Daily Mashriq

’مجرم خاتون کا پارلیمانی رہنماؤں کے اجلاس کی صدارت کرنا غیر منصفانہ ہے‘

’مجرم خاتون کا پارلیمانی رہنماؤں کے اجلاس کی صدارت کرنا غیر منصفانہ ہے‘

وزیراعظم کی مشیر اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت کی جانب سے مجرم قرار دی گئی خاتون کا پارلیمانی رہنماؤں کے اجلاس کی صدارت کرنا غیر منصفانہ ہے۔

نیشنل پریس کلب میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے فردوس عاشق اعوان نے خبر دار کیا کہ اگر اپوزیشن نے حکومت کے خلاف طاقت کا استعمال کرنے کی کوشش کی تو اس سے اسی طرح نمٹا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ عدالت کی جانب سے مجرم قرار دی گئی ایک خاتون پارلیمنٹ ہاؤس پہنچی اور بیان دیا کہ وہ عمران خان کو وزیراعظم نہیں مانتیں، تاہم میں ان سے کہنا چاہوں گی کہ آپ عدالتوں، اس کے فیصلوں، آئین پاکستان، اداروں اور جمہوری نظام پر یقین نہیں رکھتیں۔

فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا مریم نواز اپنا بیانیہ اکثر بدلتی رہتی ہیں کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ ملک سے باہر جانا چاہتی ہیں، حالانکہ شریف برادران کا بیانیہ بھی مختلف ہے۔

مشیر اطلاعات نے کہا کہ ایک بھائی لندن میں لاپتہ ہوگئے ہیں جبکہ ایک جیل میں موجود ہیں۔

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ مریم نواز اکثر کہتی رہتی ہیں کہ ’ووٹ کو عزت دو‘ لیکن حقیقت میں ان کا مطلب ہوتا ہے کہ ’نوٹ کو عزت دو‘۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ اپوزیشن کے پاس احتجاج کا حق موجود ہے، لیکن یہاں عوام کو یہ دیکھنا ہے کہ یہ احتجاج حقیقی معنوں میں عوام کے مفاد میں ہے یا پھر اس میں سیاست دانوں کا اپنے کرپٹ اقدامات کو بچانے کا مقصد شامل ہے۔

مریم نواز کی جانب سے مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی رہنماؤں کے اجلاس کی صدارت سے متعلق فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ یہ غیر منصفانہ ہے کہ ایک مجرم منتخب نمائندوں کے اجلاس کی صدارت کرے۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ وہ اپنے غلط کارناموں کو چھپانے کے لیے جمہوریت کو گالی دے رہے ہیں۔

پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام سے متعلق مشیر اطلاعات نے کہا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھایا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایسا کوئی قانون نہیں بنایا جائے گا جس کی وجہ سے میڈیا ورکرز کی ملازمت داؤ پر لگے یا آزادی اظہار رائے پر قدغن لگے۔

مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن (پی بی اے) کی جانب سے نئے چینل لانچ کرنے کے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ میڈیا انڈسٹری کی ترقی کو روکنے کی ایک کوشش ہے۔

انہوں نے کہا کہ نئے چینل سے متعلق ہم پی بی اے سے مذاکرات کریں گے کیونکہ نئے چینلز کی وجہ سے نہ صرف حکومت کی آمدن میں اضافہ ہوگا بلکہ اس سے صحافیوں کے لیے ملازمت کے مزید مواقع پیدا ہوں گے۔

مشیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ ان میڈیا ہاؤسز کے ساتھ بات چیت ہوگئی ہے جنہوں نے اپنے ملازمین کی تنخواہیں ادا نہیں کی تھیں۔

متعلقہ خبریں