Daily Mashriq

نیوزی لینڈ جیسے واقعات کا تدارک کیسے ممکن ہے؟

نیوزی لینڈ جیسے واقعات کا تدارک کیسے ممکن ہے؟

جمعہ کے روز نیوزی لینڈ میں آسٹریلیا کے 28سالہ شخص برینٹن ٹیرنٹ نے دو مساجد النور اور لندووڈ میں جدید اسلحے سے فائرنگ کرکے 50 نمازی شہید کئے جبکہ 90 کے قریب زخمی ہوئے۔ ان میں 9نمازیوں کا تعلق پاکستان سے ہے۔ ایبٹ آباد سے تعلق رکھنے والے نعیم راشد نے بہادری سے مزاحمت کی کہ اس سفاک سے اسلحہ چھینا جائے مگر اس ناکام کوشش میں نعیم راشد نے اپنے بچے سمیت جام شہادت نوش کیا۔ اگر تجزیہ کیا جائے تو اس واقعہ کے بہت سارے پہلو ہو سکتے ہیں مگر ان میں چھ باتیں بہت اہم ہیں: 1) اہل مغرب کی مذہبی انتہا پسندی اور مسلمانوں کیساتھ ناروا سلوک اور دنیا میں مسلمانوں کو دہشتگرد کی نظروں سے دیکھنا۔ 2) بیرون ممالک اور خاص طور پر مغربی ممالک میں تارکین وطن مسلمان۔ 3) اسلامو فو بیا۔ 4) مسلمانوں کا کمزور میڈیا۔ 5) مسلمانوں کی سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں کمزوری اور خاص طور پر دفاعی ٹیکنالوجی کی کمی۔ 6) مسلمانوں میں اتفاق اور اتحاد کی کمی۔ یہ ایسی وجوہات معاملات ہیں جن کی وجہ سے (سب نہیں) بلکہ چند فیصد اہل مغرب مسلمانوں کیساتھ اچھا برتاؤ نہیں کرتے اور آئے دن اسلامی ممالک کیخلاف زور اور طاقت کا استعمال کرتے ہیں۔ لیبیا، شام، عراق، مصر، کشمیر کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ اگر ہم تجزیہ کریں تو 57اسلامی ممالک کے پاس دنیا کا 70فیصد وسائل ہونے کے باوجود بھی نااہل مسلمان حکمران عوام کی سماجی اقتصادی حالت میں کوئی تبدیلی نہیں لاسکے، نتیجتاً مسلمان بہتر مستقبل کی تلاش میں یورپ اور دوسرے ترقی یافتہ ممالک قانونی اور غیرقانونی طریقوں سے چلے جاتے ہیں مگر وہاں مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری سمجھا جاتا ہے۔ اگر ہم نیوزی لینڈ کی جغرافیہ، اقتصادی اور تعلیمی حالت پر نظر ڈالیں تو نیوزی لینڈ کا کل رقبہ تقریباً 3لاکھ مربع کلومیٹرہے۔ آبادی 42لاکھ جس میں 50ہزار مسلمان ہیں اور 75فیصد سفید فام ہیں۔ جس کی فی کس آمدنی 42ہزار ڈالر ہے، نیوزی لینڈ کے زرمبادلہ کے ذخائر 21ارب ڈالرز ہیں، تعلیمی لحاظ سے 200ممالک کی فہرست میں 16ویں نمبر پر اور اچھی جمہوریت اور جمہوری اقدار کی وجہ سے 196ممالک میں چوتھے نمبر پر ہے۔ مندرجہ بالا عوامل کی وجہ سے نیوزی لینڈ جیسے ملک میں یہ تصور نہیں کیا جا سکتا کہ اس ملک میں اس قسم کی دہشتگردی کا واقعہ رونما ہو۔ آسٹریلیا کے وزیراعظم اسکوٹ موریسن نے اس واقعہ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مساجد پر حملہ کرنے والا ایک انتہا پسند اور پرتشدد دہشتگرد ہے۔ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا متاثرہ مسلمانوں کے گھر گئیں اور انہیں ہر قسم کی یقین دہانی کرائی۔ آسٹریلیا کے اس دہشتگرد نے کہا کہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کو سفید فام یورپین کا ہیرو مانتا ہوں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس واقعے پر مگرمچھ کے آنسو بہاتے ہوئے کہا کہ عبادت گاہوں کو مقتل گاہ بنایا گیا۔ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ مساجد کے قریب اسلحے سے بھری ہوئی ایک مشکوک گاڑی بھی پکڑی گئی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملزم اس قسم کے حملوں کو جاری رکھنا چاہتا تھا۔ حملہ کرنے سے پہلے ملزم حملہ آور نے اپنا ایک آئین اور دستور بھی بنایا تھا جس میں اس نے تاریک وطن کو انتہائی ہتک آمیز اور برے الفاظ میں یاد کیا اور کہا کہ یہ لوگ تاریک وطن نہیں بلکہ حملہ آور ہیں۔ 74صفحات پر مشتمل ایک آئین اور دستور میں حملہ آور نے اپنے آپ کو متوسط خاندان کا ایک فرد اور امریکی صدر کو اپنا آئیڈیل گردانا۔ دوسری طرف ترکی کے صدر طیب اردوان، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل، سعودی عرب، اُردن، لبنان، قطر، ملائیشیا، انڈونیشیا نے مساجد پر حملے اور مسلمانوں کو شہید کرنے کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ وزیراعظم عمران خان نے دہشتگردی اور انتہا پسندی کے ان حملوں کو اہل مغرب کا اسلامو فوبیا کہا جو 9/11 کے بعد انتہا پر ہے اور جس کا مقصد اسلام اور دو ارب مسلمانوں کو اجتماعی طور پر دہشتگرد ٹھہرانا ہے۔ مغربی میڈیا کے ذریعے مسلمانوں کو انتہا پسند اور دہشتگرد کی شکل میں پیش کرکے لوگوں کے ذہنوں میں نفرت کے جذبات اُبھارے جا رہے ہیں اور امریکہ اور اتحادیوں نے مصر، لیبیا، عراق، شام اور دیگر اسلامی ممالک پر بلاجواز مختلف بہانے بناکر چڑھائی کی حالانکہ امریکہ اور اتحادی خود یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ انہوں بغیر کسی دستاویزی ثبوت کے ان ممالک پر حملہ کیا۔ اگر مسلمانوں کا میڈیا مضبوط ہوتا تو کم ازکم مغرب کے مسلمانوں کیخلاف منفی پروپیگنڈے کا مقابلہ کرتا مگر افسوس ایسا نہیں۔ اسلام جس تیزی سے پھیل رہا ہے یہودی اور عیسائی اس سے سخت پریشان ہیں اور آئے دن مسلمانوں اور اسلام کیخلاف زہریلا پروپیگنڈہ کرکے اپنے عوام کے ذہنوں میں زہر انڈیل رہے ہیں۔ مذکورہ دہشتگرد یہودیوں کی طرح سفیدفاموں کو یورپ کا اصل شہری سمجھتے ہیں اور باقی سب کو شودر کی طرح دونمبر کے شہری سمجھتے ہیں۔ اگر اس آسٹریلوی دہشتگرد کی بندوق پر لکھے ہوئے الفاظ کو سمجھا جائے تو اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس نے مسلمانوں کیخلاف پوری تاریخ پڑھی تھی اور وہ اب مسلمانوں سے بدلہ لینا چاہتا تھا۔ اگر امریکہ اور اتحادی اور دوسرے یورپی ممالک نے مداخلت بند نہ کی تو اس سے دنیا کا امن تباہ وبرباد ہو سکتا ہے۔ دراصل حقیقت یہ ہے کہ جب تک مسلمان سائنس اور ٹیکنالوجی اور تعلیم میں یورپ اور امریکہ کے ہم پلہ نہیں ہوںگے اس وقت تک مسلمان ان کے ظلم اور زیادتی کا شکار بنیںگے اور عزت کیساتھ ان کا جینا حرام ہوگا۔

متعلقہ خبریں