Daily Mashriq

ایر ان امریکا کشیدگی

ایر ان امریکا کشیدگی

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران سے متعلق ان کی پالیسی پر امریکی حکومت میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ گزشتہ جمعہ کو انہوں نے واشنگٹن ڈی سی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بعض ذرائع ابلاغ یہ افواہیں اُڑا رہے ہیں کہ ان سے بعض اپنے ناراض ہیں، انہوں نے یہ یقین دلایا کہ وہ اپنی ٹیم کے کسی فرد سے ناراض نہیں ہیں اور اپنے تمام فیصلے خود کر رہے ہیں، ٹرمپ نے خصوصی طور پر قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن اور وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا نام لیکر ان کی تعریف کی اور کہا کہ وہ بہت اچھا کام کر رہے ہیں، امریکی صدر کی اس وضاحت سے قبل ایسی خبریں آرہی تھیں کہ ان کی کابینہ کے ارکان جان بولٹن اور مائیک پومپیو کے درمیان اختلاف شدت اختیار کر گئے ہیں، امریکی صدر کے بارے میں ذرائع ابلاغ میں کہا جا رہا تھا کہ وہ محولہ بالا افراد پر شدت سے برہم ہیں کیونکہ ان کے بقول یہ دو حضرات انہیں ایران کیساتھ جنگ کی طرف دھکیلنا چاہتے ہیں، واضح رہے کہ یہ دونوں حضرات ایران سے متعلق سخت پالیسی اختیار کرنے کے حامی ہیں اور بعض حلقوں کا مؤقف ہے کہ ان دونوں نے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی پیدا کر رکھی ہے اور کشیدگی پھیلانے میں دونوں نے بنیادی کردار ادا کیا ہے جبکہ ایرانی حکام اور بعض ان کے ناقدین کا الزام ہے کہ وہ ایران کی حکومت کا تختہ الٹنے کے خواہش مند ہیں۔ ادھر امریکی ذرائع ابلاغ نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ جمعرات کو بعض امریکی حکام نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ صدر ٹرمپ نے اپنے مشیروں کیساتھ ایک اجلاس میں صاف کہہ دیا ہے کہ وہ ایران سے جنگ نہیں چاہتے، امریکی حکام کے مطابق صدر عبوری وزیر دفاع پیٹرک شناہن کو بھی بتا چکے ہیں مگر عالمی تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ ایسی چالیں امریکا مغالطے رکھنے کیلئے بھی کرتا ہے ورنہ صدر ٹرمپ کو شفاف کہہ دینا چاہئے کہ ایران کیساتھ جنگ ان کی ترجیح نہیں ہے، یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے اپنی 2016 کے صدارتی انتخابات کی مہم کے دوران وعدہ کیا تھا کہ وہ امریکا کو مزید کسی جنگ میں نہیں گھسیٹیں گے، اس دوران انہوں نے افغانستان اور عراق کی جنگوں پر کڑی تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ یہ جنگیں امریکا کو بہت مہنگی پڑی ہیں لیکن ٹرمپ یہ بھی کہتے ہیں کہ امریکا کے مفادات کیلئے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔

امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی رواں ماہ کے آغاز پر اس وقت زور پکڑ گئی جب امریکا نے اپنا ایک طیارہ بردار بحری جہاز، جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت کے حامل جنگی طیارے اور میزائل بیڑیاں مشرق وسطیٰ روانہ کردی تھیں۔ گویہ کہا جا رہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ وہ ایران کیساتھ جنگ نہیں چاہتے اس کے باوجود امریکا، ایران کی موجودہ کشیدگی کی روشنی میں جنگ کے امکانات کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی صدر نے قائم مقام سیکرٹری دفاع پیٹرک شناہن کو بتایا ہے کہ وہ ایران کیساتھ جنگ نہیں چاہتے جس کا مطلب یہ ہے کہ امریکی دفاعی حکام کو آگاہ کرنا ہے کہ وہ ایران پر دباؤ ڈالنے والی امریکی کوششوں میں شدت لا کر اسے تنازع میں تبدیل نہیں کرنا چاہتے، امریکی صدر کے اس ارادے کو اس امر سے بھی تقویت ملتی ہے کہ حال ہی میں امریکی وزیر خارجہ پومپیو نے سلطان عمان قابوس بن سعید سے ایرانی خطرات پر تبادلہ خیال کیا ہے، مغرب اور ایران کے درمیان طویل عرصہ سے عمان کا ثالث کے طور پر کردار دیکھا جا رہا ہے، امریکا کی جانب سے جنگ کرنے سے پسپائی سے متعلق جو خبریں سامنے آرہی ہیں مگر اس کیساتھ ساتھ دونوں میں کشیدگی بھی عروج پر نظر آرہی ہے۔ اس بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ امریکا جس کا شاید پہلے ایران کیساتھ پنجہ آزمائی کا ارادہ ہو مگر اب اس لئے بدلا نظر آرہا ہے کہ امریکا کو یہ معلو م ہوگیا ہے کہ ایران کے پاس خلیج فارس میں میزائل سے لدھی کشتیاں موجود ہیں جن کے ذریعے ایران امریکا یا اس کے اتحادیوں کے فوجی دستوں اور اثاثوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ حزب اللہ کیساتھ اسرائیل جنگ کا حشر کا تجربہ امریکہ کی آنکھوں کے سامنے ہے اور ایران میزائلوں کے حوالے سے کوئی کمزور طاقت نہیں ہے۔ امریکا باقاعدہ جنگ سے پہلے نفسیاتی جنگ کو بھی عروج دیتا ہے اور طرح طرح کے مغالطے پیدا کرتا ہے چنانچہ جہاں جنگ نہ کرنے کی باتیں ہورہی ہیں وہاں سعودی عرب کے معروف اخبار الشرق الاوسط نے اطلاع دی ہے کہ خلیج تعاون کونسل نے جس میں سعودی عرب بھی شامل ہے امریکی فوج کو خلیجی پانیوں میں تعیناتی کی باقاعدہ اجازت دیدی ہے۔ ذرائع کے مطابق خلیجی ملکوں کی طرف سے یہ اجازت نامہ امریکا کیساتھ دوطرفہ معاہدوں کی بنیاد پر دیا گیا ہے جس کا مقصد خطے کو ایران کی طرف سے درپیش خطرات اور عرب ممالک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی ایرانی مبینہ کاوشوں سے نمٹنے کیلئے مشترکہ اقدامات یقینی بنانا ہے، یہاں عرب روزنامے کے مطابق امریکی فوج کی خطے میں موجودگی ایران پر چڑھائی یا جنگ نہیں بلکہ دفاعی حکمت عملی کا حصہ ہے کہ ایران کی طرف سے خطرے کی صورت میں امریکا اور اس کے خلیجی اتحادی مل کر لائحہ عمل اختیار کریں۔ الشرق الاوسط کے مطابق ماہ صیام کے آخری ایام میں مکہ معظمہ میں عرب سربراہ کانفرنس کے انعقاد کے حوالے سے عرب ملکوں کی حکومتوں کے درمیان رابطے مزید تیز ہو جائیںگے۔ (باقی صفحہ 7)

متعلقہ خبریں