مشرقیات

مشرقیات

قلیوبی ؒ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص مسجد میں سویا ہوا تھا اور اس کے پاس ایک تھیلی تھی جب وہ بیدار ہو تو ا س نے اپنی تھیلی نہ پائی اور حضرت امام جعفر ؒ کودیکھا کہ وہ نماز پڑھ رہے ہیں ۔یہ شخص امام صاحب ؒ سے الجھ گیا۔ امام صاحبؒ نے اس سے فرمایا کہ کیا بات ہے جو تو مجھ سے الجھ رہا ہے؟ اس نے کہا کہ میری تھیلی چوری ہوگئی ہے اور آپ کے علاوہ کوئی دوسرا میرے پاس نہیں ہے۔ حضر ت امام صاحبؒ نے فرمایا کہ تیری تھیلی میں کتنا مال تھا؟ اس نے کہا کہ اس میں ایک ہزار اشرفیاں تھیں ۔ حضرت امام جعفر ؒ اپنے مکان تشریف لے گئے اورایک ہزار اشرفیاں لا کر اس کے حوالہ کیں ۔ پھر جب وہ شخص اپنے ساتھیوں کے پاس گیا تو انہوںنے اس سے کہا کہ تیری تھیلی ہمارے پاس ہے۔ ہم نے تجھ سے مذاق کیا تھا۔وہ شخص اشرفیاں لے کر واپس آیا اور جس نے اس کو اشرافیاں دی تھیں۔ اس کے بارے میں دریافت کیا۔ لوگوں نے اس سے کہا کہ وہ رسول اکرم ؐ کی اولاد میں سے ہیں۔ چنانچہ وہ ان کے پاس گیا اور وہ اشرفیاں واپس کرنا چاہیں، لیکن امام صاحبؒ نے ان کو قبول نہ کیا اور فرمایا کہ ہم جب کوئی چیز اپنی ملک سے خارج کر دیتے ہیں ، تو پھر واپس نہیں لیتے۔
(انمول موتی )
خلیفہ سلیمان کے بعد عمر بن عبدالعزیزؒ اور ان کے بعد یزید ابن عبدالملک تخت دمشق کا مالک ہوا۔ اس زمانے میں یعنی 719ء کو الحربن سلیمان خلیفہ کی طرف سے امیر اسپین تھا۔ لیکن وہ نہایت جابر و سخت گیر حاکم تھا۔ دشمن تو دشمن دوست بھی اس سے نالاں تھے۔ کیا عیسائی کیا مسلمان سب اس کے ہاتھوں تنگ تھے۔
آخر اسپین کے چند لوگوں نے جان پر کھیل کر خلیفہ کے دربار میں ایک مراسلت بھیجی جس میں اس کے ظلم گنوائے اور اس کی ناانصافیوں کے واقعات لکھے۔ خلیفہ نے عرضی پڑھی اور فی الفور ایسے سخت گیر اور نا انصاف اور جابر حاکم کو جو تالیف قلوب کی پالیسی سے صریح ناواقف تھا‘ معزول کردیا۔ (تاریخ اسپین ص177:)
ابو العتاہیہ مہدی کے دربار کا ایک نامور شاعر تھا۔ خلیفہ نے ایک مرتبہ ایک قصیدہ کی فرمائش کی۔ ابو العتاہیہ نے صاف انکار کردیا۔ اس پر خلیفہ نے ناراض ہو کر قید خانہ میں ڈال دیا۔ وہاں ایک اور قیدی اس جرم میں تھا کہ وہ خلیفہ کو عیسیٰ ابن زید بن حارثہ کا پتہ نہیں بتاتا تھا۔ ابو العتاہیہ نے جواب دیا میں قید خانہ میں ہوں‘ مجھے کیا معلوم کہ اب وہ کہاں ہیں اور وہ اگر میرے کپڑوں اور میری کھال کے اندر بھی چھپے ہوتے تو بھی میں اس بے گناہ کا خون اپنی گردن پر نہ لیتا۔ چنانچہ خلیفہ کے حکم سے اس کی گردن اڑادی گئی‘ لیکن اس نے پتہ نہ بتایا۔
(مشاہیر الاسلام)
ظلم اور جبر کے آگے اگر لوگ خاموش رہیںگے تو یہ ظالم کے ہاتھ مزید مضبوط کرنا ہے بلکہ اپنے اوپر بھی ظلم کے مترادف ہے۔ حاکم وقت کے سامنے حق بات کہنا اور اپنے جائز حق کے لئے آواز بلند کرنا بھی جہاد ہے۔ شرط یہ ہے کہ جائز ہو فساد فی الارض کا باعث نہ بنے۔

اداریہ