Daily Mashriq

بہت شور علم کا، لیکن

بہت شور علم کا، لیکن

علم کسے کہتے ہیں؟ اس کے آج بیسیوں جواب ہوسکتے ہیں کیونکہ بیسویں صدی میں سائنس کے طفیل علوم کا دھماکہ ہونے کے علم کی مختلف پرتیں سامنے آئی ہیں، اس بناء پر اس کی تعریفیں بھی مختلف ہوچکی ہیں لیکن اسلامی علوم اور اصول علم کے پیش نظر جو مختصر تعریف ہے وہ کچھ یوں ہے کہ ذہن میں اشیاء کی تعریف واضح ہونے کو علم کہتے ہیں۔ یہی بات اسلام کی پہلی وحی''اقرائ'' میں بیان ہوئی ہے اور حضرت آدم علیہ السلام کی فرشتوں اور شیطان پر فوقیت وافضلیت اور مسجود ہونے کا بھی سبب بنایا گیاکہ آدم علیہ السلام کو تمام اشیاء جن کیساتھ دنیا میں انسان کا واسطہ پڑنا تھا، کے نام بتائے گئے تھے۔''پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا''۔ میں ایک مکمل جامع اور دائمی نظام ونصاب تعلیم موجود ہے۔ اس لحاظ سے قرآن کریم کی پہلی آیت علوم کی تعریف اور مقصد وافادیت کے حوالے سے ایک زبردست انقلاب کی حامل ہے۔ اس آیت کریمہ میں خاتم النبیینۖ کی وساطت سے بنی نوع انسان کو حکم دیا گیا کہ علم کا حصول ہر انسان پر فرض ہے اور شرط یہ لگائی کہ جو بھی علم حاصل کیا جائے گا وہ اللہ کے نام کیساتھ منسلک ہوگا۔ وہ اللہ جس نے پوری کائنات ومافیھا کو تخلیق کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی صفات حسنیٰ میں ہر انسان کو تھوڑا بہت عطا کیا ہے لیکن یہاں ابتداء جس صفت الٰہی سے انسان کو آگاہ کیا گیا وہ تخلیق (creation) کی صفت ہے۔انسان نے اللہ تعالیٰ سے ودیعت شدہ اسی صفت (خالقیت) کو استعمال میں لاتے ہوئے اس دنیا کو اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے مزید حسین بنایا۔ یہ تخلیقی صفت انسان میں اُس وقت تک مثبت، تعمیری اور حد درجہ مقصود الٰہی کے مطابق تھی جب تک انسانیت کو انبیاء کرام کی تعلیمات کی روشنی ورہنمائی حاصل تھی۔ انبیاء کرام کی تعلیمات انسان کو اس فکر وشعور سے بہرور کرتی ہیں کہ دنیا اور کائنات کی ہر شے خواہ وہ انسانی شعور کے اندر ہے یا باہر موجود ہے، اللہ کی مخلوق ہونے کے ناتے اللہ تعالیٰ کی قابل اعتبار (قابل ایمان) نشانی ہے اسی تسلسل میں علم کا مقصد وغایت یہ ہونا چاہئے کہ کسی بھی شے (چیز، مخلوق) کے بارے میں علم اور پہچان اور تحقیق اللہ تعالیٰ کی نشانی ہونے کی حیثیت کو بڑھانے کے لائق ہونا چاہئے نہ کہ گٹھانے کے۔یہ دنیا اور اس میں موجود مخلوقات اللہ تعالیٰ کی نشانی ہونے کے ناتے انسان کے شعور وفکر کو دعوت دیتی ہے کہ آؤ، اشرف المخلوق ہونے کے طفیل مجھے انسانیت کے مصرف میں لاؤ، یہی نکتہ پہلی آیت کریمہ میں بانداز دگر یوں بیان ہوئی ہے کہ اے خالق عظیم کے شاہکار مخلوق انسان، تم میں بھی صفت تخلیق موجود ہے اسے کام میں لاکر انسانیت کیلئے ایسی آسانیاں پیدا کرو کہ اُسے اللہ تعالیٰ کی ان نشانیوں (اشیائ) کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل ہو اور اُسے اپنی مقصد تخلیق وحیات بھی معلوم ہو جائے۔علامہ محمد اقبال نے انسان کو یہی چیز یاد دلاتے ہوئے لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب دنیا تخلیق فرمائی تو یہاں رات کو گھپ اندھیرا ہوا کرتا تھا لیکن انسان نے اپنی صفت تخلیق سے کام لیتے ہوئے روشنی کیلئے چراغ بنایا جو آج ترقی کرتے کرتے بجلی اور سولر توانائی کی صورت میں رات کو چکاچوند بنا چکی ہے لیکن اللہ اور انسان کے درمیان علامہ اقبال نے جو مکالمہ کرایا ہے اُس میں اس نکتے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ انسان جب معرفت الٰہی سے ہٹ جاتا ہے تو فطری صلاحیت تخلیق سے استفادہ تو کرتا ہے لیکن اشیاء کو دریافت کرتے وقت بھول جاتا ہے کہ یہ اللہ کی نشانیاں ہیں اور جب بھی ایسا ہوا ہے وہ تخلیق انسانیت کیلئے مہلک اور تباہ کن ثابت ہوئی ہے۔ ملاخط کیجئے کہ خدا انسان سے کیا گلہ کرتا ہے۔

جہاں راز یک آب و گِل آفریدم

تو ایران و تاتار و زنگ آفریدی

من از خاک پولادِ ناب آفریدم

تو شمشیر و تیر و تفنگ آفریدی

تبر آفریدی نہالِ چمن را

قفس ساختی طائر نغمہ زن را

یعنی خدا کہتا ہے کہ اے انسان اس نے اس دنیا کو ایک ہی پانی ومٹی سے پیدا کیا اور تونے اس میں نسلی وعلاقائی امتیازات ایران، تاتار وزنگیوں میں تقسیم کیا۔ میں نے مٹی (ریت) میں فولاد جیسی مفید شے پیدا کی اور تُو نے اس سے انسان کی ہلاکت کیلئے تلوار، تیر اور توپ بنا لئے۔ میں نے خوبصورت درخت پیدا کئے اور ان جنگلوں میں نغمہ زنی کیلئے خوبصورت پرندے پیدا کئے اور اسی درخت سے کلہاڑا بنا کر درخت کاٹ کر طائر نغمہ زن کیلئے پنجرہ بنا لیا۔ اس وقت دنیا یہی منظر پیش کرتی ہے لیکن جب انسان کو صحیح معنوں میں علم الاشیاء حاصل ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کو جواب دیتا ہے۔

تو شب آفریدی چراغ آفریدم

سفال آفریدی ایاغ آفریدم

بیابان و کہسار و راغ آفریدی

خیابان و گلزار و باغ آفریدم

من آنم کہ از سنگ آئینہ سازم

من آنم کہ از زہر نوشینہ سازم (باقی صفحہ 7)

متعلقہ خبریں