Daily Mashriq

قصاب سے معذرت کے ساتھ

قصاب سے معذرت کے ساتھ

یوں تو ہم خاصے ڈرپو ک واقع ہوئے ہیں لیکن قصاب سے ہمیں کچھ زیادہ ہی ڈر لگتا ہے ۔ اس کی وجہ یقینا وہ چھری ہے جسے قصاب بے دریغ استعمال کرنے کی خداداد صلاحیت رکھتے ہیں ۔ہمیں یوں بھی خون خرابے سے ڈر لگتا ہے اور قصائی کی چھری تو ہوتی ہی خون نکالنے کے لیے ہے۔ کچھ برس پہلے رمضان میں ہم ایک قصاب سے گوشت خرید رہے تھے کہ اس نے حسب عادت کچھ زیادہ ہی ہڈیاں ڈال دیں ۔ ہم نے زیر لب احتجاج کیا تو قصاب نے ہمیں اپنی لال لال آنکھوں سے گھورا تو قدرتی طور پر ہم پہلے تھوڑا سا سہمے اور پھرخاموش ہوگئے ۔مگر جب پیسے دینے کی باری آئی تو ہمارے ہوش ہی اڑگئے کہ موصوف نے خودکار نظام کے تحت گوشت کی قیمت بڑھا لی تھی ۔ ہم نے وجہ پوچھی تو فرمایا کہ’’ تمہیںنہیں پتہ رمضان ہے ‘‘۔گویا رمضان میں کسی بھی چیز کی قیمتیں بڑھا ناکسی بھی دکاندار کا استحقاق ہوجاتا ہے اور قصاب کوتو استحقاق کی بھی ضرورت نہیں ہوتی،یعنی ’’جس کی چھری اس کی بھینس ‘‘۔ ہم نے پیسے دیتے وقت یونہی کہہ دیا کہ’’ تم تو واقعی قصاب ہو ‘‘لو جی بندہ خدا نے فوراً چھری اٹھالی کہ ہم نے قصاب کس کو بولا۔ یہ تو اچھا ہوا کہ ایک دوسرا گاہک دکان پر آگیا تھا ورنہ ہماری خیر نہ تھی۔ وہ دن اور آج کا دن قصاب سے پنگا لینے کی کبھی کوئی کوشش نہیں کی ۔ ہماری انتظامیہ بھی شاید قصاب کے حوالے سے اسی نظریے کی قائل ہے ورنہ موجودہ رمضان میں خود کار سسٹم کے تحت گوشت کی قیمتیں نہ بڑھائی جاتیں ۔ہم بھی تو کچھ زیادہ ہی گوشت خور واقع ہوئے ہیں ورنہ بندہ احتجاجاً گوشت خریدنا اور کھانا بند کردے لیکن کیا کیا جائے کہ منہ کو یہ کافرلگا ہوا ہے ۔ خبر ہے کہ صرف پشاورکے شہری روزانہ تین لاکھ تراسی ہزار کلو گوشت اور قیمہ کھاجاتے ہیں ۔سری پائے ، اوجڑی وغیرہ جیسے سپیئر پارٹس اس تخمینے سے الگ ہیں جس کا حساب کیا جائے تو بات کہیںدور چلی جائے گی۔ گویاپشاوری تیرہ کروڑ چوالیس لاکھ روپے کا گوشت روزانہ خریدتے ہیں ۔ ظاہر ہے جب خریدتے ہیں تو چیل اور کوئوں کوتو نہیں ڈالتے ہوں گے ، پکاتے اور کھاتے ہوں گے ۔تقریباًبارہ لاکھ نفوس کی آبادی کے لیے گوشت کی یہ مقدار کچھ زیادہ نہیں ہے ؟ یعنی سارا شہر ہی گوشت کا دیوانہ ہے سو بھائی قصاب کے نخرے تو برداشت کرنے پڑیں گے ۔ انتظامیہ بھی یقینا اسی پیمانے پر سوچتی ہوگی کہ اگر شہرکے قصابوں کو لگام ڈالنے کی کوشش کی جائے اور وہہڑتال پر چلے جائیں تو عوام بیچارے کیا کریں گے۔ گوشت نہ ملنے پر ان پر کیا بیتے گی ۔ ظاہر ہے گوشت ہی تو زندگی ہے ۔ میں اکثر بلڈپریشر ، دل اور یورک ایسڈوغیرہ کے مریضوں کو دعوتوں میں گوشت کی ڈشوں پر ہلا بولتے دیکھتا ہوں تو ان عزیزوں اور دوستوں پر ترس ہی آتا ہے کہ بیچاروں سے کنٹرول نہیں ہوتاگھروں میں تو وہ اس پابندی کوجھیل لیتے ہوں گے لیکن دعوتوں میں بھلا کون دیکھ رہا ہوتا ہے ۔ پہلے شہر میں ایک مشہور بازار ’’ڈوماگلی ‘‘میں گوشت کی دکانیں تھیں ۔عام بازاروں میں ایک آدھ دکان گوشت کی ہوا کرتی تھی۔ لیکن اب دیکھیں تو ہر جگہ گوشت کی دکانیں کھلی نظر آتی ہیں ۔ گویا اس جنس کی طلب کچھ زیادہ ہی ہے ۔ کیونکہ ہردکان کے آگے دو چار گاہک ہر وقت موجود ہوتے ہیں ۔ گویا ہم مزاجاًشیر سے ملتے جلتے ہیں ۔شیر سے خداراکوئی اور مطلب نہ لیا جائے وہ والا شیر بہت زیادہ مذکور ہوچکا ہے ۔ہم اصلی شیر کی بات کررہے ہیں جو واقعی شیر ہوتا ہے جو پیٹ بھر کر گوشت کھاتا ہے اور باقی وقت جی بھر کرسویا رہتا ہے ۔ ہم اگرچہ شہروں میں رہتے ہیں اور شیر جنگل میں۔ جنگل میں قانون نہیں ہوتا اور اگر ہوتا ہے تو اس قانون کا تعین وہی کرتا ہے کہ جو طاقتور ہوتا ہے ۔ ہمارے شہروں میں ایسی صورتحال نہیں یہاں راوی چین ہی چین لکھتا ہے ۔قانون پر مکمل عمل درآمد ہوتا ہے ۔ جزوی طور پر کہیں چوری چکاری ،بھتہ خوری ، اغواء برائے تاوان ،چھوٹی موٹی بدمعاشیوں کے علاوہ باقی معاملات تو ٹھیک ہی ہیں۔ ملاوٹ ، خودساختہ مہنگائی ، نرخ ناموں پر ہلکا پھلکا عمل درآمدنہ ہونا کوئی اتنی بڑی بات نہیں ،بڑے بڑے شہروں میں ایسی چھوٹی چھوٹی باتیں ہوجایا کرتی ہیں ۔ تو قصابوں کی چھوٹی چھوٹی باتوں پر عوام اور انتظامیہ درگزر کرلے تو اس میںبرائی کیاہے بھلا۔ جیسے ہمیں دعویٰ ہے کہ ہماری پولیس پنجاب کی پولیس سے بہت بہتر ہے ویسے ہم یہ دعویٰ بھی تو کرسکتے ہیں کہ ہمارا قصاب بھی پنجاب کے قصاب سے بہت بہتر ہے کم ازکم ہمیں گائے ، بھینس اور بکرے کا جینوئن گوشت ہی کھلاتا ہے ورنہ پنجاب کے قصائیوں نے کیا کیا کچھ نہیں کھلایا اپنے شہریوں کو ۔سو اس ناطے ہمارے قصاب قابل داد و تحسین ٹھہرتے ہیںکہ وہ گدھے وغیرہ کی کھال اتارنے کی بجائے عوام کی کھال اتارنے کو ترجیح دیتے ہیں ۔ تو حضرت قصاب ہماری کھال حاضر ہے جیسے چاہیں اتارلیں ۔رہی بات ضلعی انتظامیہ کی تو ان سے کیا گلہ فیس بک پر تو ان کی کارکردگی سوفیصد سے بھی زیادہ دکھائی دیتی ہے ۔کمشنر ،ڈپٹی کمشنروں کی اور بھی مصروفیات ہوتی ہیں سو قیمہ پانسو کا بکے اور گوشت چارسو کابکے عوام کی قوت خرید ہے تو خرید رہی ہے۔ خودبھی تو مذکورہ افسران انہی نرخوں پر گوشت وغیرہ خرید رہے ہوں گے سو ہم انہیں یہی مشورہ دیں گے کہ ’’سختی سے نمٹا جائے گا‘‘’’قانون کی خلاف ورزی نہ کرنے دی جائے گی ‘‘جیسے پیارے پیارے جملے فیس بک پر چسپاں کرتے رہیں ۔عوام کا کیا ہے بچے کی طرح رو دھوکر چپ ہوجائیں گے ۔اوررمضان کا کیا ہے گزرتا ہے گزر جائے گا۔

متعلقہ خبریں