Daily Mashriq

فاٹا انضمام کی توثیق

فاٹا انضمام کی توثیق

ہفتہ کے روز قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ایک ہفتہ میںدوسرااجلاس تھا۔ ایسی نظیر اس سے پہلے موجود نہیں ہے۔ اس اہم اجلاس میںاہم فیصلہ یہ کیاگیا کہ فاٹاکے خیبر پختونخوا میںانضمام کی توثیق کی گئی اور طے کیا گیا کہ انتظامات موجودہ حکومت کی مدت حکمرانی کے اندر ہی کر لیے جائیں جو عام انتخابات کی آمدآمد کے پیش نظر چند دن کی مہمان رہ گئی ہے۔ فاٹا کا خیبر پختونخوا میں انضمام ، فاٹا کے عوام اور سارے پاکستان کے عوام کا دیرینہ مطالبہ رہا ہے۔ جنرل مشرف کے زمانے میں جسٹس اجمل میاں نے فاٹا میں بدنام زمانہ کالے قانون ایف سی آر کے خاتمہ کے حوالے سے سفارشات تیار کیں۔ پیپلز پارٹی کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے اسمبلی کے ایوان میں ایف سی آر کے خاتمہ کا اعلان کیا۔ تاہم حکمران مسلم لیگ کے موجودہ دور حکومت میں انضمام کا مطالبہ بھی شدت سے سامنے آیا ، حکومت نے سنجیدگی سے اس موضوع پر کام بھی کیا۔ وزیر اعظم کے مشیر سرتاج عزیز کی سربراہی میں کمیٹی نے علاقے کے دوروں، اہم شخصیات کی مشاورت کے بعد ایک پیکیج بھی تیار کیا۔ لیکن اسی حکومت کے دور میں اس فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے حوالے سے رکاوٹیں بھی بہت آئیں۔ آئینی ترمیم تقریباً دو سال پہلے منظور ہو جاتی اگر جمعیت علمائے اسلام اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے اتحادیوں کے کہنے پر خود اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف غیر ملکی دورے کے دوران پارٹی کو فاٹا انضمام بل واپس لینے کی ہدایت نہ کر دیتے۔ ان تمام رکاوٹوں کے باوجود فاٹا اور ملک بھر کے عوام کا دباؤ اس قدر رہا ہے کہ حکمران مسلم لیگ ہی کی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ جمعیت اور پی کے ایم پی کے اتحادیوں کی حمایت کے بغیر ہی بدھ کے روز انضمام کا بل اسمبلی میں پیش کر دیا جائے گا اور چونکہ اتحادیوں کے سوا ساری اپوزیشن پارٹیاں بھی اس بل کی منظوری کی حامی ہیں اس لیے آئندہ ہفتے کے اندر اندر انضمام کا بل منظور ہو جائے گا۔ یہ جمعیت علمائے اسلام اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے لیے ایک دھچکا ہوگا۔جو فاٹا انضمام کے مخالف تھے اور ان کی کوشش تھی کہ کسی طرح سے وہ اس کو روک لیں اس غرض سے وہ مختلف تاویلیں پیش کرتے رہے ن لیگ کے اتحادیوں کا اصرار تھا کہ انضمام سے پہلے فاٹا میں اس کے حوالے سے ریفرنڈم کروایا جائے ۔ جبکہ ریفرنڈم کی شرط حکمران مسلم لیگ کے پیکیج میں بھی تھی لیکن اس طرح کہ پہلے فاٹا میں اصلاحات کا عمل شروع کر لیا جائے اور پانچ سال بعد ریفرنڈم کروا لیا جائے ۔ ظاہر ہے کہ مسلم لیگ کے پیکیج میں ریفرنڈم کی تجویز اتحادیوں کے دباؤ کا نتیجہ تھی ۔ لیکن جوں جوں مختلف جواز پیش کر کے انضمام کے مطالبے کو پسِ پشت ڈالنے کی کوشش کی جاتی رہی اس مطالبہ کی شدت میں اضافہ ہوتا گیا۔ اب جو بل پیش کیا جا رہا ہے اس میں ریفرنڈم کی کوئی شرط شامل نہیں ہے۔ ایف سی آر کی سخت گیر شقیں جن کی بنا پر اسے کالا قانون کہا جاتا ہے فوری طور پر ختم کرنا مقصودہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ بل کے اسمبلی میں پیش کیے جانے سے قبل ہی خیبر پختونخوا کے سینئر افسروں اور فاٹا کے ارکان پارلیمنٹ کے درمیان آج کسی وقت ایک مشاورت ہونے والی ہے جس میں فاٹا کے علاقے کے لیے ایک عبوری قانونی نظام تشکیل دینے کی کوشش کی جائے گی ۔ سرکاری اداروں اور علاقے کے زعماء کے درمیان اشتراک عمل میں اس سرگرمی کی وجہ یہ ہے کہ حکمران لیگ کے اتحادیوں کے سوا تمام سیاسی جماعتوں کا انضمام پر اتفاقِ رائے ہو گیا ہے ۔ اس لیے کہا جا رہا ہے کہ اصلاحات کا مرحلہ موجودہ سیاسی حکومت کے دوران ہی آئینی ترمیم کے ذریعے پورا کر لیا جائے گا۔ ایف سی آر قانون کو صدارتی حکم کے ذریعے منسوخ کر دیا جائے گا۔ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں متعلقہ وزارتوں کے افسران کو یہ ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ وہ انضمام کے لیے طریقہ کار وضع کریں ۔ اس فیصلہ کی بھی توثیق کر دی گئی ہے کہ فاٹا کو آئندہ دس سال کے لیے اضافی فنڈز دیے جائیں گے، ان فنڈز کے بارے میں یہ بات یقینی بنائی جائے گی کہ انہیں خیبر پختونخوا کے کسی اور علاقے پر صرف نہیں کیاجا سکے گا۔ بلدیاتی انتخابات اسی سال اکتوبر میں کروائے جانے مقصود ہیں اور صوبائی اسمبلی کے انتخابات کے لیے حلقہ بندیوں کے انتظامات کے بعد پروگرام کے مطابق فاٹا میں خیبرپختونخوا اسمبلی کے انتخابات آئندہ سال اپریل میں ہو جائیں گے۔ ان اقدامات کے باعث آخر کار فاٹا کا خیبر پختونخوا میں انضمام یقینی نظر آنے لگا ہے۔ بہت سی رکاوٹیں عبور کرنے کے بعد تاریخ کا تقاضا پورا ہونے جا رہا ہے ۔ ساری قوم مبارک باد کی مستحق ہے کہ ان کے ملک کے اندر ایک حصے میں ایف سی آر کا سیاہ دھبہ مٹنے جا رہا ہے۔ فاٹا اور ملک کے دیگر علاقوں کے عوام مبارک باد کے مستحق ہیں کہ ان کا ایک دیرینہ مطالبہ پورا ہونے جارہا ہے اور اب وہ سب برابر کے پاکستانی ہیں۔

متعلقہ خبریں