Daily Mashriq


سیاست میں مستقل دوستیاں اور دشمنیاں نہیں چلتیں

سیاست میں مستقل دوستیاں اور دشمنیاں نہیں چلتیں

مضبوط حکومت بقول شیخ رشید ''ایمپائر ہمارے ساتھ ہے'' کے ہمدردوں اور کھلاڑیوں کی حالت یہ ہے کہ ایک افطار پارٹی نے دیوانہ کر دیا ہے۔ پچھلی شب سے کونسی پھبتی ہے جو نہیں کسی جا رہی، کونسی گالی ہے جو اپوزیشن کو نہیں دی جا رہی' نون لیگ اور پیپلز پارٹی سے ہجرت کرکے تحریک انصاف میں جمع ہوئے خواتین وحضرات کچھ زیادہ ہی جوش میں ہیں۔ سوال مگر یہ ہے کہ ق لیگ' شیخ رشید اور ایم کیو ایم کیلئے کبھی جناب عمران خان کی کیا آراء تھیں؟۔ ساڑھے چار دہائیاں ہوتی ہیں کوچہ صحافت میں درجن بھر اتحاد بنتے ٹوٹتے دیکھے۔ دوستیاں ہوئیں کبھی دشمنیاں۔ اکبوتر1973ء میں ایک متحدہ حزب اختلاف ایکشن کمیٹی بنی تھی کسی کو یاد ہے کہ اس نے بھٹو حکومت کیخلاف سول نافرمانی کی تحریک کا اعلان کیا' 1974ء میں یہ تحریک چلائی گئی اسی دوران ملکی تاریخ کا بھیانک ترین سیلاب آگیا۔ اپوزیشن کی تحریک سیلاب میں بہہ گئی' بھٹو سیلابی علاقوں کے دورہ پر گئے، شہر شہر گھومے اور ٹھٹھہ میں انہوں نے ''میں نے سیلابی پانی سمندر میں ڈال دیا ہے''۔ آگے چل کر اپوزیشن نے یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (یو ڈی ایف) بنایا۔ مسلم لیگ این ڈی پی' جے یو آئی' پی ڈی پی' خاکسار تحریک' مسلم کانفرنس سردار قیوم گروپ' تحریک استقلال اور بہت ساری تانگہ رکشہ پارٹیوں کے علاوہ جماعت اسلامی بھی اس میں شامل تھی۔ ڈیڑھ سال بعد یو ڈی ایف پاکستان قومی اتحاد میں تبدیل ہوا' نو ستاروں والا قومی اتحاد جس نے ملکی اور بیرونی قوتوں کے تعاون سے بھٹو کیخلاف تحریک چلائی نتیجہ مارشل لاء لگ گیا۔ پی این اے والے بھاگ بھاگ کر فوجی حکومت میں شامل ہوئے۔ جماعت اسلامی' پی ڈی پی، جے یو آئی، مفتی محمود گروپ، مسلم لیگ والوں نے وزارتیں پائیں۔ دو وزیر ہمارے بابائے جمہوریت نوابزادہ نصر اللہ خان کی پارٹی کے بھی تھے پھر قومی اتحاد فوجی حکومت سے الگ ہوگیا۔ بھٹو پھانسی چڑھا دئیے گئے۔ قومی اتحاد کی جماعتوں نے عموماً اور جماعت اسلامی نے خصوصاً حلوے کی دیگیں تقسیم کیں۔ جنرل ضیاء الحق کی وعدہ خلافیوں کے ستائے سیاستدانوں نے ایم آر ڈی' تحریک بحالی جموریت کے نام سے اتحاد تشکیل دیا۔ بھٹو کو کوہالہ کے پل پر پھانسی دینے کے شوقین اصغر خان کی تحریک استقلال' گھاسی رام کہنے اور بدترین کردارکشی کرنے والی مسلم لیگ کا ایک گروپ۔ خون کی پیاسی این ڈی پی سمیت قومی اتحاد کی متعدد جماعتیں جے یو آئی مفتی گروپ (یہ اب فضل الرحمن گروپ کی شناخت کا حامل ہے) بھی ایم آر ڈی میں شامل تھے۔ پیپلز پارٹی کے کارکن قومی اتحاد کو بھٹو کی پھانسی کا سہولت کار سمجھتے تھے۔ مگر ایم آر ڈی کے تاسیسی اجلاس میں بیگم نصرت بھٹو نے کہا ''سیاست میں ذاتی دشمنیاں نہیں ہوتیں۔ کچھ لوگ اگر سیاسی اختلاف کو ذاتی دشمنی سمجھتے رہے تو وہ آج بحالی جمہوریت کیلئے پیپلز پارٹی کیساتھ کھڑے ہیں اس کا مطلب ہے کہ انہیں اپنی غلطی کا احساس ہے۔ سیاستدانوں کو ان کی غلطیوں کا احساس ہی دلانا مقصود ہوتا ہے''۔ایم آر ڈی نے جنرل ضیاء کیخلاف پُرعزم جمہوری جدوجہد کی، ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ سیاسی کارکنوں نے شاہی قلعوں اور دوسرے بوچڑ خانوں کے عذاب سہے۔ ادیب، دانشور، صحافی اور شاعر مارشل لاء کے ستم جھیلتے رہے۔ طیارے کے ایک حادثے میں جنرل ضیاء رخصت ہوئے مگر ٹھہریں اس سے قبل انہوں نے مجلس شوریٰ بنائی پھر 1985ء میں غیر جماعتی انتخابات کروائے، جماعت اسلامی تو خیر سے دونوں مرحلوں میں جذبۂ ایمانی کیساتھ ضیاء کیساتھ تھی۔ دوسری جماعتوں سے بھی لوگ مجلس شوریٰ اور غیرجماعتی اسمبلیوں میں پہنچے۔ ضیاء کے بعد 1988ء میں ایک اتحاد پی ڈی اے کے نام سے بنا اور دوسرا اسلامی جمہوری اتحاد کے نام سے۔ ایم آر ڈی کی کچھ جماعتیں پی ڈی اے میں گئیں کچھ آئی جے آئی میں۔ بینظیر اقتدار میں آئیں، متحدہ حزب اختلاف قائم ہوئی۔ ان کے اقتدار کا خاتمہ ہوا پھر پی ڈی ایف بنا۔ نواز شریف کے دوسرے دور میں جی ڈی اے کے نام ایک سیاسی اتحاد بنا۔ جناب عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری اس اتحاد کے ٹرک پر سوار ہوئے۔ جنرل مشرف نے نواز حکومت کا تختہ الٹا، اپوزیشن نے اے آر ڈی کے نام سے اتحاد بنایا، پیپلز پارٹی اور نون لیگ دونوں اے آر ڈی کا حصہ بنیں۔ اسی اتحاد کی سیاست اور دباؤ کو سودے بازی کیلئے استعمال کرکے جناب نواز شریف مشرف سے 10سالہ معاہدہ جلاوطنی کرکے خاندان سمیت ملک چھوڑ گئے۔پھر ایک دن میثاق جمہوریت ہوا۔ لندن میں اپوزیشن کے اجلاس میں تجویز آئی کہ مسقبل میں کوئی سیاسی جماعت ایم کیو ایم سے سیاسی اتحاد وتعاون نہیں کرے گی۔ پیپلز پارٹی نے یہ تجویز مسترد کردی۔ جناب عمران خان ایم کیو ایم کیخلاف لندن کی عدالت میں بھی تشریف لے گئے۔ ایک اتحاد2007ء میں قائم ہوا، عمران خان اور نواز شریف دونوں اس میں شامل تھے۔ اس اتحاد نے عام انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا۔ نواز شریف نے محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد آصف زرداری کے مشورے پر انتخابی عمل میں حصہ لینے کا اعلان کردیا۔ عمران خان' محمود اچکزئی اور دیگر چند نے ان انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا۔ جناب عمران خان کہا کرتے تھے ق لیگ والے پنجاب کے سب سے بڑے ڈاکو ہیں۔ شیخ رشید میری حکومت میں چپڑاسی بھی نہیں لگ سکتے۔ ایم کیو ایم ''را'' کی ایجنٹ اور پاکستانیوں کی قاتل ہے۔ انہی عمران خان پر پنجاب یونیورسٹی میں جماعت اسلامی کی ذیلی طلبہ تنظیم کے کارکنوں نے تشدد کیا لیکن تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کا سیاسی اتحاد2013ء سے2018ء تک چلا اور نبھا۔ شیخ رشید اب ریلوے کے وزیر ہیں۔ ایم کیو ایم حکمت میں شامل۔ نون لیگ اور پیپلز پارٹی کے سینکڑوں رہنما اب تبدیلی کا گیت گا رہے ہیں۔ (باقی صفحہ 7)

متعلقہ خبریں