داگز دامیدان

داگز دامیدان

رمضان المبارک کی آمد میں ابھی چند روز باقی ہیں مگر بیرونی دنیا سے ایسی خبریں آنی شروع ہوگئی ہیں جن پر رشک ہی کیا جا سکتا ہے ، یعنی وہاں پر بڑے بڑے سٹور ز پر مسلمانوں کیلئے رمضان پیکچ کے نام پر اشیاء کی قیمتیں سستی کر دی گئی ہیں ،اسلامی ممالک میں تو ایسا ہر سال ہوتا ہے ، مغربی ممالک میں چند برس سے ہی مسلمانوں کیلئے یہ سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے ، اگر چہ وہاں ایسٹر اور کرسمس کے مواقع پر زبردست قسم کی کلیرنگ سیل لگا کر غریب اور متوسط طبقوں کے لوگوں کو بھی بھر پور مواقع دیئے جاتے ہیں کہ وہ مہنگی اشیاء انتہائی ستے داموں حاصل کر کے ان مذہبی تہواروں میں حصہ لیکر خوشیوں سے دامن بھرلیں ، اور ان مواقع پر مذہب کی کوئی تحضیص بھی نہیں ہوتی ، خود میں نے چند برس پہلے جرمنی میں کرسمس کے حوالے سے لگائی جانے والی کلیر نس سیل سے بھر پور استفادہ کرتے ہوئے بہت سی سستی اشیاء خریدی تھیں ، اسی طرح قطر میں ایک مشاعرے میں شرکت کیلئے گیا تو وہاں رمضان کی آمد سے پہلے رمضان کریم کے نام کے بینرز آویزاں تھے اور وہاں بھی کلیر نس سیل لگی تھی ۔ غرض کہنے کا مقصد یہ ہے کہ پوری دنیا میں اب مذہبی تہواروں کے حوالے سے عام لوگوں کو بھی مستفید کئے جانے کیلئے عیسائی ، یہودی ، اور کیا مسلمان ہر مذہب سے تعلق رکھنے والے تاجر اور دکاندار اپنا مال سستا کر دیتے ہیں ، یہاں تک کہ ہمسائے بھارت میں ہولی ، دیوالی اور دیگر مذہبی تہواروں پر ایسا ہونا اچنبھے کی بات نہیں مگر حیرت ہے کہ وہاں رمضان المبارک میں مسلمانوں کیلئے ان کے راشن کارڈوں کے توسط سے سستے پیکج متعارف کروائے جاتے ہیں ۔مگر اپنے ہاں بد قسمتی سے صورتحال بالکل الٹی ہے اور بقول ظریف لکھنوی
وحشت میں ہر ایک نقشہ الٹا نظر آتا ہے
مجنوں نظر آتی ہے ، لیلیٰ نظر آتا ہے
ہمارے ملک میں رمضان کی آمد سے پہلے ہی غریب عوام خوف میں مبتلا ہو جاتے ہیں ، گزشتہ برسوںسے ہر سال حکومت مہنگائی کم کرنے کیلئے اقدامات کا ڈھنڈورہ پیٹتی رہتی ہے ، مگر صرف حکومت کے زیر انتظام یوٹیلٹی سٹورز پر ہی ایشاء خورد نوش کی قیمتوں میںسبسڈی نظر آتی ہے اور اس میں بھی صرف گھی ، چینی ، چاول ، چائے یا ایسی چیزیں جو پیکٹوں میں بند ہوتی ہیں ان کی خریداری سے صارفین کو معمولی سا فائدہ ضرور ہوتا ہے جبکہ کھلی اشیاء کے حوالے سے عوامی شکایات یہ ہوتی ہیں کہ ان میں ناقص اور کم کوالٹی کی اشیاء خریداروں کو تھما دی جاتی ہیں ، بہر حال پھر بھی کچھ فائدہ تو ہوتا ہے ۔ جبکہ عام بازاروں میں مہنگائی میں اضافہ کر کے خلق خدا کو لوٹنے کاسلسلہ جاری کر دیا جاتا ہے اور رمضان سے پہلے کی قیمتوں میں اضافہ کر کے عوام کو لوٹنے کی کوشش عام سی بات ہے ، اب تو اس سلسلے میں سوشل میڈیا پر بھی طنزیہ پوسٹیں عام ہو رہی ہیں ، یہ سب کچھ در اصل اس لئے یاد آرہا ہے کہ آج جب یہ کالم لکھا جارہا ہے ، روزنامہ مشرق کے صفحہ 2پر ایک تین کالمی خبر کی سرخی نے میری توجہ اپنی جانب مبذول کر ادی ہے جو یوں ہے کہ ''رمضان المبارک میں مہنگائی پر قابو پانے کیلئے حکمت عملی تیار ''۔ سوال مگر یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ہم کب تک من حیث القوم اس قسم کے کردار کا مظاہرہ کرتے رہیں گے کہ جو مہینہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کیلئے ہے اورجس میں ہم اپنے دنیوی حالات کو درست کرنے کے ساتھ ساتھ آخرت کو بھی سنوار سکتے ہیں ، اس قدر غفلت کا مظاہرہ ہم کیوں کر تے ہیں کہ لوگوں کی بد دعائوں کے طفیل اپنی دنیا بھی خراب کر لیتے ہیں اور دین بھی ، جبکہ حکومت کے یہ دعوے صرف بازاروں میں چند روز تک چھاپے مارنے اور بعض لوگوں کی گرفتاری ، جرمانے اور چند روز زیر حراست رکھنے تک ہی محدود رہتے ہیں ، حالانکہ اس کے بعد معاملات پھر اپنی ڈگر پر چلتے دکھائی دیتے ہیں لوگ اسی طرح دکانداروں اور تاجروں کے استحصال کا شکار رہتے ہیں ۔
ہر ایک روح میں اک غم چھپا لگے ہے مجھے
یہ زندگی تو کوئی بد دعا لگے ہے مجھے
ضلعی انتظامیہ نے مہنگائی کے طوفان کو قابو کرنے کیلئے کیا حکمت عملی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس کا اندازہ تو آنے والے دنوں میں ہو جائے گا مگر جیسا کہ ظریف لکھنوی کے محولہ بالا شعر میں صورتحال کا نقشہ کھینچ کر سب کچھ الٹا نظر آنے کی بات کی ہے ، معاملات اس سے باہر نہیں جائیں گے ۔ اور ہر سال کی طرح نتائج الٹ نکلیں گے ۔ یعنی ضلعی انتظامیہ کی کوششیں رنگ لانے کی بجائے الٹی گنگا بہنے کا باعث بنیں گی ۔ جو لوگ حرام خوری کے عادی ہو چکے ہیں وہ اسی طرح مصنوعی مہنگائی عوام پر مسلط کریں گے ۔ جو لوگ ملاوٹ کے عادی ہیں وہ اپنی خو نہ چھوڑیں گے ۔ اور اسی طرح اللہ کے عذاب کو دعوت دیکر وقتی منافع سے جھولیاں بھرتے رہیں گے ۔ اور تو اور خود وفاقی حکومت کے سحری اور افطاری کے اوقات میں لوڈ شیڈنگ نہ کرنے کے دعوئو ں کو واپڈا کے متعدد ذیلی ادارے یعنی پیسکو ، لیسکو ، حیسکو ، کیسکو وغیرہ وغیر ہ کے اندر بیٹھے ہوئے بعض عاقبت نا اندیش عناصر کی مہربانی سے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے گا ۔ کیونکہ اس حوالے سے بھی عوام کے تلخ تجربات گواہ ہیں کہ کئی سالوں سے ہر سال اس قسم کے حکومتی دعوے غلط ثابت ہوتے رہے ہیں یعنی حکومتی دعوے مجنوں نظر آتی ہے لیلیٰ نظر آتا ہے کا عملی نمونہ بن کر رہ جاتے ہیں اور اب کے بھی اگر عوام کو یہ خوش فہمی ہے کہ واقعی حکومت اپنے وعدوں پر عمل در آمد کرتے ہوئے سحری اور افطاری میں لوڈ شیڈنگ نہ کرانے کا اہتمام کرانے میں کامیاب ہو جائے گی تو عوام اپنا ٹٹوچھا ویں بنیں ، ایسا کچھ بھی نہیں ہونے کا ، اور بقول شخصے ، ہاتھ کنگن کو آرسی کیا ، رمضان المبارک میں دن ہی کتنے رہ گئے ہیں ، یعنی وہ جو ایک شخص نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے سوگز لمبی چھلانگ لگائی تھی تو دوسرے نے کہا دا گز دامیدان یعنی لو بھئی یہ کھلا میدان اور یہ ہے گز ، ابھی زمین ناپ کر تمہارے دعوے کی حقانیت معلوم کرلیتے ہیں ، تو عوام بس چند روز انتظار کریں ، سحری اور افطاری کے مراحل زیادہ دور نہیں ہیں ۔