Daily Mashriq


سیاسی اُفق پر آل پارٹیز کانفرنس کا ارتعاش

سیاسی اُفق پر آل پارٹیز کانفرنس کا ارتعاش

وطن عزیز کی سیاست میں سخت اختلافات اور تضادات کے باوجود سیاسی جماعتوں کا وقت آنے پر اکٹھا بیٹھنا اور کسی تحریک وسیاسی مقاصد کیلئے ایک پلیٹ فارم پر متحد ہونے کی ایک تاریخ ہے۔ سابق وزرائے اعظم اور مسلم لیگ(ن) کے اس وقت کے قائد نواز شریف اور سابق وزیراعظم وسربراہ پاکستان پیپلزپارٹی محترمہ شہید بینظر بھٹو کا اسی ماہ مئی میں تیرہ سال قبل میثاق جمہوریت ملکی تاریخ کا وہ سیاسی باب تھا جس کے بعد ملک میں سیاست کی نوعیت ہی تبدیل ہوگئی اور اسی وقت سے ہی اسٹیبلشمنٹ نے بھی ان دو سیاسی جماعتوں سے مایوسی کے بعد متبادل کی سعی شروع کی۔ میثاق جمہوریت کے بعد شہید محترمہ بینظیر بھٹو کیساتھ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے نواز شریف نے جس میثاق کو اگلی نسل تک لیجانے کی بات کی وہ گزشتہ روز مسلم لیگ(ن) سمیت حزب اختلاف کی جماعتوں کو پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی افطار پارٹی میں مریم نواز کی بھی شرکت سے پوری ہوگئی۔ افطار پارٹی میں پاکستان کے موجودہ سیاسی، اقتصادی، انسانی حقوق اور دیگر مسائل پر سیرحاصل گفتگو کے بعد بلاول بھٹو نے کہا کہ کوئی سیاسی جماعت تنہا پاکستان کے مسائل کا حل نہیں نکال سکتی۔ پاکستان مسلم لیگ(ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ میثاق جمہوریت کا یہ فائدہ ہوا کہ دو جمہوری طاقتوں نے اپنی حکومت کی مدت پوری کی۔ ان کا کہنا تھا کہ میثاق جمہوریت کا سلسلہ محض ادھر ہی ختم نہیں ہوا بلکہ اس کو آگے لیکر چلیں گے۔ اگرچہ افطار ڈنر میں مسلم لیگ(ن) کی سینئر قیادت بھی شریک تھی لیکن ایسا لگ رہا تھا کہ مسلم لیگ(ن) کی قیادت مریم نواز کر رہی تھیں، دیکھا جائے تو یہ نواز شریف کے بیانیہ کو لیکر حزب اختلاف کے سینئر سیاستدانوں اور قائدین کی موجودگی میں مریم نواز کی سیاست میں پہلی عملی انٹری تھی جس میں عیدالفطر کے بعد آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا فیصلہ کیا گیا، حکمران جماعت جو قبل ازیں حزب اختلاف کو احتجاج کی باقاعدہ دعوت دیکر کنٹینر فراہم کرنے کی دعوت دیا کرتی تھی اس سیاسی بیٹھک سے خاصی دباؤ کا شکار دکھائی دے رہی ہے جس کی وجہ سیاسی سے بڑھ کر ملک کی معاشی صورتحال، مہنگائی اور گرانی ہے جس پر عوام کی حکومت سے ناراضگی فطری امر ہے۔ اسی کے باعث ہی حزب اختلاف کی جماعتوں کو بھی لوہا گرم نظر آنے لگا ہے جے یو آئی کے قائد مولانا فضل الرحمن تو شروع دن سے حکومت کیخلاف میدان عمل میں ہیں۔ ان کی اعلانیہ ودرپردہ کوششیں پوشیدہ نہیں، سیاسی رہنما حکومت مخالف اتحاد پر متحد ہی نہیں اس سے بھی آگے کی سوچ رکھتے ہیں۔ نیشنل پارٹی کے رہنما سینیٹر میر حاصل بزنجو نے کہا کہ اے پی سی سے مراد یہ نہیں کہ وہاں ہم بیٹھیں گے اور اٹھ کر چلے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ عید کے بعد باقاعدہ طور پر اپوزیشن کا اے پی سی ہوگا۔ میر حاصل بزنجو نے کہا کہ اے پی سے ملک میں تاریخی طور پر ایک نیا اپوزیشن اتحاد سامنے آئے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اپوزیشن آج فیصلہ کر لے کہ ہم حکومت کو گرائیں گے تو یہ حکومت نہیں چل سکے گی۔ قومی وطن پارٹی کے آفتاب احمد شیرپاؤ نے کہا کہ ملک جن حالات سے گزر رہا ہے ایسی صورتحال میں اپوزیشن جماعتیں بیٹھی نہیں رہ سکتیں۔ اس سے واضح ہے کہ حکومت کیخلاف اپوزیشن ممکنہ طور پر گرینڈ الائنس کے مشن کا آغاز کرنے جارہی ہے جہاں حکومت مخالف تمام بڑی سیاسی جماعتیں آئندہ کی حکمتِ عملی طے کریں گی۔ ملک میں بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال نے حزب اختلاف کو نیا ولولہ دیا ہے تاہم گزشتہ روز کی ملاقات کے بعد حزب اختلاف کی جماعتوں نے حکومت کو کوئی فوری چیلنج دینے کا فیصلہ نہیں کیا ہے۔ پیپلز پارٹی کی اس افطار کی دعوت کو حکومتی حلقوں میں توقعات کے مطابق اچھی نظر سے نہیں دیکھا گیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے ٹویٹر پر ایک بیان میں کہا کہ بدقسمتی سے اس بابرکت مہینے میں عوام کو مسائل کا روزہ رکھوانے والے افطاریوں کی آڑ میں ذاتی، سیاسی اور کاروباری مفادات کے تحفظ میں مصروف عمل ہیں۔ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں افطار کے نام پر منتخب جمہوری حکومت کیخلاف سازش کرنا افسوسناک ہے۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی کی رہنما ڈاکٹر نفیسہ شاہ کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی کے افطار سے حکومت پریشان ہوگئی ہے۔ حزب اختلاف اکٹھی ہونے سے بیساکھیوں پر قائم حکومت لرز رہی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت کے پاس حزب اختلاف کے بیانیہ کا مؤثر اور مسکت جواب دینے کیلئے رمضان المبارک کے بقیہ دن اور عید کے بعد سے حزب اختلاف کے آئندہ لائحہ عمل طے کر کے آنے تک کے دن ہیں اس دوران معاشی حالات میں بہتری، آئے روز مہنگائی میں کمی لائی جائے تو عوام کی جانب سے حزب اختلاف کی مساعی کو زیادہ پذیرائی نہ ملے گی۔ سخت حالات کے باوجود اب بھی تحریک انصاف کی عوامی حمایت موجود ہے اور عوام وزیراعظم عمران خان کی قیادت سے مایوس نہیں ہوئے البتہ عوام مہنگائی سے نالاں ضرور ہیں۔ حزب اختلاف کی جماعتیں بجٹ پیش ہونے کے بعد ہی کسی بڑے فیصلے کے نتیجے پر پہنچیں گے اسلئے حکومت کو بجٹ میں عام آدمی کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کی ضرورت ہوگی۔

متعلقہ خبریں