Daily Mashriq


ترجیحات کا تعین ضروری

ترجیحات کا تعین ضروری

جب میاں نواز شریف کہتے ہیں کہ بہت کچھ برداشت کرلیا اب خاموش نہیں رہوں گا تو میرے جیسے عام پاکستانیوں کا خون کھول اٹھتا ہے ۔ جب اطراف میں کوئی شخص ڈھٹائی سے یہ کہتا ہے کہ اب برداشت کریں ناں ، نواز شریف کو تنگ کرینگے تو ان کا بولنا بنتا ہے ۔ اور ہم لوگ جن کی نہ کسی سیاسی پارٹی سے وابستگی ہے اور نہ ہی سیاست دانوں کی باتوں کا فہم ہمیں سمجھ آتا ہے ، ان لوگوں کی عقل پر ماتم کرتے ہیں ، یہ ملک ہی ہماری پہچان ہے ۔ اگر اس ملک کو کوئی نقصان ہوا تو نہ مسلم لیگ (ن) ہوگی ، نہ پیپلز پارٹی ، نہ پی ٹی آئی نہ جے یو آئی ، ان کی اور ان جیسی ہر چھوٹی بڑی سیاسی پارٹی کی دکان اس لیے سجی ہوئی ہے کہ شعبدہ بازی دیکھنے والے ارد گرد موجود ہیں اگر ملک میںہی مسائل پیدا ہوجائیں ۔ بیرونی طاقتیں ویسے ہی ملک میں انتشار پیدا کرنا چاہتی ہیں کوئی خدانخواستہ اس حد تک کامیاب ہو جائے کہ پاکستان کی حالت میکسیکو جیسی ہونے لگے ، افغانستان جیسے حالات پیدا ہو جائیں تو اس وقت یہ لوگ کہاں دکھائی دینگے ۔میاں نوا زشریف جو اس وقت ’’گاما سچار‘‘ بنے ہیں انہیں ابھی جان بچا کر لندن میں مقیم ہونا پڑے گا ، ورنہ صدام حسین کی طرح انہیں کسی جگہ سے گرفتار کیا جائے گا۔ یہ کونسا غصہ ہے جو میاں نواز شریف کو سانس نہیں لینے دیتا ۔ وہ آخر کس سے بدلہ لینا چاہتے ہیں ۔ وہ جو کہتے ہیں کہ میں نہ کھڑا رہا تو کوئی بھی کھڑا نہیں رہے گا یہ بات کیا وہ پاکستان کے حوالے سے کر رہے ہیں کیونکہ معلوم تو اب کچھ ایسا ہی ہونے لگا ہے ۔ وہ شاید پاکستان کو ہی ایسی شدید مشکلات سے دوچار کر نا چاہتے ہیں جس کے بعد وہ لندن کے کسی کونے میں بیٹھ کر یہ بیان جاری کر سکیں کہ دیکھا میں نہ کہتا تھا ، یہ وہ لوگ ہیں جوملک کو نقصان پہنچانے کا باعث بنے جنہوں نے مجھے بھی فارغ کردیا ۔ لیکن محض اپنی انا کی تسکین کے لیے وہ بائیس کروڑ لوگوں کے ملک کی قربانی دینا چاہتے ہیں یہ زیادتی ہے ۔ ان جیسے شخص کو اس ملک کے لوگوں نے اپنی جہالت کے باعث تین بار اس ملک کا وزیراعظم رکھا ہے ۔ ان کا تو ایک ایک جرم ایسا ہے جس پر ان کے خلاف الگ الگ مقدمہ چلنا چاہیئے ۔ ان کی حکومت کا صرف ایک یہ طرہ امتیاز ہی ان کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے کافی ہے کہ یہ اقربا پروری کرتے ہیں اور خوشامدی لوگوں کو ،انکی صلاحیت واہلیت دیکھے بغیر اہم عہدوں پر فائز کرتے ہیں ۔ یہ چلے بھی جائینگے تو یہ لوگ ان کے احسانات کے بدلے میں ان کے معاملات کی حفاظت کرینگے ۔ ان کے لیے فائلوں کے پیٹ بھریں گے اور معدے صاف رکھیں گے ۔

کیسی عجیب بات ہے کہ یہ اپنے بیانات سے اس ملک کو جو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں انہیں کوئی روکنے والا نہیں ، یہ کہتے ہیں کہ اب چُپ نہیں رہونگا ۔ ان کے ایک غیر ذمہ دارانہ بیان نے پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر متنازعہ بنادیا ہے ۔ امریکہ پاکستان کو کہہ رہا ہے کہ ’’اب پاکستان اپنا فیصلہ کرلے ۔ پاکستان ایک ہی وقت میں دہشت گردی سے متاثر بھی ہے اور اسی دہشت گردی کو تقویت دینے والا بھی ہے ‘‘۔ یہ معاملات کسی بھی نہج کی جانب گامزن ہوسکتے ہیں ۔ میاں نواز شریف کو اپنی حکومت جانے کا اتنا دُکھ ہے اور شاید احتساب عدالت میں معاملات کا جھکائو انہیں ایسی جانب محسوس ہورہا ہوگا جس سے انہیں اندازہ ہوگیا ہوگا کہ ان کے خلاف شواہد و ثبوت بہت واضح ہیں اب وہ کسی صورت انصاف سے بچ نہ سکیں گے ۔ انہوں نے ایک ایسا ہنگامہ برپا کر دیا ہے جس سے شاید وہ کچھ اپنی مجروح انا کو سکون پہنچا رہے ہیں اور شاید سُننے والوں کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اگر ان کا احتساب کیا گیا تو وہ پاکستان کو نا قابل تلافی نقصان پہنچائینگے ۔ وہ یہ واضح کردینا چاہتے ہیں کہ اس ملک کو کوئی حکمران کیسے بھی لوٹے احتساب کی کوئی گنجائش ، کسی بھی حد تک کبھی بھی نہیں نکلنی چاہیے ۔ میاں نواز شریف کے بیان کے حوالے سے میں نے اپنے پہلے کالم میں اس بات کی نشاندہی کی تھی کہ امریکہ اس بیان کو پاکستان کے خلاف کسی بھی طرح استعمال کر سکتا ہے ۔ اور اب اس جانب سے اشارہ ہوگیا ہے ۔ پاکستان کے اندر تو کئی دشمن ملکوں کے مفادات اپنے پیر اُلجھا ئے ہوئے ہیں ، ایسے میں میاں نواز شریف کے ایسے بیانات کس حد تک ملک کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں ، اس حوالے سے غور وفکر انتہائی ضروری ہے ۔ کسی سابق وزیرا عظم کو جس کی نااہلی کی وجوہات ہی 62اور 63پر پورا نہ اترنا ہو ، کسی قسم کاکوئی استثنیٰ بھی حاصل نہیں ہوتا ۔ ان کی باتوں کی صداقت کے حوالے سے چھان بین تو ایک جانب لیکن ان پر پاکستان کے مفادات کو نقصان پہنچانے کا مقدمہ تو بنتا ہی ہے ۔ ایک سابق وزیراعظم کس حد تک پاکستان کے لیے نقصان دہ باتیں کرنے کامجازہے اور انہیں اس بات کی اجازت کب تک دی جائیگی ، اس بات کا فیصلہ ہونا بہت ضروری ہے ۔ کوئی بھی وزیراعظم بے شمار ایسے راز جانتا ہے جن کویوں بیان کر دیا جانا ، کسی بھی ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ ہو سکتا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ کیا میاں نواز شریف کو محض اس لیے اس بات کی اجازت دی جا سکتی ہے کہ فی الحال ان کی حمایت کی حکومت ہے یا ہم دنیا کو یہ تاثر نہیں دینا چاہتے کہ ان کی باتوں میں کچھ سچائی ہے ۔ اس وقت یہ فیصلہ کرنا بہت ضروری ہے ۔ ترجیحات کا تعین ضروری ہے ۔

متعلقہ خبریں