Daily Mashriq

اسلامی تنظیم کا اجلاس

اسلامی تنظیم کا اجلاس

استنبول میں اسلامی کانفرنس کے اجلاس نے بیت المقدس میں امریکی سفارت کی منتقلی کو مستردکرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ فلسطینیوں کے تحفظ کے لیے ایک بین الاقوامی فورس تشکیل دی جائے ۔ اجلاس میںکہا گیا ہے کہ جو ممالک امریکہ کی طرح بیت المقدس میں اپنے سفارت خانے منتقل کریں ان کے خلاف مناسب اقتصادی اور سیاسی اقدامات کیے جائیں۔ یہ تجویزوزن دار لگتی ہے۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کے جبر و استبداد کا نشانہ بننے والے فلسطینی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا ہے اور کہا ہے کہ پاکستان اسلامی تنظیم اور فلسطینیوںکے ساتھ کھڑا ہے ۔ انہوں نے عالم اسلام کی توجہ باہمی اتحاد کو مضبوط بنانے کی طرف دلاتے ہوئے کہا کہ عالم اسلام اس وقت تاریخ کے نازک ترین موڑ پر کھڑا ہے ، ہمیں اپنے اختلافات بھلا کر فلسطینی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرنا چاہیے اور ان کی حمایت کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی ممالک کا اتحاد اور ان کی یکجہتی ان کی ضرورت ہے ، اس کے سوا کوئی اور راستہ ہی نہیں ہے۔ یہ کہ عالم اسلام اس وقت تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہا ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیںہو سکتیں۔ دنیا کے ہر خطے میںمسلمان جبر استبداد کا ہدف ہیںلیکن ان پر ہونے والے مظالم کو نوٹس کہیں سے بھی نہیں لیا جارہا ۔ نہ صرف یہ بلکہ مسلمان ممالک کے آپس کے اختلافات بھی باہمی مذاکرات یا ثالثی سے آگے بڑھ کر بعض خطوںمیںجنگ آزمائی میںداخل ہو چکے ہیں ، مختلف دہشت پسند تنظیمیں ریاستی اداروں اور نظاموں کے لیے خطرہ بنی ہوئی نظرآتی ہیں۔ تاریخ کا یہ مرحلہ تقاضا کرتا ہے کہ تمام اسلامی ممالک مختلف النوع کے مسائل میںگھرے ہونے کے باوجود اور اس کے باوجود کہ انہیںمختلف النوع چیلنج درپیش ہیں۔ ان مسائل کو مشترکہ طور پر زیر بحث لائیں اور ان کا حل تلاش کرنے کی کوشش کی جائے۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ عالم اسلام کے مختلف خطوں میں مسائل کی نوعیت مختلف نظر آتی ہے ۔ مشترکہ سوچ بچار سے یقینا ایسی تجاویز ابھر کر آسکتی ہیں جن پر عمل کرنا مجموعی طور پر مسلم اُمہ کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے۔ لیکن اس کے لیے ایک یکساں سوچ کا ہونا از حد ضروری ہے کہ تمام مسلمان ممالک ایک دوسرے کی یکساں حیثیت کا اعتراف کرتے ہوئے اور عالم اسلام کو درپیش مختلف النوع مسائل کو یکساں اہمیت دیتے ہوئے ان پر دانش مند مشاورت کا آغازکریں۔ ٖفلسطینی عوام پر اسرائیلی افواج کے مظالم ستر سال سے جاری ہیں جب مئی کے نصف اول کے دوران لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کر دیاگیا تھا اور ان کی جگہ مختلف ممالک کے یہودیوںکو لا کر فلسطین پر قابض کر دیاگیا تھا۔ فلسطینیوں کی اولادیں آج تک اپنے گھروںکو واپس جانے کے لیے مئی کے نصف اول میں احتجاج کرتی ہیں ۔ ایسے ایک احتجاج کے دوران اسرائیلی فوج نے دو دن کے اندر کئی بچوں سمیت 60نہتے فلسطینیوںکو شہید کردیا اور دو ہزار سے زیادہ کو زخمی کر دیا۔ فلسطینیوں کااپنے گھروںکو جانے کے لیے پر امن احتجاج کسی بھی لحاظ سے ناجائز نہ تھا۔ اسرائیلی فوج کی کارروائی سراسر ظلم تھی اوردنیا کے ہر اقداری نظام کی رُو سے ظلم تھی۔ ا س کے خلاف دنیا کے ہر کونے میں اٹھائی جانی چاہیے تھی کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد میں بے دخل کیے جانے والے فلسطینیوں کی اپنے گھروں کو واپسی کی حمایت موجود ہے۔ خاص طور پر مسلمان ممالک کی طرف سے اس حق کی حمایت میں توانا آواز آنی چاہیے تھی ۔ لیکن اسلامی تنظیم کے اجلاس میں ان ممالک میں عرب ممالک کی تعداد نمایاں تھی جنہوں نے سربراہ حکومت کی بجائے کانفرنس میں وزارتی سطح یا حکام کی سطحی نمائندگی کو کافی سمجھا تھا۔ کانفرنس میں کہا گیا ہے کہ فلسطینیوں کی حفاظت کے لیے ایک عالمی فورس بنائی جائے ۔ یہ معاملہ اقوام متحدہ کے کس فورم پر کب اٹھایا جائے گا ، اس بین الاقوامی فورس میں مختلف ممالک کی افواج کی شراکت کا طریقہ کار کیا ہوگا؟ فنڈنگ کہاں سے ہو گی ؟ اس کے کچھ اشارات ہونے چاہیئے تھے۔ اسلامی تنظیم کے مطالبات اتنے ہی موثر ہو سکتے ہیں جتنا موثر تنظیم کا اتحاد اور اس کا جذبہ محرکہ نظر آئے گا۔ اجلاس میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کے بعد اگر کسی اور ملک نے بیت المقدس میں اپنا سفارت خانہ منتقل کرنے کی کوشش کی تو اس کے خلاف سیاسی او راقتصادی اقدامات کیے جائیں گے ۔ لیکن اس سے پہلے اسلامی تنظیم کے ذیلی ادارے ہونے چاہئیں جو مسلمان ممالک کی صورت حال کا جائزہ لیں اور اسلامی تنظیم کو حسب حال مشاورت فراہم کر سکیں۔ اس اتحاد کے لیے جس کے سو ا بقول وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کوئی اور چارہ نہیں اس اتحاد کی ضرورت واضح کرنے کے ساتھ ساتھ اس اتحاد کے لیے بنیادی مقتضیات کے لیے ادارے بھی قائم کرنا چاہئیں۔

متعلقہ خبریں