Daily Mashriq


کابل ، دلی کی راہ پر

کابل ، دلی کی راہ پر

افغانستان کی حکومت گزشتہ کچھ عرصہ سے نہ صرف دہلی حکومت کی ڈکٹیشن پر پاکستان کے خلاف اسی قسم کی زبان بول رہی ہے جیسی کہ بھارتی حکومت اور اس کے ادارے بولتے ہیں اور بھارتی میڈیا اس قسم کے بے سرو پا الزامات کو دنیا بھر میں پروپیگنڈے کے ذریعے پھیلا کر پاکستان کو بد نام کر نے کی مہم چلا تی رہتی ہے ، بلکہ اب کابل انتظامیہ عملی طور پر بھی بھارت کی تقلید کرتی دکھائی دیتی ہے ، اس کا تازہ ثبوت گزشتہ روز کابل میں دو پاکستانی سفارتی اہلکاروں کو افغان انٹیلی جنس ادارے این ڈی ایس کی جانب سے بلاوجہ حراست میں لیکر 5 گھنٹے تک ان سے پوچھ گچھ ۔ انہیں ہراساں کرنے ، زدوکوب کرنے اور اپنی مرضی کے بیانات دلوانے پر مجبور کرنے کا واقعہ ہے ۔ جبکہ پاکستانی سفارتخانے کی مداخلت پر ان سفارتکاروں کو رہا ئی ملی ، واقعات کے مطابق پاکستانی اہلکاروں کو اس وقت این ڈی ایس کے اہلکاروں نے حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کیا اور ان سے تشدد کے ذریعے زبردستی بیان لینے کی کوششیں کی کہ افغانستان میں ہونے والی دہشت گردی کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ ہے ۔ ترجمان دفتر خارجہ نفیس ذکریا کے مطابق افغان ناظم الامور کو تھما ئے گئے احتجا جی مراسلے میں کہا گیا ہے کہ سفارتخانے کے اہلکاروں اور ملازمین کو استشنیٰ حاصل ہوتا ہے جبکہ افغان خفیہ ایجنسی نے ویانا کنونشن کے تحت سفارتی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے ، ایسے واقعات سے دونوں ملکوں کے تعلقات کشیدہ ہو سکتے ہیں لہٰذا افغان حکومت سفارتی عملے کی سیکورٹی کیلئے فوری اقدامات کرے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات پیش نہ آئیں ۔ اس ناخوشگوار واقعے کے حوالے سے حیران کن امر یہ ہے کہ ابتداء میں تو پاکستانی اہلکاروں کے ساتھ ہونے والے واقعے سے لاعلمی کا اظہار کیا گیا تا ہم بعد میں افغان وزارت خارجہ نے تسلیم کیا کہ پاکستان کے لاپتہ ہونے والے سفارتکار افغان انٹیلی جنس ایجنسی این ڈی ایس کی تحویل میں ہیں ، اس کے بعد پاکستان کے پاس اس واقعے پر شدید احتجاج کے سوا کوئی چارہ نہیں ، تاہم دیکھنا یہ ہے کہ کابل انتظامیہ اس واقعے کے حوالے سے کیا موقف اپناتی ہے ، حالانکہ ویانا کنونشن کے تحت سفارتکاروں کی حفاظت اس کی ذمہ داری ہے جس پر وہ عمل کرنے شاید اس کی دلچسپی نہیں۔

متعلقہ خبریں