ذکر ایک شریف النفس انسان کا

ذکر ایک شریف النفس انسان کا

ہم نے جب بھی اپنی پرانی یادوں کا ذکرکیا تو ایک دیرینہ رفیق کار پروفیسر خادم شاہ نے جو اپنے نام کی مجسم تصویر ہیں ہمیں برقی مراسلے کے ذریعے اپنا رد عمل ضرور دیا۔ بتاتے چلیں پروفیسر صاحب پشتو کے استاد تھے' خوبی ان کی یہ تھی کہ پشتو جانتے اور سمجھتے بھی تھے۔ ایک بار ہمیں پشتو میں نعت گوئی پر کچھ معلومات درکار تھیں۔ ان سے کہا تو بڑی محنت سے اس موضوع پر نہایت ہی کار آمد مواد فراہم کردیا۔ ان کے ساتھ صفدر علی گگیانی بھی تھے عجلت سے کالج میں داخل ہوتے اور کام ختم کرکے تیزی سے نکل جاتے۔ جب بھی ان سے کسی ادبی موضوع پر معاونت چاہتے نہایت ہی مودبانہ طریقے سے ہمارے سامنے سر جھکا کر کھڑے ہو جاتے۔ یادداشت بلا کی پائی تھی' ہزاروں اشعار انہیں یاد تھے۔ خود بھی شاعر تھے۔ ان کے شعروں میں ایک منفرد ذائقہ تھا۔ حضرت امیر حمزہ خان شنواری کے عقیدت مند تھے۔ پشاور میں کچھ عرصہ تک ان کے محلے میں رہے۔ کہتے تھے کہ میں حمزہ بابا کا ہاتھ تھام کر وہاں قریب ہی ایک پارک میں سیر کے لئے لے جایا کرتا تھا۔ دونوں دوستوں سے ایک عرصہ ہوگیا ملاقات نہیں ہوئی اللہ انہیں سلامت رکھے۔ گزشتہ ایک کالم میں ہم نے ایک د یرینہ رفیق کار پروفیسر محمود احمد طارق کا ذکر کیا تھا۔ پروفیسر خادم نے لکھا کہ ہم نے نم آلود آنکھوں سے یہ کالم پڑھا۔ فرمائش کی کہ یادوں کے اجالے پھیلاتے رہیں۔ ہماری درس و تدریس کے شعبے سے ایک طویل عرصہ تک وابستگی رہی۔ روزانہ سینکڑوں رفقائے کار سے ملاقات ہوتی۔ شناسائی سب سے تھی لیکن ان میں سے ذہنی رفاقت گنتی کے چند لوگوں سے ہی قائم ہوسکی' جن میں ایک پروفیسر عبدالغنی بھی تھے۔ہم درجہ حدماضی پرست واقع ہوئے ہیں۔ جوانی میں بھی ماضی کی یادوں سے سکون ملتا' بڑھاپے میں تو زندہ رہنے کا اب یہی ایک سہارا باقی رہ گیا ہے۔ ہمارے ایک دوست پروفیسر عبدالغنی مرنجا مرنج بے حد تحمل مزاج' علم التواریخ کے ماہر اور شریف النفس انسان تھے۔ لگتا تھا کہ شرافت ان کی فطرت ثانیہ بن چکی ہے۔ رات ٹی وی پر میاں چنوں کے کسی وقوعے کی پٹی چل رہی تھی اس کو دیکھ کر غنی صاحب بے اختیار یاد آئے۔ ان کا تعلق میاں چنوں سے تھا۔ ان کے والد گرامی بسلسلہ ملازمت نوشہرہ میں مقیم تھے۔ وہ کسی سکول میں ملازم ہوگئے۔ اپنے وقت کے نہایت ہی پسندیدہ اور مقبول استاد تھے۔ تاریخ میں ایم اے کرنے کے بعد نوشہرہ کالج میں لیکچرر بن گے۔ ان سے ہماری پہلی ملاقات نوشہرہ کالج میں ہی ہوئی تھی۔ ہم امتحان کی کسی ڈیوٹی پر وہاں گئے تھے۔ نوشہرہ سے مردان کالج جب ان کا تبادلہ ہوا۔ ہم پہلے سے وہاں موجود تھے۔ دس بارہ سال ریٹائرمنٹ تک مردان میں ہی رہے۔ کہتے تھے ذوق کو اگر دلی کی گلیاں عزیز تھیں تو ہمیں مردان پسند ہے کہ یہ پشتونوں کی ایک ماڈل بستی ہے۔ تدریسی فرائض کوجز و ایمان بنا کر رکھا تھا۔ سب سے پہلے کالج آتے' کلاس میں بھی جاتے اور کالج کے ناظم امتحان کی حیثیت سے بھی اپنے دفتر کے کام میں ہمہ وقت مصروف رہتے۔ ہمارے ایک دوست جو اب ہم میں موجود نہیں جب انہیں بورڈ کے پرچے ملتے تو وہ غنی صاحب سے چیک کرواتے۔ غنی صاحب کے ماتھے پر یہ مفت کی خدمت کرنے پر کبھی شکن نہیں آئی۔ کہتے' یار دے کنہ' ہماری بیٹی ایف اے کے امتحان کی تیاری کر رہی تھی۔ کہتے آپ کو تو معلوم ہے میں پندرہ سال تک سکول میں پڑھاتا رہا ہوں' اس کی انگریزی کی نصابی کتاب مجھے دے دو' پہلے بازار سے رجسٹر خریدا اور پھر نصاب کی کتاب کے تمام مشقی سوالوں کے جواب رجسٹر میں لکھ کر ہمیں دے دیا۔ کہا' بیٹی کو سہولت رہے گی۔ ہمیں یقین ہے کہ ہماری بیٹی کا بورڈ کے امتحان میں دوسری پوزیشن حاصل کرنے میں غنی صاحب کی بے لوث محبت کا بھی بڑا حصہ تھا۔ ہماری بستی میں ان کے پانچ مرلے کاایک پلاٹ تھا۔ بار بار کہتے' خرید لو' ادائیگی کی فکر نہ کریں جب مرضی ہو دے دینا۔ وہ جو کہتے ہیں قرض محبت کی قینچی ہوتی ہے ہم ان سے دوستی کے بے لوث رشتے کو قرض سے آلودہ نہیں کرنا چاہتے تھے۔ ان کاڈاکٹر بیٹا میاں چنوں شہر میں پریکٹس کرتا ہے' ریٹائرمنٹ کے بعد میاں چنوں منتقل ہوگئے۔ کہتے تھے وہاں کچھ جائیداد بھی ہے اس کی دیکھ بھال میں مصروف رہوں گا۔ وہاں جا کر بھی باقاعدگی سے خط لکھتے رہے۔ عید پر اپنے شہر کی مشہور مٹھائی بھی ضرور بھیجتے۔اچانک کراچی کے آغا خان میڈیکل کالج سے ان کا خط ملا۔ لکھا تھا بیٹوں نے میڈیکل چیک اپ کے لئے یہاں داخل کیا ہے۔ ایک طویل عرصہ تک رابطہ منقطع رہا۔ کچھ مدت بعد میاں چنوں سے خط میں لکھا' گائوں آگیا ہوں' خون میں کچھ نقص تھا' اب طبیعت بحال ہے۔ لیکن ایسا نہیں تھا' وہ خون کے سرطان میں مبتلا ہوچکے تھے۔ ایک بار پھر علاج کے لئے آغا خان میڈیکل کالج میں داخل کرائے گئے ' کوئی تدبیر کام نہ آئی اور ہمارے پیارے دوست پروفیسر عبدالغنی کو سرطان کے موذی مرض نے ہمیشہ ہمیشہ کے ئے ہم سے چھین لیا۔ ہمیں یقین ہے وہ جنت میں کسی درخت کے نیچے بیٹھے اپنے دوستوں پروفیسر طارق اور پروفیسر عمر گل کا کوئی کام کرنے میں مصروف ہوں گے۔ ہم پہلے بھی عرض کرچکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بعض لوگوں کو پیار و محبت اور اعلیٰ انسانی اقدار کے ماڈل کے طور پر دنیا میں پیدا کیا ہوتا ہے۔ ہمارے دوست پروفیسر عبدالغنی بھی بے لوث محبتوں کے جیتے جاگتے نمونہ تھے۔ ہمارے چاروں اطراف میں ان کی یادوں کے اجالے پھیلے ہوئے ہیں کہ اب یہی ہماری زندگی کا بیش قیمت اثاثہ ہے۔

اداریہ