Daily Mashriq


دہشت گردی کے خلاف نوجوان نسل کا کردار

دہشت گردی کے خلاف نوجوان نسل کا کردار

بیماری کی تشخیص صحیح طور پر ہوجائے تو علاج کی امید پیدا ہو جاتی ہے ۔ اب جبکہ پاکستان میں یہ شعور واضح طور پر بیدار ہو کر سامنے آرہا ہے کہ وطن عزیز کی اصل بیماری یا بیماریاں ہیں کیا اور ان کی وجوہات کیا ہیں تو ان شا ء اللہ ان امراض کا تدارک اور علاج کامیابی کے ساتھ ہو سکے گا ۔ قیام پاکستان جن حالات میں عمل میں آیا وہ بالکل ناقابل تصور ہیں ۔ قائد اعظم کی گرتی صحت ، نہرو انتہا پسندوں کا تعصب قوم پرست اور انگریز کی مخالفت ایسے طاقتورعوامل و عناصر تھے کہ قائد اعظم کی جگہ کوئی شخص ہوتا تو وار خطا ہو جاتا ۔ اور پھر قیام پاکستان کے بعد لاکھو ں مہاجرین کی آبادکاری ، نئی بے سر وسامان مملکت کی بنیادوں کی استواری ، کمزور ترین معاشی واقتصادی معاملات اور اوپر سے بھارت کا گدھ کی طرح منڈلا نا کہ وطن عزیز کے کس کمزور حصے کو نو چا جائے ، ایسی باتیں ہیں کہ آج بھی کوئی صاحب درد واحساس پڑھتا ہے تو ہل کر رہ جاتا ہے ۔ لیکن چونکہ قیام پاکستان معجزہ خداوندی ہے لہٰذا قیام کے بعد سفر جاری رہا اگرچہ سست روی حاوی رہی لیکن بہر حال آج وطن عزیز (الحمد للہ ) ایٹمی طاقت ہے ، پاکستان آج بہت ترقی کر چکا ہوتا اگر باہر سے بھارت اور اندر سے ہمارے اپنے عاقبت ناا ندیش اس کی منزل کھوٹی کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور نہ لگاتے ۔ ہمارے ہاں ہمیشہ سے ایک لابی طبقہ یا گروہ بھارت کے ساتھ محبت کی پنگیں بڑھائے رکھنے کا علمبر دار رہا ہے ۔ یہ طبقہ رنگین انڈیا کی چکا چوند اور نام نہاد لبر ل ازم ، سکولرازم اور جمہوریت سے بہت متاثر رہا ہے ۔ حالانکہ انڈیا کی جمہوریت کی قلعی کھولنے کے لئے ایک مقبوضہ کشمیر کا قضیہ ہی کافی اور اس کے منہ پر بڑا طمانچہ ہے ۔ ہمارے قبیل کے لوگ الحمد اللہ اس حوالے سے کبھی تذبذب کے شکار نہ ہوئے کہ بھارت کے ساتھ کبھی بھی پاکستان کے اچھے ہمسایوں کے تعلقات استوار نہیں ہو سکتے ۔ دنیا کے کوئی سے بھی دو پڑوسی ملکون جن کے درمیان تعلقات کسی زمانے میں کتنے ہی خراب کیوں نہ ہوں ، آخر کار ایک دن آتا ہے کہ اُن کے درمیان باہمی تعامل اور ضروریات کی تکمیل کے لئے ورکنگ ریلیشن شپ قائم ہو ہی جاتی ہے ۔ امریکہ اورکیوبا ، مشرقی ومغربی جرمنی اور اسی طرح اور کئی ممالک کے درمیان دشمنی کے بعد تعلقات معمول بلکہ دوستی میں تبدیل ہوئے ہیں لیکن بھارت کے درمیان گزشتہ ستر برسوں میں کبھی ایک دن کے لئے دل کی گہرائیوں سے تعلقات اچھے نہیں ہوئے ہیں۔ اس کے باوجود کہ پاکستان کی بے چاری حکومتوں نے ہمیشہ مذاکرات' ہمسائیگی اور باہمی تعاون کے لئے اپنے وقار کے مقام سے نیچے اتر کر بھی بات بنانے کی کوشش کی ہے لیکن کیا بنے بات جہاں بات بنائے نہ بنے بھارت کی پاکستان دشمنی کے پیچھے بہت خطرناک اور انتہا پسندانہ مذہبی روایات و افکار ہیں۔ کلبھوشن کی گرفتاری کے بعد بھارت کے مکروہ ومذموم عزائم کے کھل کر سامنے آنے کے بعد پچھلے دنوں چیف آف آرمی سٹاف نے دو ٹوک الفاظ میں یہ کہہ کر قوم کو یکسو ہونے اور با خبر رہنے کا موقع فراہم کیا کہ '' دشمن( بھارت اور اس کے بعض بین الاقوامی اور مقامی حواری) مختلف طریقوں اور سمتوں سے ہمارے خلاف بر سر پیکار ہے اور ہم دہشت گردوں کے ساتھ مختلف دشمن ایجنسیوں کابھی ہدف ہیں۔ پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سے جس دہشت گردی کاشکار رہاہے اس میں ہمارے تعلیمی اداروں کے نوجوانوں کے اذہان کو تبدیل کرکے بہت بری طرح اپنے ملک وقوم اور پاک افواج کے خلاف استعمال کیا گیا۔ اس بات میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ 9/11 کے بعد پاکستان کے در و بام دشمن ایجنسیوں ے لئے چوپٹ کھل گئے جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہمارے ہاں این جی اوز کی فصل مشروم کی طرح اگنے لگی۔ ان میں اکثریتی این جی اوز ن نے ہمارے تعلیمی اداروں (مدارس اور جامعات) کے طلباء کو مختلف طریقوں سے متاثر کیا۔ پاکستان کی جامعات میں ایسے پروفیسروں کی کمی نہیں جو اسلام کے شعائر' مملکت خداداد کے قیام و استحکام اور ہماری مذہبی و معاشرتی و سماجی روایات کی بنیادوں پر تیشہ چلانے کے مواقع ڈھونڈتے ہیں۔ یہ سب کچھ چند پیسوں' باہر کے ممالک میں کسی ملک کی پانچ دس دن سیر و تفریح یا بعض دیگر مراعات کے بدلے میں ہوتا رہا ہے اور ہورہا ہے۔ دوسری طرف دینی مدارس میں بھی جو بیانیہ پروان چڑھا ہے وہ بھی پاکستان اور اسکے آئین و دستور کے لئے کوئی نیک شگون نہیں۔ پاکستان کا مطلب کیا کے نعرہ کو ایسے معانی پہنانے کی کوشش کی گئی کہ نوجوان و جذباتی طلبہ انتہا پسندی کی طرف لڑھکتے چلے گئے۔ اب جبکہ مرض کی تشخیص ہوگئی ہے تو حکومت اور پاک فوج مل کر اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کریں کہ اپنے نوجوانوں کو والدین' اساتذہ اور منبر و محراب کے ذریعے اپنے قابو میں رکھنے کے لئے ہمہ گیر مگر ہنگامی بنیادوں پر انتظامات کریں۔ تعلیمی اداروں میں سر براہان جامعات اور شعبہ جات کے تقرر سے پہلے اسلام کے بنیادی عقائد اور پاکستان کے قیام و استحکام کے بارے میں ان کا پروفائل دیکھنا لازمی قرار دیا جائے۔ اس طرح مدارس میں حکومتی سر پرستی میں تعمیری سر گرمیوں کے انعقاد کا انتظام و انصرام بھی ضروری ہے۔ نوجوانوں کو کھیل کود ' کلاس' مطالعہ' لائبریری' ریسرچ کی عادت ڈالنا اور فراغت کے بعد روز گار کی فراہمی یا روز گار ملنے تک بے روز گاری و ظیفہ ان کو انتہا پسندی اور دہشت گردی کی تاریک راہوں میں بھٹکنے سے روکنے میں بہت اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ اللہ پاکستان کی حفاظت کرے اور ہمارے نوجوانوں کو اس کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

متعلقہ خبریں