Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

سیرت ابن ہشام میں ابن اسحاق سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ شاہ یمن مالک بن نصرنے ایک بھیانک خواب دیکھا ، جس کی وجہ سے اس پر دہشت طاری ہوگئی ۔ چنانچہ اس کی رعایا میں جس قدر کا ہن ، ساحر اور نجومی تھے ، سب کو طلب کیا ۔ بادشاہ نے کہا اگر میں خود خواب تمہارے سامنے بیان کردوں تو تمہاری بیان کردہ تعبیر سے میں مطمئن نہیں ہوں گا ۔ میں صرف اس شخص کی تعبیر سے مطمئن ہوں گا ، جو میرے بتانے سے قبل خود خواب بیان کرے ۔ یہ سن کر سب نے آپس میںمشورہ کر کے کہا کہ جو بادشاہ سلامت چاہتے ہیں ، وہ شق اور سطیح کے علاوہ کوئی تیسرا شخص نہیں بتا سکتا ۔ جب وہ دونوں حاضر ہوئے تو پہلے بادشاہ نے سطیح سے پوچھا ، اس نے جواب دیا کہ جہاں پناہ آپ نے خواب میں ایک کھوپڑی دیکھی ہے ، جو تاریکی میں نمودار ہوئی اور اس نے تمام کھوپڑی والوں کو کھالیا ۔ بادشاہ نے یہ سن کر کہا کہ بالکل صحیح ہے ، اب تم مجھ کو اس کی تعبیر بتائو ۔ سطیح نے کہا کہ آپ کے ملک پر حبشیوں کا نزول ہوگا اور ابین اور جرش کے درمیان جتنی زمین ہے ، وہ سب کے مالک ہو جائیں گے ۔ بادشا ہ یہ سن کر بولا کہ سطیح یہ تو تونے بڑی درد ناک و دل خراش بات بتائی ہے ۔ اچھا یہ بتا کہ یہ واقعہ کب ہوگا؟ آیا میرے دور حکومت میں یا میرے بعد ؟ اس نے جواب دیا کہ آپ کے ساٹھ یا ستر برس بعد یہ واقعہ پیش آئے گا ۔ اس کے بعد حبشیوں سے لڑائی ہوگی اور وہ وہاں سے نکال دیئے جائیں گے ۔ بادشاہ نے پوچھا کہ ان کو کون نکالے گا ؟سطیح نے جواب دیا کہ ابن ذی یزن عدن ان پر خروج کرے گا اور ان میں سے کسی کو یمن میں نہیں چھوڑے گا ۔ بادشاہ نے پوچھا کہ ابن ذی یزن کی حکومت قائم رہے گی یا ختم ہوجائے گی ؟ اگر ختم ہوگی تو کون ختم کرے گا ؟ کاہن نے جواب دیا کہ ایک نبی ذ کی جس نے پاس اُس کے رب تعالیٰ کے یہاں سے وحی آئے گی ، اس کو ختم کرے گا ۔ پھر بادشاہ نے دریافت کیا کہ یہ نبی کس قوم سے ہوں گے ؟ سطیح نے جواب دیا یہ نبی غالب بن فہرابن مالک بن نصر کی اولاد سے ہوں گے اور ان کی قوم میں آخروقت تک حکومت رہے گی ۔ بادشاہ نے یہ سن کر پوچھا کہ ان کا زمانہ بھی کبھی ختم ہوگا ۔ سطیح نے جواب دیا کہ ضرور ہوگا ۔ اس دن اولین وآخرین جمع کئے جائیں گے اور جو نیکو کار ہوں گے ، وہ خوشحال ہوں گے اور جو گناہ گار ہوں گے ، وہ بد حال ہوں گے ۔ پھر بادشاہ نے پوچھا کہ اب سطیح جو کچھ تو کہہ رہا ہے ، آیا یہ سچ ہے ؟ سطیح نے جواب دیا کہ میں شفق ، غسق اور چاندکی (جب وہ پورا ہو جائے ) کی قسم کھا کرکہتا ہوں کہ جو کچھ میں نے بتایا ، وہ بالکل صحیح ہے ۔ اس کے بعد بادشاہ نے شق کو بلایا اور اس سے بھی یہی سوالات کئے ۔ اس نے بھی وہی باتیں کیں جو سطیح نے کہی تھیںاور نبی آخر کے مبعوث اور حق و عدل کے قائم ہونے کی بات کی بادشاہ نے جب ان دونوں کاہنوں کی پیش گوئی میں مطابقت پائی تو اس کو یقین ہوگیا اور اس نے خوف کی وجہ سے اپنے محل کو بحیرہ منتقل کر دیا ۔

( حیات الحیوان ، جلد دوم )

متعلقہ خبریں