور ہونیوالی ہے اور وہ وقت بہت ہی قریب ہے جب نوازشریف کی طرح زرداری صاحب بھی عدالتوں کی پیشیاں بھگت رہے ہوں گے اور پیپلز پارٹی کے وہ راہنما جو آج اک زرداری سب پہ بھاری کا ورد کر کے قوم کو یہ کہہ کر بیوقوف بنانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ زرداری سیاست کے بادشاہ ہیں، اس ’’بادشاہ‘‘ کو پیادوں سے شہ مات کھاتے ہوئے دیکھیں گے۔ پیپلز پارٹی سندھ کے علاوہ پوری طرح فارغ ہو چکی۔ پنجاب میں صرف نون لیگ اور تحریک انصاف کا مقابلہ ہے۔ کے پی کے میں تحریک انصاف ایک بار پھر فیصلہ کن برتری حاصل کر لے گی کیونکہ اس صوبے کا پڑھا لکھا طبقہ تعلیم، پولیس اور میڈیکل کے میدان میں تحریک انصاف کی کامیابیوں کا دل سے معترف ہے اور مضبوط دلائل رکھتا ہے۔ بلوچستان میں کسی بھی بڑی سیاسی جماعت کو پزیرائی حاصل نہیں اور اگر سندھ میں الیکشن سے پہلے تحریک انصاف اور فنکشنل لیگ کا اتحاد ہو گیا تو اس صوبے میں بھی پیپلز پارٹی کا صفایا ہوتا نظر آئے گا اسلئے یہ طے شدہ بات ہے کہ بینظیر بھٹو کے بعد زرداری صاحب نے بھٹو کی جماعت کوجن ’’سمجھوتوں‘‘ کی نذر کیا، اس کے بعد پیپلز پارٹی کا پنجاب میں وجود ختم ہو گیا اور دوہزار اٹھارہ کا الیکشن پیپلز پارٹی کے وجود پر فیصلہ کن تازیانہ برسائے گا۔ اگر تو کپتان محض اسلئے زرداری صاحب سے رعایت کر رہے ہیںکہ شاید الیکشن سے پہلے سینیٹ کے علاوہ کچھ اور معاملات میں پیپلز پارٹی کی ضرورت پڑ سکتی ہے تو یہ سوچ دماغ سے نکال دیں کیونکہ انہوں نے اپنے ووٹر اور سپورٹر کو کرپشن کیخلاف کھڑا کیا ہے اور اگر انہوں نے کسی بھی سیاسی مجبوری کے تحت پیپلز پارٹی کو بیساکھی بنانے کی کوشش کی تو کرپشن کیخلاف ان کا چارج ووٹر اور سپورٹر ان سے بددل اور بدظن ہو جائے گا۔ زرداری صاحب اداروں کے بارے میں جو رائے رکھتے ہیں سب کو معلوم ہے اور یہ بھی سب کو پتہ ہے کہ الطاف حسین کی طرح اداروں کو لتاڑنے کے بعد اپنا الو سیدھا کرنے کیلئے زرداری صاحب ان کیساتھ محبت کا جو ناٹک رچا رہے ہیں اس کا مقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ کسی طرح اقتدار میں سے کچھ حصہ مل جائے کیونکہ ان کی زیرک شخصیت یہ جان چکی ہے کہ عوامی مقبولیت کے زور پر اب انہیں اقتدار نہیں ملنے والا اسلئے اداروں کی قربت حاصل کر کے کچھ نہ کچھ تو مل ہی جائے گا لیکن ایسا ہوگا نہیں اور کپتان یہ جانتے ہیں اسلئے وہ زرداری صاحب کو بھی اسی طرح آڑے ہاتھوں لیں جس طرح شریف برادران کو لیتے ہیں تاکہ ان کی اپنی شخصیت پر حرف زنی نہ ہو۔

اداریہ