Daily Mashriq

خیبرپختونخوا اسمبلی کے بے وقعت اجلاس

خیبرپختونخوا اسمبلی کے بے وقعت اجلاس

سپیکر کی رولنگ کے باوجود خیبر پختونخوا اسمبلی کی کارروائی میں وزراء، مشیر اور معاونین خصوصی کی عدم شرکت اور عدم دلچسپی عوامی نمائندگی سے احتراز ہی نہیں بلکہ یہ عوامی مینڈیٹ کی توہین اور ذمہ داریوں سے انحراف ہے حاصل شدہ مراعات اور تنخواہ کی وصولی کے باوجود ذمہ داریوں سے فرار تو عام بات ہے جسے بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں عیب سمجھنے کا رواج ہی نہیں۔ سپیکر کا اس صورتحال پر اظہار برہمی اور اسمبلی سیکریٹریٹ میں نیا نظام متعارف کراکے حکومتی معاملات میں پیشرفت اور یقین دہانیوں کا جائزہ لینے کے انتظام کی تو مخالفت نہیں کی جاسکتی لیکن جہاں خود حکومتی مشینری کے اہم پرزوں کو خود احساس نہ ہو وہ اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہوں عہدے لینے کے باوجود ذمہ داریوں سے فرار اور مراعات وسہولیات کا حصول مرغوب جہاں اراکین وعہدیداران اسمبلی کے اجلاسوں اور سپیکر کی رولنگ کو بے وقعت کرنے سے باز نہ آئیں وہاں ان چھلاوؤں کی نگرانی اور ان کو پابند وذمہ دار بنانے کا یہ اقدام بھی عبث ہوگا۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو بطور قائد ایوان ان سارے معاملات کا نوٹس لینا چاہئے اور پارلیمانی لیڈروں کو اپنے اراکین اسمبلی کو بلاوجہ اسمبلی اجلاسوں سے غیرحاضر رہنے پر بازپرس کر لینی چاہئے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس امر کو یقینی بنانے کیلئے سب سے ضروری اور عملی قدم یہ ہوسکتا ہے کہ وزیراعلیٰ خود پابندی کیساتھ اسمبلی اجلاسوں میں شرکت کو یقینی بنائیں تاکہ ان کی جماعت کے اراکین اور اراکین کابینہ کاہلی اور غفلت کا شکار نہ ہوں اور وہ ایوان کے اجلاسوں کو وقعت دینے لگیں۔

ہندو نہیں ہندوستان، ایک ضروری تصحیح

خیبر پختونخوا اسمبلی میں اقلیتی رکن روی کمارکا ایوان میں پاکستان سے اپنی جذباتی وابستگی کا اعادہ اور ایک فاضل رکن کے الفاظ پر اعتراض سنجیدہ معاملات اس لئے ہیں کہ یہ ہندو برادری کا بھی ملک ہے اور ان کو پورا حق حاصل ہے کہ وہ زبان کی پھسلن سہو یا پھر جان بوجھ کر ادا شدہ الفاظ پر ردعمل دیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز اسمبلی اجلاس کے دوران پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر شیراعظم وزیر نے غیردانستہ طور پر ہندو کا لفظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ ہندو ان کے دشمن ہیں جس پر اقلیتی رکن روی کمار نے انتہائی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں رکن اسمبلی کی جانب سے لفظ ہندو استعمال کرنے پر دل آزاری ہوئی ہے۔ ہندوستان اور ہندو میں فرق ہے اور اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ رکن اسمبلی کو ہندو کی بجائے ہندوستان کا لفظ استعمال کرنا چاہئے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پی پی کے رکن اسمبلی نے ہندوکا جو لفظ سہواً استعمال کیا ہے اور بعد ازاں نشاندہی پر انہوں نے معذرت کرکے معاملہ صاف کرنے میں ذرا دیر نہ ہچکچائے اس کے بعد معاملہ ختم ہو جانا چاہئے لیکن اگر دیکھا جائے تو اس سہو کا ارتکاب صرف ایوان میں ہی نہیں ہوا بلکہ عام طور پر بھی ہندوستان، بھارت اور انڈیا کا ہم پلہ اور ہم معنی لفظ کے طور پر ہندو کا استعمال ہوتا ہے جس کی گنجائش نہیںچونکہ اب تک یہ غلط العام تھا اور بے دھیانی میں یا پھر جذبات میں آکر اس کا استعمال ہوتا آیا ہے جس کی اب نشاندہی کے بعد اعادہ نہیں ہونا چاہئے۔ الفاظ کے استعمال میں احتیاط مہذب گفتگو کا بنیادی جز ہے جہاں اقلیتوں کا معاملہ ہو وہاں دل آزاری پر مبنی گفتگو سے احتراز مزید ضروری ہو جاتا ہے۔

حکومتی نظرکرم کے منتظر دیربالا کے مخدوش سکول

دیربالا میں 30سے زائد سرکاری سکولوں کی عمارتوں کو مخدوش قرار دیدیا گیا ہے، ان میں کئی کے کسی بھی وقت منہدم ہونے کا خطرہ ہے۔ سکولوں کی ازسرنو تعمیر یا مرمت نہ ہونے کی وجہ سے سینکڑو ں طلباء وطالبات کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔ علاوہ ازیں دیر کے مختلف سکولوں میں بچوں کی بارش میں چھتری تان کر اور برف پر بیٹھ کر پرچہ حل کرنے کی ویڈیوز بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر دیکھنے کو ملتی ہیں جسے دیکھ کر ہر صاحب اولا کا دل پسیج جانا فطری امر ہے۔ دیربالا کے سکولوں کی مخدوش حالت کی ہمارے نمائندے کی جو تفصیلی رپورٹ شامل اشاعت ہو چکی ہے اس بارے مزید کچھ کہنے کی گنجائش نہیں، سوائے اس کے کہ حکومت فوری طور پر محولہ دونوں مسائل کے حل پر توجہ دے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ دیربالا میں سکولوں کی صورتحال مخدوش سکولوں کی تعمیرنو کے منصوبے یقینا حکومت کے زیرنظر ہوںگے اور اُن پر کام بھی ہو رہا ہوگا چونکہ حکومتی کاموں میں تاخیر معمول مشاہدہ اور تجربہ ہے اس لئے ہم خصوصی طور اس امر کی گزارش کرنا چاہیں گے کہ محولہ مسائل کے حل میں تاخیر کی ایک دن بھی گنجائش نہیں حکومت کو اس امر کا احساس ہونا چاہئے کہ خدا نخواستہ کسی حادثے کی صورت میں کیا نتائج سامنے آئیں گے بہتر ہوگا کہ یہ نوبت نہ آنے دی جائے اور حکومت جلد سے جلد سکولوں کی تعمیرنو اور مرمت کیساتھ ساتھ طالب علموں کو موزوں ماحول میں حصول تعلیم اور امتحان دینے کی سہولت فراہم کرے۔

متعلقہ خبریں