Daily Mashriq


سمندر سے ملے پیاسے کو شبنم

سمندر سے ملے پیاسے کو شبنم

قومی اقتصادی کونسل نے آئندہ مالی سال 2017-18ء کے لئے پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے ترقیاتی بجٹ 2113 ارب روپے کی منظوری دے دی ہے۔ پنجاب کے لئے 600' سندھ کے لئے 263' خیبر پختونخوا کے لئے 202 اور بلوچستان کے لئے 75 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ انفراسٹرکچر کے لئے 411،این ایچ اے کے لئے320' توانائی منصوبوں کے لئے 404 اور سی پیک کے لئے 180ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ بجٹ میں صوبوں کا دس فیصد حصہ زیادہ رکھا گیا ہے جبکہ ترقی کی شرح 6فیصد مقرر کردی گئی ہے۔ ابھی محولہ بجٹ نے پارلیمنٹ سے منظوری کے مراحل سے گزرنا ہے اور اس میں رد و بدل کا بھی امکان موجود ہے۔ تاہم اصل مسئلہ صوبوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کاہے۔ خیبر پختونخوا حکومت نے آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں صوبے کے تجویز کردہ منصوبے شامل نہ کرنے اور رواں مالی سال پی ایس ڈی پی منصوبوں کے لئے صرف 30 فیصد فنڈز جاری کرنے کے خلاف قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں بھرپور احتجاج کیا ہے جبکہ وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں خیبر پختونخوا حکومت کے تجویز کردہ متعدد منصوبے شامل کرنے کی یقین دہانی کرادی ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف کی صدارت میں منعقد ہونے والے قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں جو گزشتہ روز اسلام آباد میں منعقد ہوا خیبر پختونخوا حکومت کی ٹیم نے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کی سربراہی میں وفاقی بجٹ میں صوبہ کو نظر انداز کرنے کے خلاف بھرپور احتجاج کیا اور موقف اپنایا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے صوبہ خیبر پختونخوا کو اس کے جائز حق سے محروم رکھ کر بار بار نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کے لئے کے پی حکومت نے جو منصوبے وفاق کو ارسال کئے تھے وہ پی ایس ڈی پی میں شامل نہیں کئے گئے ہیں۔ رواں سال بھی پی ایس ڈی پی میں شامل تین منصوبوں کو ڈراپ کیا گیا جبکہ رواں مالی سال 2016-17ء کے دوران صوبے کو منصوبوں کے لئے صرف 30فیصد فنڈز جاری کئے گئے جو ناکافی اور صوبے کے عوام کو ترقی سے محروم رکھنے کی سازش ہے۔ صوبائی وزیر خزانہ مظفر سید نے ایک قومی اخبار کے ساتھ گفتگو کے دوران اس بات کی تصدیق کی کہ جمعرات کے روز پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ اور جمعہ کو قومی اقتصادی کونسل میں صوبے کے حقوق کے لئے بھر پور احتجاج کیاگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال کے دوران صوبے میں پی ایس ڈی پی منصوبوں کے لئے جو رقم مختص کی گئی تھی اس کا صرف تیس فیصد جاری کیا گیا ہے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں شامل کرنے کے لئے تین اہم منصوبے مشاورت سے بھجوائے گئے تھے جن میں پشاور کے عوام کو ورسک ڈیم سے پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور نوشہرہ سے اٹک تک جی ٹی روڈ کی از سر نو تعمیر سمت مختلف مقامات پر 20چھوٹے ڈیموں کی تعمیر شامل تھی تاہم وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے پی ایس ڈی پی میں ان میں سے کوئی منصوبہ بھی شامل نہیں کیا۔ امر واقعہ یہ ہے کہ وفاقی حکومت کا چھوٹے صوبوں کے ساتھ روا رکھا جانے والا نا مناسب رویہ کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ قیام پاکستان کے بعد ایک مخصوص لابی جو ملک کے سیاہ و سفید پر بھرپور دسترس رکھتی ہے اسی روئیے پرکار بند ہے۔ اس سلسلے میں وحدت مغربی پاکستان کے دور میں سابق مشرقی پاکستان کے ساتھ بھی یہی رویہ اختیار کیا جاتا رہا جیسا کہ خیبر پختواخوا کی حکومت نے شکایت کرتے ہوئے بتایا ہے کہ رواں مالی سال کے ترقیاتی منصوبوں کے لئے صرف تیس فیصد فنڈز فراہم کئے گئے ہیں جس کا صرف یہی مقصد بنتا ہے کہ محولہ ترقیاتی منصوبے اس سال تکمیل کے عمل سے نہیں گزر سکیں۔ اسی قسم کی بد قسمتی کا سابق مشرقی پاکستان کو بھی سامنا کرنا پڑتا تھا اور وہاں کے میگا پراجیکٹس کے لئے اپریل کے اواخر سے مئی کے اواخر تک فنڈز جاری کئے جاتے تھے تاکہ منصوبوں پر معمولی پیش رفت ہوسکے اور پھر باقی کے فنڈز لیپس ہو کر واپس قومی خزانے میں جمع ہو جائیں۔ یعنی وہی طریق کار اب بھی آزمایا جا رہا ہے اور پرانی شراب نئی پیکنگ کے ساتھ چھوٹے صوبوں کو فروخت کی جا رہی ہے۔ اس کے مقابلے میں صوبہ پنجاب پر فنڈز کی موسلا دھار بارش برسائی جا رہی ہے تاکہ وہ صوبہ ترقی کرے اور چونکہ موجودہ وفاقی حکومت کو زیادہ نشستیں وہیں سے ملتی ہیں اس لئے وہاں زیادہ سے زیادہ فنڈز خرچ کرکے آئندہ انتخابات میں دوبارہ اکثریت حاصل کرنے کی گیم کھیلی جا رہی ہے۔ قابل افسوس امر یہ ہے کہ ایک جانب حکومت ملک میں بجلی کی قلت کا رونا رو رہی ہے مگر دوسری جانب خیبر پختونخوا کے بالائی علاقوں میں پانی کے وسیع ذخائر کو بروئے کار لا کر ان سے ممکنہ اور مجموعی طور پر 80 ہزار میگا واٹ سستی ترین پن بجلی کے حصول کے لئے صوبائی حکومت کے پیش کردہ منصوبوں سے استفادہ کرنے کو تیار نہیں ہے بلکہ نسبتاً کوئلے' گیس' فرنس آئل اور دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی مہنگی ترین بجلی کے منصوبوں پر عمل پیرا ہے جو شاید پاکستانی قوم کی بد نصیبی ہی ہوسکتی ہے۔ اسی طرح پینے کے صاف پانی کی فراہمی جیسے اہم منصوبوں پر توجہ نہ دینا بھی زیادتی ہے۔ ورسک ڈیم سے اس حوالے سے جو منصوبہ بنایاگیا ہے اس کی راہ میں گزشتہ تقریباً پندرہ سولہ برس سے بھی زیادہ عرصے سے روڑے اٹکائے جا رہے ہیں اور نوشہرہ سے اٹک نہیں بلکہ پشاور سے نوشہرہ جی ٹی روڈ کی حالت بھی دگر گوں ہے۔ صوبائی حکومت اس کو بھی منصوبے میں شامل کرے تاکہ عوام کو سہولت مل سکے اور وفاق بھی اپنے روئیے پر نظر ثانی کرتے ہوئے چھوٹے صوبوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک میں نرمی پیدا کرے تاکہ اس کی نیک نامی میں اضافہ ہو۔

متعلقہ خبریں