Daily Mashriq


بلین ٹری سونامی پر تحفظات

بلین ٹری سونامی پر تحفظات

خیبر پختونخوا اسمبلی میں اپوزیشن ارکان کے ساتھ حکومتی اتحادی جماعتوں کے ارکان کا بھی ''بلین ٹری سونامی ''منصوبے میں کرپشن اور بے ضابطگیوں پر سراپا احتجاج بن جانا لمحہ فکریہ ہے ، اس ضمن میں اصل حقائق منظر عام پر لانے کے پرزور مطالبات کو محض روایتی مخالفت قرار دیکر اس سے توجہ ہٹانے کا رویہ قابل قبول نہیں ہو سکتا ،اور اس معاملے کی سنگینی کو حکومتی بنچوں کی سرتو ڑ کوششوں کے باوجود تفصیلی بحث کیلئے منظور کیا جانا حکومت کیلئے ایک چیلنج سے کم نہیں ہے ، اب بال حکومت کے کورٹ میں ہے اور اس معاملے کو اتنی آسانی کے ساتھ اوجھل رکھنے کی کوششیں کسی بھی طور کامیاب نہیں ہو سکیں گی ۔ اے این پی کے رکن اسمبلی اور ڈپٹی پارلیمانی لیڈر سید جعفر شاہ کے مطابق اس منصوبے پر اب تک 7ارب 13کروڑ70لاکھ روپے خرچ کئے جا چکے ہیں اور حکومتی اعداد و شمار کے مطابق اب تک صوبے میں 85کروڑ 30لاکھ پودے لگائے جا چکے ہیں جن میں تین کروڑ پودے ایسے بھی ہیں جو ہوا میں اگائے گئے ہیں ، حکومت نے تین کروڑ پودے ہیلی کا پٹر سے بیج گراکر لگانے کا دعویٰ کیا ہے ، انہوں نے کہا کہ غریب صوبے کا بلین ٹری سونامی منصوبے پر 7ارب روپے سے زائد خرچ ہونے کی تحقیقات ہونی چاہئے ۔ دیگر جماعتوں کے افراد نے بھی اس منصوبے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ، اس کی تحقیقات کیلئے پارلیمانی کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ، بہر حال اپوزیشن جماعتوں کا اس منصوبے کی تحقیقات کیلئے پارلیمانی کمیٹی کے قیام کا مطالبہ بالکل درست ہے کیونکہ بلین ٹری سونامی کے حوالے سے عوام میں تحفظات کوئی نئی بات نہیں اور اس منصوبے میں مبینہ کرپشن کی کہانیاں بھی زبان زد عام ہیں جن کی تحقیقات بہت ضروری ہیں ، بلکہ خو د تحریک انصاف کی حکومت کو اپنے آپ کو صاف شفاف اور کرپشن سے پاک اقدامات کیلئے بھی ناگزیر ہیں کیونکہ جس طرح وہ دن رات (ن)لیگ حکومت پر کرپشن کے الزامات عائد کرتی ہے اسی طرح وہ اپنی صفائی بھی پیش کرے تو یہ اس کے حق میں بہترہوگا ۔

متعلقہ خبریں