Daily Mashriq


درس انسانیت

درس انسانیت

رمضان کا مہینہ اوپر سے سورج نامہربان اور ساتھ ہی بجلی کی کمیابی، بے شک یہ رمضان مشکل ترین عبادتوں میں سے ایک ہے اور جس کا اجر بھی بلاشبہ اللہ نے اپنے بندوں کیلئے شاندار ہی رکھا ہوگا کہ وہ اپنی تخلیق کو سب سے زیادہ جانتا ہے کہ جو صرف اس کی رضا کیلئے بھوک اور خاص طور پر پیاس کا مقابلہ کرتا ہے۔ یہ بھی تو ہے کہ وہ اپنے بندوں پر اتنا ہی بوجھ ڈالتا ہے کہ جتنا وہ سہار سکیں۔ ہم تو پھر بھی اللہ کی دی ہوئی نعمتوں سے مستفید لوگ ہیں۔ پنکھا، روم کولر یا اے سی کے ذریعے گرمی سے نبٹ لیتے ہیں۔ دسترخوان بھی ہرے بھرے رہتے ہیں۔ بے شک اللہ کی نعمتیں بے شمار ہیں، بس ان کا سوچتا ہوں کہ جو مفلسی کی زندگی گزارتے ہیں، جن کے پاس بجلی کا ایک پنکھا بھی نہ ہو یا سر پر چھت ہی نہ ہو یا پھر وہ جو کڑکتی دھوپ میں رزق کمانے کیلئے محنت مزدوری کرتے ہیں۔ وہ بھی اللہ ہی کے بندے ہیں کہ جس نے ہمیں بنایا ہے، وہ بھی تو اسی موسم کو جھیلتے ہیں کہ جو موسم ہمیں پریشان کئے رکھتا ہے۔ میں اکثر فجر کے وقت ان مزدورں کو دیکھتا ہوں کہ جو چہروں پر مزدوری کمانے کی خوشی لئے عمارتوں کے لنٹر ڈالنے کیلئے ٹھیکیدار کیساتھ جارہے ہوتے ہیں یا اکثر گرم دوپہروں میں کسی گلی میں سائے تلے اپنی ہتھ ریڑھی لئے دھوپ ڈھلنے کا انتظار کرنے والے محنت کشوں کو دیکھتا ہوںکہ جن کیلئے وہ سایہ بھی کسی نعمت سے کم نہیں ہوتا۔ کسی بینک، کسی دفتر کے باہر گرم کپڑے کی وردی پہنے کسی سیکورٹی گارڈ کو دیکھتا ہوں کہ جو سورج کی گرم شعاعوں کی حدت سے بے نیاز اپنا رزق حلال کر رہا ہوتا ہے۔ لوگوں کے گھروں میں کام کرنے والی خواتین کو دیکھتا ہوں کہ جو پرائے برتن مانجھ رہی ہوتی ہیں مگر پرسکون ہوتی ہیں کہ کسی بہانے گھر کا چولہا تو چل رہا ہے۔ لُو چھوڑتی دوپہروں میں سڑکوں پر رکشہ، ٹیکسی، ویگن چلانے والے کیسے گھروں میں سکون سے بیٹھ سکتے ہیں کہ پہیہ چلتا ہے تو گھر بھی چلتا ہے۔ یہ سب زندگی کی گاڑی کو سچ مچ اپنے خون پسینے سے چلاتے ہیں۔ میرے نزدیک یہ طبقے سلام کے حقدار ہیں، عزت کے حقدار ہیں، قدر کی نگاہ سے دیکھے جانے کے حقدار ہیں کہ انہی کی محنت سے سماج کا سلسلہ چلتا ہے۔ یہ الگ بات کہ ان کی مجبوریاں اور لاچاریاں اور ان کی ضرورتیں ہی انہیں موسموں کی سختیوں سے یارانہ کرنے پر مجبور کردیتی ہیں اور ایسا نہ کریں تو جیئیں کیسے، جینا بھی تو بہرحال ایک فن ہے کم ازکم اس مزدور طبقے کیلئے تو ضرور ہے۔ یہ سب اللہ کی تقسیم ہے، کسی کو توانگر بنا دیا تو کسی کو مفلس ولاچار۔ اس کی مرضی وہی جانے مگر ہم تو اس زمین پر یہی سمجھتے ہیں کہ ہماری دولت وحشمت، ہماری قابلیت کی وجہ سے ہے۔ بے شک یہ ہمارا مغالطہ ہی ہے اور کچھ نہیں۔ ہم سے ہر حال میں بہتر لوگوں کو ہماری جیسی آسائشیں نصیب نہیں ہوتیں نہ ہی ہم ان کی طرح محنت کا سوچ بھی سکتے ہیں۔ بلاشبہ اللہ کی رضا ومنشا اس میں فرق کا باعث ہوتی ہے۔ افسوس کہ ہم اکثر خود سے دنیاوی حوالوں سے پائمال لوگوں کو کمتر سمجھنا شروع کردیتے ہیں۔ بھول جاتے ہیں کہ ان کا اور ہمارا خدا تو ایک ہی ہے۔ اگر وہ کسی کو مفلس کرسکتا ہے تو ہمیں بھی اسی حال میں لے جاسکتا ہے ۔ کیا ہم اس کی مثالیں اپنے اردگرد نہیں دیکھتے کہ کوئی عرش سے فرش پر آگیا اور کوئی فرش سے عرش کی بلندیوں کی جانب چلا گیا۔ انسان کا مسئلہ ہی اس کا تکبر ہے جبکہ تکبر صرف ایک ذات ہی کو سجتا ہے کہ وہ اللہ کی ذات ہے کہ وہ خودمختار ذات ہے جو چاہے وہ کرسکتا ہے۔ انسان کو تو اپنے اگلے سانس کا علم نہیں کہ وہ آئے گا کہ نہیں۔ انسان کا مسئلہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنی موت کو یاد نہیں کرتا وہ سمجھتا ہے کہ وہ ہمیشہ جئے گا اور اسی حال میں جئے گا حالانکہ ہم روز دوسرے انسانوں کو مرتا دیکھتے ہیں، جوان کو بوڑھا ہوتا دیکھتے ہیں، طاقتور کو ناتواں ہوتا دیکھتے ہیں مگر پھر بھی کچھ سبق حاصل نہیں کرتے۔ تبھی تو اللہ کہتا ہے انسان خسارے میں ہے، کیا شعور وآگہی اور تجربہ ومشاہدہ کافی نہیں، انسان کو چیزوں کی حقیقت کو سمجھنے کیلئے؟ حالانکہ اس کائنات میں اللہ کی کتنی نشانیاں ہیں کسی بھی باشعور انسان کے سمجھنے کیلئے۔ دین میں نماز کی تاکید کیوں کی گئی ہے کہ جب اس ذات کی عبادت کیلئے لاتعداد فرشتے موجود ہیں کہ جو ہر وقت اس ذات کے سامنے سجدہ ریز رہتے ہیں۔ دراصل نماز وہ ہاٹ لائن ہے جو بندے کا خالق کیساتھ براہ راست رابطہ قائم رکھتی ہے۔ یہ ہاٹ لائن جس نے صحیح معنوں میں ایکٹیویٹ کرلی تو وہ عاجز ی کی طرف مائل ہوجاتا ہے اور پھر وہ انسان تکبر کا سوچ بھی نہیں سکتا ہے کہ وہ اللہ کا باغی نہیں ہوتا۔ ہمارا دوسرے انسانوں کیساتھ نفرت یا تعصب کا رویہ دراصل اللہ کے بنائے ہوئے سسٹم سے بغاوت ہے۔ استغفراللہ کتنی خوفناک صورت ہے کہ انسان اللہ کا باغی ہوجائے وہ اللہ کہ جو انسان کو عذابوں کی پاتال میں پھینک دے یا وہ اللہ جو کسی انسان کو پیغمبری عطا کردے۔ یہاں بس ایک نقطہ سمجھ لیا جائے تو بڑی آسانیاں ہوسکتی ہیں جو لوگ ہمارے ماتحت ہوتے ہیں ہم ان کو بس اپنے جیسا انسان سمجھ لیں۔ وہ بھی ہماری طرح سوچتے ہیں، وہ بھی ہماری طرح خواہشیں رکھتے ہیں، انہیں بھی ہماری طرح ایک بار زندگی ملی ہے سو وہ بھی ترقی کرنا چاہتے ہیں۔ ان کیلئے ہمارا ایک اچھا جملہ، ایک محبت بھری مسکراہٹ، کسی اچھے کام کی تعریف یا چھوٹا سا انعام ان کے جینے کے حوصلے کو بڑھا سکتاہے۔ ہم اپنی استطاعت کے مطابق ان کی مدد بھی تو کرسکتے ہیں سب سے اہم بات انسان کو انسان سمجھنے میں ہم خود اپنی اعلیٰ انسانیت کا ثبوت دے دیتے ہیں۔ اس سے بھی بڑی بات کہ اللہ اپنی مخلوق سے محبت کرنیوالوں سے محبت بھی کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں