Daily Mashriq

ہم کبھی نہ چھوڑیں گے بات برملا کہنا

ہم کبھی نہ چھوڑیں گے بات برملا کہنا

فارسی زبان کے اس مقولے پر جس دن ہم نے عمل کیا ہمارے سارے مسائل دور ہو جائیں گے کہ آزمودہ را آزمودن جہل است۔ بحیثیت مسلمان بھی ہمارے لئے یہ بات مشعل راہ ہے کہ مومن ایک سوراخ سے صرف ایک ہی بار ڈسا جاتا ہے لیکن ہماری حالت یہ ہے کہ ہم نہ صرف ایک ہی سوراخ سے بار بار ڈسے جانے کی جہالت میں مبتلا ہیں بلکہ اس پر خوش بھی ہوتے ہیں۔ ہماری سیاست کا محور ہی دھوکہ‘ فریب‘ وعدہ خلافی‘ جھوٹ‘ مکر‘ بے ایمانی اور اسی قبیل کی دیگر برائیاں اور کمزوریاں ہیں جن کا ہم من حیث المجموع شکار ہیں۔ ایسے میں نظریات کہاں سے پنپ سکتے ہیں۔ قدم بڑھائو ہم تمہارے ساتھ ہیں کا فلسفہ مزید چلنے کا نہیں کیونکہ جیسی روح ویسے فرشتے‘ جو لوگ عوام کے ساتھ کئے گئے وعدوں کو اقتدار کی غلام گردشوں میں داخل ہوتے ہی بھول جائیں ‘ کہ تو کجا من کجا ‘ اور عوام تو بہت دور کی بات ہے کہ ان کی اہمیت تو صرف ووٹ کی پرچی تک ہی رہتی ہے۔ اپنی جماعت کو بھی ایک طرف رکھئے کابینہ کو بھی درخور اعتناء سمجھنا چھوڑ کر صرف کچن کیبنٹ تک خود کو محدود کردیں۔ پارلیمنٹ میں حاضری کو بھی کوئی اہمیت نہ دیں البتہ جب افتاد آن پڑے تو پھر ایوان ہائے بھی یاد آجائیں‘ اپوزیشن کی خوشنودی بھی ضروری سمجھی جائے۔ ایسے رہنمائوں کو اس وقت اپنا سایہ بھی چھوڑ کر راستے ہی میں کہیں پیچھے رہ جاتا ہے۔ اس کے بعد انہیں نظریوں میں پناہ ڈھونڈنے کے فلسفے سوجھتے ہیں تو ان پر ہنسی سے زیادہ رحم کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ کل تک عوام کو پرکاہ کے برابر اہمیت نہ دینے والوں کو اگر اقتدار سے محرومی کے بعد نظریات میں پناہ لینے کی سوجھ رہی ہے تو انہیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ سیاسی جماعتوں کے ساتھ تعلق رکھنے والے عموماً دودھ کے مجنوں ہوتے ہیں جو وقت پڑنے پر راہیں جدا کرنے میں ایک لمحے کی تاخیر نہیں کرتے اور معاف کیجئے گا ایک خاص صوبے میں سیاسی رہنمائوں کی اٹھان ہی اسی فلسفے کے تحت ہوئی ہے۔ ان کی اکثریت چڑھتے سورج کی پوجا کرنے والوں کی ہے۔ اس لئے اگر آج خود پارٹی کے اندر بھی دو بیانئے ایک دوسرے کے مقابل آچکے ہوں ‘ ایک تو آمادہ پیکار کا نظریہ اور دوسرا قوت کے اصل سر چشموں کے ساتھ کسی بھی پیکار سے انکار کا نظریہ تو وہاں ٹوٹ پھوٹ اور امن کے کونوں کھدروں میں پناہ ڈھونڈنے والوں کے فرار کو زیادہ دیر تک روکا نہیں جاسکتا۔ کیونکہ جن کی سرشت ہی میں مقابلے کی جرأت نہ ہو ان میں قوت برداشت عنقا ہوتی ہے۔ اس لئے تو کہتے ہیں

وہ بات کر جسے دنیا بھی معتبر جانے

تجھے خبر ہے زمانہ بدلتا جاتا ہے

دو باتیں اور ہیں‘ ایک تو ہر جماعت کے کلین سویپ کے دعوے اور دوسری بات ہر رہنماء کے بائیس کروڑ عوام کی جانب کے پر فریب نعرے‘ جہاں تک کلین سویپ کی بات ہے تو ایسے لگتا ہے کہ جو بھی یہ دعوے کرتا ہے اس کے حساب سے ’’ گلیاں ہون سنجیاں تے وچ مرزا یار پھرے‘‘ والی کیفیت ہے یعنی بس لوگ جوق در جوق گھروں سے امڈتے چلے آئیں گے اور اسی کی جماعت یا اتحاد کو ووٹ ڈال کر چلے جائیں گے۔ مقابل کوئی اور ہے ہی نہیں۔ ان دعوئوں میں کتنی حقیقت ہے اس سے قطع نظر در اصل یہ ساری باتیں عوام سے زیادہ خود کو دھوکہ دینے والی ہی لگتی ہیں کیونکہ اس قبیل کے دعوے کرنے والوں کو بھی علم ہے کہ میدان میں صرف وہی ’’مرزا یار‘‘ کی طرح دندنانے میں نہیں مصروف بلکہ دیگر کئی پارٹیاں بھی موجود ہیں۔ ایسے میں کلین سویپ کے دعوئوں سے دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے کہ سوا کچھ حاصل نہیں ہونے کا۔

دوسری بات بائیس کروڑ عوام کی حمایت کی ہے جو اتنی ہی پر فریب ہے جتنی یہ کلین سویپ کا دعویٰ۔ ارے خدا کے بندو بائیس کروڑ تو ملک کی کل آبادی ہے جس میں بچوں کی تعداد بھی چار پانچ کروڑ یقینا ہوگی۔ اسی طرح پھر آبادی کا وہ حصہ جو ابھی بلوغت تک نہیں پہنچا یعنی لڑکپن کے زمرے میں آتا ہے اور ظاہر ہے ان کے نام ابھی شناختی کارڈز بھی جاری نہیں ہوئے وہ بھی کروڑوں میں ہوں گے‘ رہ گئے وہ لوگ جو شناختی کارڈ تو رکھتے ہیں تاہم ان کے نام ووٹر لسٹ میں نہیں ہیں۔ انہیں بھی خارج کردیجئے۔ اب ان طبقوں کی جانب آئیے جو پسماندہ علاقوں میں رہتے ہیں۔ ان میں خصوصاً خواتین کو تو کسی قطار شمار میں رکھا اور سمجھا ہی نہیں جاتا اور ہمارے ہی ایک شعر کے مصداق

عشق و حسن سب فانی پھر غرور کیا معنی

کس شمار میں ہم ہیں‘ کس قطار میں تم ہو

ان خواتین کو تو وہاں کے مرد بشمول سیاسی رہنمائوں کے ووٹ کے لئے گھروں سے باہر لانے پر تیار ہی نہیں ہوتے انہیں بھی ’’اہل الرائے‘‘ کی فہرست سے خارج سمجھئے۔ تو حضور پیچھے کتنے لوگ رہ جاتے ہیں؟ اور پھر ان میں بھی کس پارٹی کے کتنے حمایتی ہیں یہ ایک الگ سوال ہے جبکہ بڑی تعداد ان غیر جانبدار لوگوں کی ہوتی ہے جو ہر حلقے میں امیدواروں کو دیکھ کر ہی ووٹ دینے یا پھر سرے سے نہ دینے کا فیصلہ کرتی ہے۔ ایسے میں یہ 22کروڑ کی حمایت کیا بہت بڑا سوال نہیں ہے؟ پھر آپ کس برتے پر اتنا بڑا دعویٰ کرتے ہیں؟

ہم کبھی نہ چھوڑیں گے بات بر ملا کہنا

ہاں نہیں شعار اپنا درد کو دوا کہنا

متعلقہ خبریں