Daily Mashriq

احتساب اور خوف کی فضا پیدا کرنے میں فرق

احتساب اور خوف کی فضا پیدا کرنے میں فرق

چیئرمین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال نے ارباب اختیار اور حکومت سے اپیل کی ہے کہ جن کے کیسز نیب میں چل رہے ہیں انہیں عہدے نہ دئیے جائیں۔ چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ الزام لگایا گیا کہ نیب کی وجہ سے بیوروکریسی کام نہیں کررہی، آئندہ کسی بزنس مین کو نیب میں نہیں بلاؤںگا۔ جسٹس(ر) جاوید اقبال نے کہا کہ معاشی سرگرمیاں اس وقت کامیاب ہوتی ہیں جب آپ کے پاس جامع پالیسی ہو اور اس پر عملدرآمد کیلئے سنجیدہ افرادی قوت ہو، گیس، بجلی، پانی، امن وامان کی صورتحال ان میں سے کس شعبے میں نیب کہاں سے آتا ہے۔ چیئرمین نیب کے بعض سوالات اور باتوں سے تو اختلاف کی گنجائش نہیں ان کے سوالات کا تعلق حکومت اور جن اداروں سے ہے ان کو ان سوالات پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ جہاں تک کاروباری طبقے کو ہراساں کرنے اور نیب کی جانب سے تفتیش کے دوران اختیار کردہ رویہ یا پھر گرفتاریوں اور مقدمات کا تعلق ہے یہی وہ غلطیاں اور تجاویز تھیں جس کے باعث نیب کے حوالے سے منفی تاثرات اُبھرے۔ نیب کی حراست میں ایک پروفیسر کا ہتھکڑیوں سمیت ہسپتال میں انتقال، وائس چانسلر اور سینئر اساتذہ کو ہتھکڑیاں لگا کر عدالت میں پیش کرنا، گرفتاریوں اور ریفرنسز میں عجلت اور بعد ازاں عدالت میں کمزور کیس اور ٹھوس شواہد نہ ہونے پر ان افراد کی رہائی یا پھر بری ہوجانا یہ نہ تو افسانے ہیں اور نہ ہی الزامات بلکہ ٹھوس حقائق ہیں۔ بزنس کمیونٹی نہایت حساس طبقہ ہے جو پوچھ گچھ اور سوالناموں سے قبل ہی خود کو الگ کرنے کی عادی ہے جب ملک میں اس قسم کا ماحول پیدا ہوجائے تو اس سے براہ راست اور بالواسطہ طور پر متاثرہونا فطری امر ہے۔ شاید چیئرمین نیب کو حالات نے وہ سب کچھ سمجھا دیا ہے جو بار بار توجہ دلانے کے باوجود سمجھنے کی کوشش نہیں کی جارہی تھی۔ جاری معاشی حالات میں احتساب ٹھوس اور عدالت کیلئے پوری طرح قابل قبول شواہد پر ہی ریفرنس دائر کرنے اور گرفتاری کا متقاضی ہے۔ ملک میں احتساب کے نام پر احتساب ہی ہونا چاہئے خوف طاری کرنے سے اجتناب کیا جانا چاہئے۔

ہسپتال سرکاری، فیس پرائیویٹ

حکومت کی جانب سے ہسپتالوں کی نجکاری کی تردید درست ہی ہوگی لیکن سرکاری ہسپتالوں کو سرکاری نگرانی میں پرائیویٹ ہسپتال بنانے کی کوششوں کی معروضی صورتحال میں تردید ممکن نہیں۔ ہمارے نیوز رپورٹر کے مطابق اضلاع کے سرکاری ہسپتالوں میں فیسوں کے اضافے کے فیصلے کی روشنی میں ڈیرہ اسماعیل خان سے ابتداء کر دی گئی ہے جہاں پر انتظامیہ نے پہلی بار ہسپتالوں میں زچگی کیلئے ایک ہزار روپے فیس مقرر کرنے کیساتھ ساتھ 13دیگر شعبوں میں بھی پہلی مرتبہ خدمات کیلئے نئی فیس کا تعین جبکہ معمولی نوعیت کے آپریشن کی فیس میں 775 اور بڑے آپریشن کیلئے فیس1775روپے بڑھا دی ہے جس کی وجہ سے مریضوں کو نجی شعبے کے برابر فیس سرکاری سطح کے ہسپتالوں میں بھی دینا پڑے گی۔ گزشتہ ہفتے وزیر صحت کی جانب سے تردید کے باوجود بھی ڈیرہ کے ہسپتالوں میں نئی فیس لاگو کرنے کے بعد صوبے کے دیگر ہسپتالوں میں بھی اضافی فیسوں پر علاج کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ جلد ہی باضابطہ طور پر اس کا اعلان کیا جائے گا۔ سمجھ سے بالاتر امر یہ ہے کہ ایک جانب صوبائی حکومت صحت کارڈ کے ذریعے مفت علاج کی سہولت کی فراہمی کا دعویٰ کر رہی ہے تو دوسری جانب سرکاری ہسپتالوں کی فیسوں کی حد تک پرائیوٹائزیشن کی جارہی ہے۔ اب عوام کیلئے سرکاری ہسپتالوں میں مفت علاج کی سہولت باقی نہیں رہی جس سے صوبے کے لاکھوں افراد اور بالخصوص مریضوںکو مایوسی ہونا فطری امر ہوگا۔ حکومت کو اس فیصلے پر نظرثانی کرنی چاہئے اور اپنے مشورے کے مطابق عوام کوصحت کی مفت سہولیات کی فراہمی کیلئے اقدامات کرنے چاہئیں۔

این ٹی ایس شفاف طریقہ اپنائے

محکمۂ تعلیم خیبر پختونخوا کی جانب سے سکول پالیسی کی شرط کے خاتمے سے متعلقہ ضلع میں میرٹ پر بھرتی سے بہت سے زائد العمر ہونے کے خطرے سے دوچار قابل نوجوانوں کو مواقع میسر آئیں گے۔ این ٹی ایس کے ذریعے ٹیسٹ پر قبل ازیں امیدواروں کو جو تحفظات تھے اور بعض تحفظات کے درست ہونے کی تصدیق بھی ہوگئی تھی کوشش کی جائے کہ اس کا اعادہ نہ ہو اور بھرتیاں خالصتاً میرٹ کی بنیاد پر ہوں تاکہ حقداروں کو ان کا حق ملے۔

متعلقہ خبریں