Daily Mashriq


آپ زمین کے تحفظ کے لیے کائی، کیکٹس کھانے کو تیار ہیں؟

آپ زمین کے تحفظ کے لیے کائی، کیکٹس کھانے کو تیار ہیں؟

اگر آپ صحت مند رہنا چاہتے ہیں اور اپنے سیارے کو بھی بچانا چاہتے ہیں تو کیا آپ اس مقصد کے لیے کائی کی ڈش، کیکٹس اور قدیمی اناج کھانے کو تیار ہیں؟

عالمی سطح پر ہم صرف تین قسم کے اناج پر انحصار کرتے ہیں جو کہ چاول، مکئی اور گندم ہیں۔ انسانی خوراک میں موجود پودوں سے حاصل کی گئی 60 فیصد کیلوریز صرف انھی تین اناجوں سے آتی ہے۔

ہو سکتا ہے کہ لوگوں کو کافی کیلوریز مل رہی ہوں لیکن اتنی کم اقسام کی غذا میں ہمیشہ ضرورت کے مطابق وٹامن اور معدنیات نہیں موجود ہوتیں۔

ناریل کا تیل اتنا ہی غیر صحت مند جتنی چربی

یونانیوں کے صحت مند دل کا راز کیا ہے؟

خشک میوہ جات کھانے سے ’سپرم کی طاقت میں اضافہ‘

ایک نئی رپورٹ میں 50 ’فیوچر فوڈز‘ یعنی مستقبل کے کھانوں کی فہرست بنائی گئی ہے جو صحت اور ماحول دونوں کے لیے فائدہ مند ہیں تو جانیے کہ مستقبل کے مینو میں کون سی ’سُپر‘ غذائیں موجود ہیں۔

مورنگا

مورنگا یعنی سوانجنا کے درخت کو معجزاتی درخت بھی کہا جاتا ہے۔یہ بہت جلدی اُگتا ہے اور قحط زدہ علاقوں میں بھی زندہ رہ لیتا ہے۔ اس پودے کے مقامی علاقے جنوبی ایشیا میں اسے آیوویدک دوائیوں میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

ایک سال میں سات دفعہ اس کے پتوں کی کٹائی ہو سکتی ہے اور ان میں وٹامن اے اور سی کے علاوہ کیلشیم ئاور پوٹاشیئم بھی موجود ہوتا ہے۔

انڈونیشیا اور فلپائن میں یہ بہت عام ہے کہ اس کی لمبی پھلیوں کو کاٹ کر سالن اور سوپ میں استعمال کیا جاتا ہے۔ ان پھلیوں کے اندر موجود بیجوں میں اولیئک ایسڈ ہوتا ہے جس کا تعلق انسانی جسم میں اچھے کولیسٹرول کی شرح میں اضافے سے ہے۔

اس کے پتوں کو پیس کر سفوف بنایا جا سکتا ہے جسے سمودیز، سوپ، چٹنی اور چائے میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

غذائی ماہر اور برٹش ڈائٹیٹک ایسوسی ایشن کی ترجمان پریا ٹیو اس پودے کو بخوبی جاتنی ہیں، وہ کہتی ہیں کہ یہ ’ میرے گھر والوں کے کھانوں میں سب سے زیادہ پسندیدہ ہے، یہ سری لنکا میں سالن میں استعمال ہوتا ہے۔ آپ اسے اپنے دانتوں سے مکمل طور پر کریدتے ہیں اور چٹنی بھی پی جاتے ہیں۔‘

واکامے

وکامے ایک سمندری کائی ہے۔ جاپان میں کئی صدیوں سے سمندری کاشت کار اسے انسانوں کی غذا کے طور پر اگاتے تھے لیکن اسے آباؤ اجداد کی روحوں کے لیے نذرانے کے طور پر اور ٹیکس کی ادائیگی کے لیے بھی استعمال کیا جاتا تھا۔

آج کل یہ فرانس، نیوزی لینڈ اور ارجنٹینا میں بھی اُگائی جا رہی ہے۔ اس کی فصل سارا سال حاصل کی جا سکتی ہے۔

اسے دھوپ میں سکھایا جاتا ہے اور اس کی تیاری میں کھاد اور کیڑے مار دوائیاں استعمال نہیں ہوتیں۔

یہ سمندری کائی کھانے کو نمکین اور لذیذ بنا دیتی ہے اور یہ ’آئیکوساپینٹینوئک ایسڈ‘ کے چند ذرائع میں سے ایک ہے۔ یہ اومیگا تین فیٹی ایسڈز کی قسم ہے جو صرف ان چربی والی مچھلیوں میں پائی جاتی ہے جو اس کائی کو کھاتی ہیں۔

واکامے بھورے رنگ کی مُلائم ترین سمندری کائیوں میں سے ایک ہے۔ اس میں کثیر مقدار میں ’فوکوآئڈ‘ ہوتے ہیں۔ یہ ایک غذائی فائبر ہے جس نے حیاتی تحقیقات کے دوران بلڈ پریشر کم کرنے کی، خون کو جمنے سے روکنے اور حتیٰ کہ رسولیوں کو بھی روکنے کی ممکنہ صلاحیت دکھائی ہے۔

سمندری کائی آیوڈین اور اومیگا تین حاصل کرنے کا بہتریں ذریعہ ہے خصوصاً ایسے لوگوں کے لیے جو گوشت نہیں کھاتے۔

پریا ٹیو بتاتی ہیں کہ ’یہ فرائی کر کے زبردست ہو جاتا ہے، میں نے یہ ہانگ کانگ میں بہت کھایا۔‘

لیکن وہ انتباہ بھی کرتی ہیں کہ ’یہ بہت ضروری ہے کہ آپ ہر روز (یہ) تھوڑا کھائیں تاکہ آپ حد سے زیادہ آیوڈین نہ لے لیں اور کے ساتھ باقی سمندر سے ملنے والی دھاتیں بھی۔‘

فونیو

یہ افریقہ کی قدیمی غذا اپنے نفیس ذائقے کی وجہ سے جانی جاتی ہے۔ مالی سے تعلق رکھنے والے بامبارا لوگ کہتے ہیں کہ یہ ’کبھی باورچی کو شرمندہ نہیں کرتی‘ کیونکہ اسے پکانا بہت آسان ہوتا ہے۔

اس کی موجودگی کے آثار پانچ ہزار سال پہلے ملتے ہیں۔ کچھ شواہد یہ بتاتے ہیں کہ قدیم مصر میں اس کی کاشت کی جاتی تھی۔ یہ قحط والے علاقوں میں بھی کاشت ہو جاتی ے۔ اس کی سیاہ اور سفید اقسام مغربی افریقہ کے خشک علاقے ساحیل میں 60 سے 70 دن میں اگ آتی ہیں۔

فونیو کے دانے ریت کے ذروں کے برابر ہوتے ہیں۔ اسے کھانے سے پہلے اس کا چھلکا اتارا جاتا ہے اور یہ کام زیادہ تر ہاتھوں سے کیا جاتا ہے لیکن سینیگال میں ایک چکی بنائی جا رہی ہے جس کے مکمل ہونے کے بعد ہو سکتا ہے کہ یہ گلوٹن سے پاک اناج پوری دنیا میں درآمد کیا جائے۔

آئرَن، زنک اور میگنیشیم سے بھرپور فونیو کو چاول یا کسکس کی جگہ بھی استعمال کیا جاتا ہے اور اس سے بیئر بھی بنائی جا سکتی ہے۔

پریا ٹیو کہتی ہیں کہ ’یہ اناج سننے میں بہترین ہے اور میں اسے آزمانا چاہوں گی۔ میرے خیال سے یہ مقبول ہو جائے گی کیوںکہ اس میں گلوٹن نہیں ہے اور یہ قحط کا مقابلہ بھی کر لیتی ہے جو گلوبل وارمنگ کے ساتھ مستقبل کی غذا کے لیے ایک اچھا انتخاب ہے۔‘

نوپلز کیکٹس

میکسیکو کے پکوانوں میں نوپلز کے پتے، پھل اور ڈنڈی کو کچا، پکا یا جوس اور جیم بنا کر کھایا جاتا ہے۔

اسے وسطیٰ اور جنوبی امریکہ، آسٹریلیا اور یورپ میں بھی بویا جاتا ہے۔

کچھ تحقیقات یہ ظاہر کرتی ہیں کہ اس کے اندر ایسے فائبر ہوتے ہیں جو جسم سے چربی کے اخراج میں مدد کرتے ہیں لیکن ابھی تک اس کے وزن کم کرنے کے سلسلے میں فوائد ثابت نہیں ہوئے۔ دوسرے تجربے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ ٹائپ ٹو ذیابیطس کے مریضوں کے خون میں شکر کی مقدار کو کم کرتا ہے۔

جو لوگ اسے استعمال کرنا چاہتے ہیں انھیں محتاط رہنا چاہیے کیوںکہ کچھ لوگوں میں اس کی وجہ سے ہلکے اسہال، متلی اور گیس کے مضر اثرات پائے گئے ہیں۔

پریا ٹیو کہتی ہیں کہ یہ ’کچھ دلچسپ دعوے ہیں، لیکن یہ ضروری ہے کہ ہم ذہن میں رکھیں کہ یہ ابھی ثابت نہیں ہوئے اور اس کے مضر اثرات ہیں۔ میں افسوس کے ساتھ دیکھ رہی ہوں کہ یہ نئی دیوانگی بننے والی ہے۔‘

بامبارا

یہ ایک پھلی ہے جو چکنائی اور مٹھاس میں مونگ پھلی سے کم ہے۔ بمبارا نے پائیدار غذاؤں کے ماہرین کی توجہ اپنی طرف مرکوز کر لی ہے کیونکہ یہ بنجر زمین میں اُگ جاتی ہے۔ اس کا پودا اس زمین میں نائٹروجن لا کر اسے ذرخیز کر دیتا ہے۔

یہ روایتی افریقی پھلی جنوبی تھائی لینڈ اور ملائشیا کے کچھ علاقوں میں بھی کاشت کی جاتی ہے۔ اسے اُبالا، روسٹ اور فرائی کیا جاتا ہے یا اسے پیس کر آٹے کی شکل دے دی جاتی ہے۔

مشرقی افریقہ میں بامبارا کو پکا کر سوپ میں استعمال کرنے کے لیے بنایا جاتا ہے۔ اسے مکمل غذا کہا جاتا ہے کیونکہ اس میں پروٹین کی کافی مقدار ہوتی ہے اور یہ میتھیونین امائنو ایسڈ کا اہم ذریعہ ہے۔ یہ خون کی نالیوں کی نشوونما اور زنک کو جذب کرنے کی صلاحیت کو بڑھاتی ہے جو جسم کی قوت مدافیت اور سیلینیم کے لیے ضروری ہے۔ وہ سیلینیم جو تھائیرائڈ کے کاموں کی نگرانی کرتا ہے جس کا قوت مدافعت پر اثر ہوتا ہے۔

پریا ٹیو کہتی ہیں کہ ’یہ ایسے افراد کے لیے جو مکمل طور پر سبزیوں والی غذا کھاتے ہیں، زبردست ہو سکتا ہے کیوںکہ یہ پروٹین کا مکمل ذریعہ ہے اور ایک پائیدار فصل ہے۔ جیسے موجودہ معاملات ہیں جو ہماری مستقبل کی غذا سامنا کر رہی ہے ہمیں مزید آسانی سے اگنے والی خوراک چاہیے جو اس طرح زیادہ صلاحیتیں رکھتی ہو۔

متعلقہ خبریں