Daily Mashriq


اسلام آباد میں دس سالہ بچی ریپ کے بعد قتل

اسلام آباد میں دس سالہ بچی ریپ کے بعد قتل

وفاقی دارالحکومت کے علاقے علی پور فراش میں نامعلوم افراد نے ایک دس سالہ بچی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کردیا۔ پولیس کو دس سالہ بچی کی لاش ایک ویران جگہ سے ملی ہے۔

مقتولہ بچی مقامی سکول میں دوسری جماعت کی طالبہ تھی۔

گذشتہ دو ماہ کے دوران وفاقی دارالحکومت میں یہ دوسرا واقعہ ہے جس میں ایک کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس سے پہلے بارہ کہو کے علاقے میں ایک دو سالہ بچی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

گینگ ریپ کا نشانہ بننے والی خاتون پر ’صلح کے لیے دباؤ‘

بیٹی کا باپ پر ریپ کا الزام

ایبٹ آباد میں تین سالہ بچی ریپ کے بعد قتل

ملتان : 12 سالہ لڑکی کے ریپ کا بدلہ، 17 سالہ لڑکی کا ریپ

علی پورفراش کے علاقے میں رہائش پذیر مقتولہ (ف) کے والد جن کا تعلق صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے مہمند سے ہے۔ انھوں نے مقامی پولیس تھانے شہزاد ٹاون میں پانچ روز قبل بچی کی گمشدگی کی شکایت درج کروائی تھی۔

درخواست میں کہا گیا تھا کہ ان کی دس سالہ بچی کھیلنے کے لیے باہر گئی لیکن واپس نہ آئی۔ اس دوران اس بچی کو تلاش کیا گیا لیکن انھیں ناکامی ہوئی۔ درخواست گزار کا کہنا تھا کہ انھیں شبہ ہے کہ بچی کو اغوا کیا گیا ہے۔

مقتولہ کے ورثا نے الزام عائد کیا ہے کہ پولیس نے سست روی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس واقعے کی صرف رپورٹ درج کی جبکہ مقدمہ درج نہیں کیا۔

مقامی پولیس کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے ملازمین علاقے میں واقع قریبی جنگل سے گزر رہے تھے کہ انھیں وہاں پر ایک نامعلوم بچی کی لاش ملی جس کی اطلاع انھوں نے تھانہ شہزاد ٹاؤن کو دی۔

پولیس کے مطابق یہ اس لڑکی کی لاش تھی جس کی گمشدگی کی رپورٹ درج کی گئی تھی۔

مقامی پولیس کے بقول ڈاکٹروں کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق لڑکی کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا گیا ہے۔

پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی ہے۔

پولیس کی مقدمہ درج کرنے میں مبینہ غفلت کے خلاف مقتولہ کے ورثا کے علاوہ پشتون تحفظ موومنٹ کے رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ بھی احتجاجی مظاہرے میں شریک تھے۔

متعلقہ خبریں