Daily Mashriq

روئیں گے ہم ہزار بار۔۔۔

روئیں گے ہم ہزار بار۔۔۔

عقل و دل کی بحث بڑی پرانی ہے کسی کے نزدیک عقل کی اہمیت مسلمہ ہے اور کوئی دل ہی کو سب کچھ سمجھتا ہے ان دو انتہائوں کے درمیان دل و دماغ بیچارے پس کر رہ گئے ہیں۔انسان کی شخصیت میں یہ دونوں پرزے بڑی اہمیت کے حامل ہیں : اچھا ہے دل کے ساتھ رہے پاسبان عقل لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے بات تو درست ہے زندگی کوئی حساب کا سوال تو نہیں ہے جس کا صحیح جواب جمع تفریق سے ہی نکالا جاسکتا ہے۔ زندگی ایک ایسا سوال ہے جس کا درست جواب ڈھونڈنکالنا صرف عقل کے بس کی بات نہیں ہے۔

خیال خاطر احباب چاہیے ہردم انیس

ٹھیس نہ لگ جائے آبگینوں کو

ہر وقت تنقید ، ہر وقت نکتہ چینی، دوسروں کے حالات پر تبصرے، دانش وری بگھارنا، علمیت جھاڑنا ، اپنے آپ کو عقل کل سمجھنا اور دوسروں کو طفل مکتب ! یہ لکھاریوں کے چونچلے ہیں کیونکہ قلم ان کے رحم و کرم پر ہوتا ہے اس لیے جو چاہے لکھتے چلے جاتے ہیںاور لکھاری ہونے کے زعم میں یہ بھول جاتے ہیں کہ قلم کی اپنی ذمہ داریاں ہوتی ہیں ۔یہ پل صراط کا سفر ہے اس میں ہر قدم پھونک پھونک کر رکھناپڑتا ہے دوسروں کے دل نازک کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے حضرت دل کے بارے میں بہت کچھ لکھا گیا بہت کچھ کہا گیا شعراء کرام نے دلی کیفیات پر دیوان کے دیوان سیاہ کردیے۔ صوفیاء کے یہاں تو حضرت دل کی بڑی اہمیت ہے بلکہ صوفیانہ مکاتب فکر میںتو دل کو عقل پر برتری حاصل ہے۔ صوفیاء کی ایک جماعت کا کہنا ہے کہ سب سے اچھا عمل عجز و نیا ز ہے اور دوسرے درجے پر دل آزاری سے پرہیز اور بردباری ہے۔ یہی وہ اعمال ہیں جو انسان کے لیے اللہ کریم کی قربت کا سبب بن جایا کرتے ہیں ہم اپنے اردگرد موجود لوگوں کے دلوں کا کتنا خیال رکھتے ہیں ؟ ہمارا رویہ کچھ اس قسم کا ہوتا ہے تجھے پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑتو!یقینا صورتحال بہتر نہیں ہے ہمارے پڑوسی ہم سے نالاں ہیں ہمیں ان کے حقوق کا خیال نہیں ہے ہم ایسے کاموں سے پرہیز نہیں کرتے جو ان کی دل آزاری کا سبب بنتے ہیں۔ہمارے معاشرتی رویے ہمارے قول و فعل کے تضادات کی چغلی کھاتے دکھائی دیتے ہیں ہمارے شور کی وجہ سے پڑوس میں رہنے والا طالب دلجمعی سے مطالعہ نہیں کرسکتا یا پھر گلی محلے کی مساجد میں لائوڈ سپیکر کا بے تحاشہ اور ہمہ وقت استعمال آس پاس کے رہنے والوں کے لیے باعث اذیت ہوتا ہے ! ہمارے محترم ڈاکٹر حضرات کا رویہ اپنے مریضوں کے ساتھ بہت ہی حوصلہ شکن ہوتا ہے۔ ایک سادہ اور ان پڑھ مریض کو اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ اسے حوصلے اور سکون کے ساتھ اچھی طرح دوائیوںکے استعمال کے بارے میں ہدایات دی جائیںلیکن ہمارے مسیحائوں کی اکثریت اس طرز گفتگو سے ناآشنا ہوتی ہے وہ ایک ہی مرتبہ دوائی کا طریقہ استعمال اور اوقات انتہائی بے زاری اور تیزی سے بڑے کھردرے انداز میں مریض کے گوش گزار کردیتے ہیںوہ بیچارا حیران و پریشان ڈاکٹر کا منہ دیکھتا رہ جاتا ہے۔ اس کے برعکس جب کسی مریض کا واسطہ کسی ہمدرد اور خوش مزاج ڈاکٹر سے پڑتا ہے تو اس کی آدھی بیماری تو اس کے شائستہ اور ہمدردانہ رویے سے ہی اچھی ہوجاتی ہے۔ ویسے دل آزاری کا شعبہ اس حوالے سے اچھا خاصہ خودکفیل ہے کہ یہاں ہر شخص دوسروں کی دل آزاری پر تلا ہوا ہے اکثر اخبارات میں واپڈا کے حوالے سے دل دکھادینے والی خبریں پڑھنے کو ملتی ہیںکہ فلاں علاقے میں بجلی کی آنکھ مچولی رات بھر جاری رہی ہلکی پھلکی بارش کے شروع ہوتے ہی بجلی وقفے وقفے سے آنا جانا شروع کردیتی ہے۔ آج کی تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ واپڈا والوں کی دیکھا دیکھی سوئی گیس کے ارباب اختیار نے بھی دل دکھانے کا کاروبار شروع کردیا ہے۔ گیس پشاور شہر کے بہت سے علاقوں میں بس تھوڑی دیر کے لیے قدم رنجہ فرماتی ہے اور پھر غائب ہوجاتی ہے اور پھر مہینے کے اختتام پر جب صارفین کا پالا ہیوی ویٹ قسم کے بلوں سے پڑتا ہے تو انہیں چھٹی کا دودھ یاد آجاتا ہے۔ کل ایک صاحب کہہ رہے تھے کہ جیسے ہی گیس کے بل آنے کے دن قریب آنے لگتے ہیں ان کا بلڈ پریشر بے تحاشہ بڑھ جاتا ہے۔ جب سفید پوش آدمی ہزاروں روپے کے بل دیکھے گا تو یقینا اس کے بلڈ پریشر نے تو بڑھنا ہی ہے۔ بلڈ پریشر سے ہمیں آج کل ٹماٹروں ، مرچوں اور سبزیوں کی قیمتیں یاد آگئی ہیں۔ سیب سستے ہیں اور ٹماٹر مہنگے !اسی طرح پیاز کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کر رہی ہیں جس طرح کشمیر پاکستان کا اٹوٹ انگ ہے بالکل اسی طرح ٹماٹر اور پیاز بھی ہنڈیا کے اٹوٹ انگ ہیں۔آج کا کالم دل آزاری کے حوالے سے ہے اسی لیے بات ٹماٹر و پیاز تک آپہنچی ہے دراصل سبزیاں ، پیاز، ٹماٹر مرچیں ہم سب کی ضرورت ہیں۔ غریب آدمی کے گھر کا چولہا جلتے رہنا چاہیے جبکہ ہم اسے بجھانے کی کوششوں میںمصروف ہیں۔اشیائے ضرورت کی قیمتیں اس وقت آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ آج کل سبزی فروش کا سامنا کسی سفید پوش کے لیے جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ آپ کو ایک سو روپے کلو میں وہ ٹماٹر خریدنے پڑ رہے ہیں جن پر سرخی برائے نام بھی نہیں ہوتی۔ ان یرقان زدہ ٹماٹروں کو دیکھ کر دل نہ صرف دھڑکنا بھول جاتا ہے بلکہ انہیں ٹماٹر ماننے سے بھی انکار کردیتا ہے غالب نے شاید اسی لیے کہا تھا :

دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں

روئیں گے ہم ہزار بار کوئی ہمیں ستائے کیوں

متعلقہ خبریں