Daily Mashriq

نیوزی لینڈ میں مسلمانوں سے اظہار یکجہتی اور ہم۔۔!!

نیوزی لینڈ میں مسلمانوں سے اظہار یکجہتی اور ہم۔۔!!

نیوزی لینڈ میں مساجد پر حملے اور بے گناہ مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے واقعے کے بعد دنیا بھر میں مسلمانوں کیساتھ جس قسم کا اظہار یکجہتی سامنے آیا ہے اور مسلمانوں کیخلاف نفرت کی لہر پر محبت اور ہمدردی کی جو تہہ چڑھنے لگی ہے اسے اگر شہیدوں کا خون رنگ لانے سے تشبیہہ دی جائے تو غلط نہ ہوگا۔ وہ شہداء جن کے جسد خاکی ابھی سپردخاک بھی نہیں کئے جاسکے ہیں، دنیا میں مسلمانوں کے حوالے سے شدت پسندانہ جذبات اور مسلمانوں کو شدت پسند تصور کئے جانے کے خیال کی اس واقعے کے بعد ایسی نفی ہوگئی ہے جس کا تصور بھی نہ تھا۔ سب سے مشکل کام رائے سازی اور اس سے بھی زیادہ مشکل امر ذہن کی تبدیلی ہوتی ہے۔ اس واقعے کے بعد دنیا میں جو ردعمل سامنے آیا اس سے کم ازکم اس بات کا ضرور احساس ہونے لگا ہے کہ مسلمانوں کے حوالے سے دنیا میں لوگوں کی رائے تبدیل ہو رہی ہے اس کا اولین کریڈٹ اگر نیوزی لینڈ کی جوانسال خاتون وزیراعظم کو دیا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ یہ درست ہے کہ نیوزی لینڈ کی حکومت مسلمانوں کا تحفظ نہ کرسکی لیکن اس پر جس طرح کی عملی ندامت کا اظہار اس معاشرے میں مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کی صورت میں سامنے آیا ہے وہ ناقابل بیان ہے۔ اگر اسلامی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے اور اسلاف میں مثالیں تلاش کی جائیں یا پھر من حیث المجموع ایک مسلمان کی ذمہ داری یا کم ازکم خواہش ہی کا جائزہ لیا جائے تو بلا رنگ ونسل اور تقویٰ ومعصیت کمزور سے کمزور اور واجبی سے واجبی مسلمان کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ خواہ جو بھی قیمت ادا کرنی پڑے کلمہ اور اسلام کا تعارف ہو۔ نیوزی لینڈ کی پارلیمنٹ کے اجلاس میں ایک سفید ریش مسلمان عالم دین کی تلاوت کلام پاک کے موقع پر اراکین پارلیمنٹ جس احترام کیساتھ ساکت دکھائی دئیے اس کی توفیق ہم اسلام کے دعویداروں میں کم ہی دیکھی جاسکتی ہے۔ اب جمعہ کے موقع پر سرکاری ذرائع ابلاغ سے اذان نشر ہونے کا فیصلہ نیوزی لینڈ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پورے ملک میں بلکہ جہاں جہاں ان کی نشریات سنی اور دیکھی جائیں وہاں مالک کائنات کی طرف رجوع اور نماز کی طرف بلانے کی آواز گونجے گی اور اس کے رسولوں وپیغمبروں کا وہ پیغام پہنچے گا جس کیلئے انہوں نے زندگی بھر سخت محنت کی اور صعوبتیں جھیلیں۔ نیوزی لینڈ میں ایک افسوسناک واقعہ ضرور رونما ہوا اپنے مسلمان بھائیوں کو بچانے کیلئے جان کی پرواہ نہ کرنے اور نہتے ہونے کے باوجود دونوں مقامات پر بندوق برداروں کا راستہ روکنے کی جو کوششیں سامنے آئیں اگر اس سعی کو وہاں کے معاشرے کے خصوصی تناظر میں دیکھیں تو یہ وہ ناقابل بیان ایثار وقربانی کے جذبے کا اظہار تھا جس سے مسلمان سرشار ہیں۔ اس واقعے کے پہلوؤں اور اثرات پر اگر جذبات میں آئے بغیر غور کیا جائے تو حیرت انگیز قسم کے جذبات سامنے آتے ہیں اور دل گواہی دینے لگتا ہے کہ یہ یورپ میں اشاعت اسلام کی بنیاد نہ سہی لیکن مسلمانوں سے ہمدردی اور ان کے حوالے سے غلط فہمیوں کے ازالے کا باعث واقع ضرور تھا۔ اس واقعے کا ایک اور سبق آموز پہلو یہ ہے کہ جس طرح وہاں کی خاتون وزیراعظم نے سیاہ ماتمی لباس پہن کر اور خلاف روایت سیاہ دوپٹہ اوڑھ کر ماتم کناں مسلمانوں کو پرسہ دینے آئیں اور اپنے شہریوں کے تحفظ میں ناکامی پر اظہار افسوس کرتے ہوئے اعتراف غلطی کا اظہار کیا اور کوئی توجیہہ اور عذر پیش کرنے کی بجائے عذر خواہی کی، وہ اپنی ذمہ داریوں کے احساس اور حکومتی اداروں کی ناکامی کا کھلے دل سے اعتراف تھا۔ اس آئینے میں اگر ہم اپنے حکمرانوں کا رویہ وکردار دیکھیں تو یہاں سانحہ ماڈل ٹاؤن ہو یا ساہیوال میں بے گناہ خاندان کو بھون دینے کا واقعہ دل نہ صرف خون کے آنسو روتا ہے بلکہ سوچ سوچ کر چلو بھر پانی میں ڈوب مرنے کو دل کرتا ہے کہ دونوں واقعات قانون نافذ کرنے والے اداروں‘ وردی پوشوں اور سرکاری بندوقوں اور احکامات پر وقوع پذیر ہوئے۔ ظالم اور مظلوم دونوں ہم مذہب‘ ہم زبان ہم قوم وملت اور خونریزی وبربریت ایسی کہ خدا کی پناہ، مستزاد ہمارے حکمرانوں کا رویہ دیکھیں اور تحقیقات کے ڈھکوسلے پر غور کریں۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقات درتحقیقات جاری ہیں اور اب تک بیانات لئے جا رہے ہیں۔ سانحہ ساہیوال دبا دیا گیا اور تحقیقات کا وہ فوری اور واضح نتیجہ سامنے نہیں آیا جس قسم کا واضح واقعہ رونما ہوا تھا۔ حکمرانوں خواہ وہ سابق تھے یا موجودہ ہر دو کے روئیے میں فرق ڈھونڈنا مشکل ہے۔ ایک ایسے وقت میں ایک ایسے دن جب نیوزی لینڈ کے شہداء کے خون کی چھینٹیں پوری طرح سوکھ بھی نہیں گئی تھیں پاکستان کے مسلمان پی ایس ایل کے فائنل سے جوش وخروش اور اس احساس سے عاری ہو کر محظوظ ہوئے جیسا کچھ ہوا ہی نہیں۔ حکومت نے بھی اگلے دن سرکاری طور پر سوگ منانے کا ڈرامہ کیا اور قوم نے بھی دکھاوے کا سوگ منایا۔ کیا یہ واقعہ ہمیں اپنے کردار وعمل‘ اپنے طرزعمل اور اغیار کے طرزعمل کے موازنے اور غور وفکر کی پکار پکار کر دعوت نہیں دے رہا۔ غور کریں تو ہم خود ہی کٹہرے میں کھڑا دکھائی دیں گے‘ اغیار سے کیا گلہ؟۔

متعلقہ خبریں