Daily Mashriq


الزامات و اخلاق با ختگی کی فصلیں بونے سے گریز کیجئے

الزامات و اخلاق با ختگی کی فصلیں بونے سے گریز کیجئے

نواز شریف کے ’’متنازعہ‘‘ انٹرویو کی اشاعت والے دن سے ہی عرض کرتا چلا آرہا ہوں کہ تنقید کیجئے‘ جوابی دلائل سے ان کے موقف کو غلط ثابت کیجئے مگر غدار غدار ڈھمکیری بڑھاتے رہنے کی ضرورت نہیں۔ نواز شریف کے دستر خوان سے شکم سیری فرمانے والے خواتین و حضرات ویک از شام چوراسی بھی آسمان سر پر اٹھائے ہوئے کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔ پیمرا کہاں ہے‘ ضابطہ اخلاق کہاں گھاس چرنے گیا ہے۔ چھاتہ برداروں کی منڈیاں الگ ہیں۔ ہاہا کاری ہے‘ ایسی کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی۔ دائیں بازو کے چند بچے کھچے صحافی اپنے محبوب رہنما کی کردار کشی پر حیران ہیں۔ طالب علم جب ان کے رونے دھونے اور حب الوطنی کے ڈھول بجانے کو دیکھتا ہے تو پچھلی صدی کی ساتویں اور آٹھویں دہائیاں یاد آجاتی ہیں۔ ہمارے ان بزرگ ساتھیوں نے کونسا الزام تھا جو بھٹو پر اور ان کی صاحبزادی بے نظیر بھٹو پر نہیں لگایا۔ یہاں تک کہ بھٹو کو گھاس رام کے ہندوانہ نام سے پکارا لکھا جاتا رہا۔ ان کی مرحوم والدہ پر ایسے ایسے بہتان باندھے گئے کہ آسمان بھی رو پڑا۔ مگر صاف ستھری اسلامی صحافت کے علمبرداروں کو کسی پل قرار نہ تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سابق اسلام پسندوں کی تازہ انجمن محبان نواز شریف ان دنوں اٹھتے بیٹھتے بھٹو صاحب کا ذکر کرتی ہے۔ ان پر لگائے گئے الزامات اور جھوٹے مقدمات کا حوالہ دے کر کہتی ہے کہ ’’ ان سب ہتھکنڈوں کے باوجود بھٹو کو عوام کے دلوں سے نہیں نکالا جاسکا‘‘۔ کیا کبھی یہ محبان نواز شریف پر مشتمل غول اس ملک کے عوام سے بھٹو اور ان کی صاحبزادی اور اہلیہ کی کردار کشی اور والدہ مرحومہ پر باندھے گئے بہتان پر معافی مانگے گا؟۔

تاریخ بڑی بے رحم ہے وہ اگلی نسلوں کے سامنے آئینہ کی طرح موجود رہتی ہے۔ لاکھ آنکھیں چرائیں‘ آئینہ کی مخالف سمت منہ رکھیں مگر فائدہ کچھ نہیں۔ جو ہے جیسا ہے ویسا ہی دکھتا ہے۔ ہمارے اسلام پسند دوست بھٹو صاحب کے دور کو اپنی آزادی صحافت کے لئے بہت خطرناک اور سیاہ دور قرار دیتے نہیں تھکتے لیکن کبھی حوصلہ کریں تو وہ سارے ارشادات‘ مضامین‘ کالم او الزام دوبارہ سے چھاپ کر لوگوں کو بتائیں کہ یہ وہ اعلیٰ صحافت تھی جو ہم کرتے تھے۔ مجھے قوی امید ہے کہ ایک دو ارشادات و مضامین اور کالموں کی قند مکرر اشاعت کے بعد نئی نسل جو اس دور بارے صرف مطالعہ پاکستان کی معرفت شد بد رکھتی ہے ان کے سروں پر خاک ڈالے گی کہ یہ تھی تمہاری آزاد و نظریاتی صحافت۔ تاریخ کا جبر یہ ہے کہ آج وہ پرانے پاپی اور چند تازہ و گھاگ لبرل جناب نواز شریف کی اصول پسندی‘ دانش‘ حب الوطنی اور ملکی خدمات کو زیر زبر کے ساتھ پیش کر رہے ہیں۔ ہائے کیا وقت تھا جب 1988ء میں ماڈل ٹائون کے اتفاق ہائوسز میں سے ایک میں حسین حقانی کی سربراہی میں قائم میڈیا سیل روزانہ کی بنیاد پر اخلاق باختہ مضامین و پمفلٹ متحرمہ نصرت بھٹو اور بے نظیر بھٹو کے خلاف شائع کرتا تھا۔ کیسے کیسے ’’بلند قامت‘‘ بونے اس میڈیا سیل کے معاونین کے طور پر اسلام اور نظریہ پاکستان کا مضبوط دفاع کرنے میں مصروف تھے۔ کوئی وزیر آبادی تھا کوئی شام چوراسوی۔ یہ دو محض نشانیاں ہیں ایک صاحب وہ تھے جنہیں کچھ لوگ ان کے رنگ روغن کی وجہ سے پاکستانی صحافت کا گوربا چوف کہتے تھے۔ ایک صاحب تو ایسے بھی تھے جن کی اہلیہ پی پی پی شعبہ خواتین کی عہدیدار تھیں مگر ان کا چیتھڑا اخبار بھٹو خاندان بارے گندگی پھیلانے میں نمبر ون تھا۔ کونسی گالی‘ طعنہ اور الزام ہے جو بھٹو اور ان کے خاندان پر نہیں لگایاگیا۔

تیس پینتیس سال بعد وہی الزامات ‘ گالیاں اور غدار غدار کا شور نواز شریف کے لئے ہے تو ہمارے یہ بزرگ دوست صدمات سے نڈھال ہیں۔ بہت ادب سے عرض کروں حضور! یہ سب آپ کا کیا دھرا ہے‘ اخلاق باختگی کی یہ فصل آپ لوگوں نے بوئی تھی اب تو پاس کر یا برداشت کر والی صورتحال ہے۔ صحافت و سیاست کے ایک طالب علم کی حیثیت سے میری رائے یہی ہے کہ تیس پینتیس سال قبل بھی غلط ہوا تھا اورآج بھی بہت کچھ غلط کہا اور لکھا جا رہا ہے۔ نواز شریف کی سیاست‘ اڑان‘ ہوس زر‘ طرز حکمرانی‘ بھانڈوں اور مالشیوں کو نوازنے کی روش غرض ہے کہ ہرایک چیز کا تنقیدی جائزہ و تجزیہ سب کاحق ہے مگر ان پر غداری کی پھبتی نہیں کسی جانی چاہئے وہ کسی بھی دوسرے سیاستدان حاضر و سابق جرنیل و ججز اور مولانا کی طرح محب وطن ہیں۔ ان کا المیہ یہ ہے کہ وہ معاملہ فہم نہیں خالص کاروباری ہیں اس لئے ڈالر کے نرخوں کے ساتھ مزاج بدلتا رہتا ہے۔ بد قسمتی یہ ہے کہ جناب نواز شریف چالیس برسوں کے اپنے سیاسی حکومتی و خریدی گئی جلا وطنی کے سفر کا تجزیہ کرنے کی اہلیت سے محروم ہیں۔ آج بھی جو انہیں پاکستان کا واحد مقبول عام لیڈر اور جمہوریت پرست بنا کر پیش کر رہے ہیں ان کی اکثریت کے خیال میں جمہوریت کا مطلب شریف خاندان کی حکومت اور دستر خوان کی رونق ہے۔ کوئی ان بزرگ مہربانوں کو سمجھائے جمہوریت کا مطلب جمہور ہیں۔ سچ یہ ہے کہ جمہور سے کسی کو دلچسپی نہیں۔ مہنگائی و بے روز گاری‘ بد امنی‘ انتہا پسندی اور دوسرے مسائل کو دیکھ لیجئے پچھلے پانچ سالوں کے دوران غلط اعداد وشمار رپیش کرنے کے علاوہ کیا،کیا گیا؟ مکرر عرض کرتا ہوں جناب نواز شریف پر ملک سے غداری کے بھونڈے الزامات کی پتنگیں اڑانے کی ضرورت نہیں ان کی سیاست اور افکار کارد کیجئے یہ آپ کا حق ہے۔ یاد رکھئے نواز شریف اور ان کے مرحوم آقائوں نے جو الزاماتی و اخلاق باختگی کی فصلیں بوئی تھیں اب انہیں کاٹنا پڑ رہی ہیں جو فصل آپ بو رہے ہیں یہ پھر دانتوں سے کاٹنا پڑے گی۔ ضرورعی نہیں کہ نواز شریف نے جو غلط کیا ویسا غلط آپ بھی کریں۔ پاکستان کی ضرورت اعتدال پسند سماج او ر مساوات پر مبنی نظام ہے۔ خدا کے لئے ان دو امور کی اہمیت کو سمجھئے اور الزامات و فتوئوں کی جگالی چھوڑ دیجئے۔

متعلقہ خبریں